Book Name:Musalman Kay Joothay Main Shifa

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ط

مسلمان کے جوٹھے میں شِفا ([1])

شیطان لاکھ سُستی دِلائے یہ رِسالہ(۴۲ صَفحات) مکمل پڑھ لیجیے اِنْ  شَآءَ اللّٰہ  عَزَّ وَجَلَّ   معلومات کا اَنمول خزانہ  ہاتھ آئے  گا۔

دُرُود شریف کی فضیلت

فَرمانِ مصطفےٰصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ہے:جو مجھ پر اىک بار دُرُودِ پاک پڑھتا ہے اللّٰہ پاک اُس کے لىے اىک قىراط اَجر لکھتا ہے اور قىراط اُحُد پہاڑ جتنا ہے۔ ([2])    

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                                    صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد  

کھانے کے دَوران گفتگو کا موضوع

سُوال:کھانا سبھی  گھروں مىں پکایا اور کھاىا جاتا ہے۔ تىن ٹائم دَستر خوان لگتا ہے۔ باہر ہوٹل وغیرہ پر بھی جا کر لوگ کھانا کھاتے ہىں۔ ہمارے ىہاں عموماً کھانے کے دَوران گفتگو کے موضوع بڑے مختلف قسم کے ہوتے ہىں تو آپ راہ نُمائی فرما دیجیے کہ کھاتے وقت ہمارى گفتگو کا موضوع کىا ہونا چاہىے؟(نگرانِ شُوریٰ نے سرى لنکا کے شہر کولمبو میں اِجتماعى مَدَنى مذاکر ے میں شِرکت کی اور وہیں سے امیرِ اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی بارگاہ میں سُوال بھی کیا ۔ )

جواب:کھانے کے دَوران کوئی ایک موضوع تو متعین  نہىں کیا جا سکتا، بس ىہ ذہن میں رہے کہ جو گفتگو میں کرنے لگا ہوں ىہ مجھے جنَّت کى طرف بڑھائے گى ىا مَعَاذَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ جہنم کى طرف دھکىلے گى؟ کھانے کے عِلاوہ بھی ہر ایک کو اپنی گفتگو کا یہی مِعىار بنانا چاہیے ۔ کھانا کھاتے ہوئےگِھن والی باتىں نہىں کرنی چاہئیں مثلاً اگر کسی شخص کو بھوک نہ ہو اور اسے کھانے کے لیے بُلایا جائے تو اب وہ یہ نہ کہے کہ میں زىادہ کھاؤں گا تو اُلٹى ہو جائے گى کیونکہ کھانا کھانے والوں کے سامنے اُلٹى کا نام لینے سے انہیں گِھن آئے گی۔ موشن،قبض  اور گىس وغیرہ کے اَلفاظ بولنا بھى مجھے مناسب نہىں لگتا لیکن بعض لوگ بالکل بے تکلف ہو کر بولتے ہیں کہ”مجھے گىس بہت ہوتا ہے،مجھے موشن لگ گئے ہیں،بَواسیر کا مَرض ہو گیا ہے۔ “ایسی عىب دار بىمارىوں کا تذکرہ کرتے ہوئے جھجک محسوس کرنی چاہىے۔ بہرحال کھاتے وقت گِھن اور کراہیت والی باتیں نہ کی جائیں۔ ایسی باتوں سے خود کو روکنا اگرچہ دُشوار ہوتا ہے ،اس وقت صبر نہىں ہوتا لیکن رضائے الٰہى کے لىے صبر کریں گے اور اپنی زبان کو قابو میں رکھیں گے تو اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  اَجر ملے گا۔ کاش ”پہلے تولو بعد مىں بولو“ کا اُصول ہم اپنے اوپر نافذ کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔  

کھانے کو عیب نہ  لگائیے

سُوال: کھانے کو عیب لگانا کیسا ہے ؟([3])

جواب:کھانے کو عىب نہ لگاىا جائے  مثلاً تیکھا ہے،نمک زیادہ ہے،کچا  رہ گیا ہے وغیرہ وغیرہ۔ یہ عیب نہ زبان سے بیان کیے جائیں اور نہ ہی اِشارے میں مثلاً منہ ایسے نہ بگاڑا جائے جس سے  کھانے کا تیکھا ،پھیکا ہونا ظاہر ہو۔ پىارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کى عادتِ کرىمہ ىہى تھى کہ کھانا پسند آتا تو تناول فرما لىتے ورنہ ہاتھ روک لىتے۔ ([4]) لہٰذا ہمیں بھی کھانے کو عیب لگانے سے بچنا چاہیے۔ البتہ اگر عیب بیان کرنا ضَرورت کے سبب ہو مثلاً جس نے پکاىا اسے سمجھانا ىا کہلوانا مقصود ہے تاکہ وہ آئندہ خیال رکھے تو اس نىت سے عیب بتانے میں حَرج نہیں۔

اناج ضائع ہونے سے بچائیے

سُوال:دُنیا مىں اِس وقت اىک بہت بڑا مسئلہ اناج ضائع کرنے کا ہے۔ اناج کو ضائع ہونے سے بچانے میں ہمىں کىا کِردار ادا کرنا چاہىے؟اِس بارے میں کچھ مَدَنى پھول عطا فرما دیجیے۔ (نگرانِ شُورىٰ کا کولمبو، سری لنکا سے سُوال)

جواب:اناج کو ضائع کرنا ایکInternational Problem (یعنی بین الاقوامی سطح  کا مسئلہ)ہے۔ غرىب ممالک مىں بھى اناج کو ضائع کرنے کا  رُجحان پایا جاتا ہے لیکن امیر ممالک کے مقابلے میں کم۔ اگر غرىب بھی اسے ضائع ہونے سے بچاتا ہے تو اس کے پیشِ نظر  بھی عموماً شرىعت کا حکم نہیں ہوتا بلکہ پىسے کا نقصان نظر آ رہا



[1]    یہ رِسالہ ۲۳ رَبیع الاوّل ۱۴۴۰؁ ھ بمطابق یکم دَسمبر2018 کو عالمی مَدَنی مَرکز فیضانِ مدینہ بابُ المدینہ (کراچی) میں ہونے والے مَدَنی مذاکرے کا تحریری گلدستہ ہے ، جسے اَلْمَدِیْنَۃُ الْعِلْمِیَّۃ کے شعبے  ’’ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ‘‘نے مُرتَّب کیا ہے ۔    (شعبہ فیضانِ  مَدَنی مذاکرہ)         

[2]    مصنف عبد الرزاق، کتاب الطھارة، باب ما یذهب الوضوء من الخطایا، ۱ / ۳۹، حدیث : ۱۵۳  دار الكتب العلمية بيروت

[3]    یہ سُوال شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ کی طرف سے قائم کیا گیا ہے جبکہ جواب امیر اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا عطا فرمودہ  ہی  ہے ۔  (شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ)

[4]    بخاری، کتاب الاطعمة، باب ما عاب النبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم طعاماً، ۳ /  ۵۳۱، حدیث : ۵۴۰۹  دار الکتب العلمیة بیروت



Total Pages: 13

Go To