Book Name:Musalman Kay Joothay Main Shifa

سُوال:نماز کى دعوت دىتا ہوں تو لوگ بہت سخت اَلفاظ بول دىتے ہىں جس کے سبب  دِل ٹوٹ جاتا ہے لہٰذا  اَب مىں دعوت دوں ىا نہىں؟

جواب:اب نماز کی دعوت  زىادہ دىں۔

ىوں تو سب انہىں کا ہے پر دِل کى اگر پوچھو

                            ىہ ٹوٹے ہوئے دِل ہى خاص ان کى کمائى ہے    (حدائقِ  بخشش)

 نماز کی دعوت دینے والے کو تو اُلٹا سىدھا جواب شاىد ہى کسى نے کبھی دىا ہو۔ ہو سکتا ہے کہ سمجھانے کا انداز ہی  اىسا ہو جس سے کسى کو غصہ آ گىا ہو ورنہ مسلمان نماز سے چڑے ىہ ممکن نہىں ہے۔ حکمت ِ عملى ، نرمى اور پىار سےنماز کی  دعوت دىتے رہىں اور دعوت دیتے ہوئے  ىہ نہ پوچھىں کہ نماز پڑھتے ہو ىا نہىں؟ کىونکہ یہ پوچھنا  اس کے خفىہ گناہ کو ٹٹولنا ہےاور اس صورت میں جس سے پوچھا جائے گا وہ  ىہ بول دے گا مىں نماز نہىں پڑھتا ، یوں ىہ بے چارہ پہلے نماز  نہ پڑھنے کے گناہ میں مبتلا تھا  اور اب اس گناہ کا اِظہار کرنے کے گناہ میں بھی پھنس جائے گا۔ یاد رہے !  بِلاضَرورت و مصلحت گناہ کو ظاہر کرنا بےباکی اور گناہ ہے ۔ ([1])  



[1]    مراٰۃ المناجیح، ۴ / ۶۹



Total Pages: 13

Go To