Book Name:Intiqal Par Sabar Ka Tariqa

شخصیات تک کوئی چیز پہنچانے کے مَدَنی پھول

بعض اوقات اِسی وجہ سے بابُ المدینہ(کراچی) سے آنے والی چیزیں بھی بَرسوں بعد مجھ تک پہنچتی ہیں ۔ کسی بھی شخصیت تک کوئی چیز پہنچانی ہو تو یہ مَدَنی پھول یاد رَکھیے کہ وہ چیز اس تک کسی دوسری شخصیت یا پھر اس شخصیت کی آل کے ذَریعے نہ بھیجی جائے کہ اِس طرح اُس چیز کا پہنچنا مشکل ہو گا ۔  مثلاً اگر کوئی مجھے کہے کہ آپ کے گھر کے اوپر نگرانِ شُوریٰ رہتے ہیں آپ ان کو یہ پرچی دے دیجیے گا تو عین ممکن ہے وہ پَرچی ان تک نہ پہنچ سکے ۔ اگرچہ میری کوشش یہی ہوتی ہے کہ ایسی  چیز کو ایسی جگہ رکھوں جہاں سے مجھے دیکھ کر یاد آ جائے ، مگر  گھر میں چھوٹے بچے بھی ہوتے ہیں وہ اُٹھا کر کسی دوسری جگہ رکھ سکتے  ہیں یوں وہ چیز متعلقہ شخصیت تک پہنچنے میں کافی دیر لگ سکتی ہے ۔ لہٰذا کسی بھی شخصیت تک کوئی چیز پہنچانی ہو تو اس کی آل و اولاد کے ذَریعے نہ پہنچائی جائے ۔ ممکن ہے  لوگ یہ سوچ کر ان کے ذَریعے پہنچانے کی کوشش کرتے ہوں کہ یہ جلدی پہنچا دیں گے مگر وہ لینے والا بھی لوگوں سے پیغامات وُصُول کر کر کے عادی ہو چکا ہوتا ہے اور یہ اس کے روز کا کام بن جاتا ہے لہٰذا اب وہ یہ پیغام وغیرہ پہنچانے میں سُستی کرتا ہے ۔ جیسے ہم کسی مریض کو دیکھیں گے تو بہت زیادہ حیرانگی کا اِظہار کریں گے کہ ”بے چارے کی ٹانگ ٹوٹ گئی ہے ، خون بہہ رہا ہے ، بے چارے کا سر پھٹ چکا ہے “ عین ممکن ہے یہ دیکھنے کے بعد ہماری نیند ہی اُڑ جائے ۔ لیکن جو لوگ اِس طرح کے زخمیوں اور مریضوں کی Dressing (یعنی پٹی)کرتے ہیں یا اس کام کے Surgeonیا Doctor ہوتے ہیں وہ بالکل عادی ہو جاتے ہیں ۔  یہ میرا تجربہ ہے کہ  جو  شخص جس چیز کا عادی ہو جاتا ہے وہ چیز اس کے لیے کوئی خاص اَہمیت نہیں رکھتی ۔  

امیرِ اہلسنَّت کے بھائی کا حادثے میں اِنتقال

میرے بڑے بھائی(مَرحوم عبدُ الغنی) کیاللہ پاک بے حساب  مغفرت فرمائے ، جب  وہ زَم زَم نگر حیدر آباد میں ٹرین کے حادثے کا شکار ہوکر اِنتقال کرگئے تھے تو میں ایک سماجی کارکن کے ساتھ ایمبولینس(Ambulance)میں اپنے بھائی کی لاش لینے کے لیے زندگی میں پہلی بار زَم زَم نگر حیدر آباد پہنچا ۔  میں نے سخی سلطان شیخ حضرتِ سَیِّدُنا عبدُ الوہاب جیلانیرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کا نام سُنا تھا مگر کبھی ان کے مزار شریف پر حاضری نہیں ہوئی تھی  نہ اس وقت ایسے حالات تھے کہ زَم زَم نگر حیدر آباد  جاکر حاضری کا شَرف پاتا، تو سب سے پہلے ہم نے ان کے مَزار شریف پر حاضِری دی اور عرض کی کہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ   کا نام سُنا تھا، پہلی بار ان حالات میں آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کی بارگاہ میں حاضری کا شَرف مِلا ہے ۔ اِس کے عِلاوہ بھی میں نے کچھ عرض کی جو اَب مجھے یاد نہیں ۔  پھر ہم پولیس کے پاس تھانے پہنچے اگرچہ اس وقت مجھے بطورِالیاس قادری کوئی بھی نہیں جانتا تھا اس کے باوجود پولیس والوں نے ہمارے ساتھ بہت تعاون کیا ۔  ہمیں اچھے طریقے سے بٹھایا ۔  میرے بھائی کی جیب سے جو رَقم نکلی تھی وہ اور ان کی گھڑی وغیرہ مجھے دی ۔  اس سے میرا ذہن بنا کہ پولیس میں اچھے لوگ بھی ہوتے ہیں ۔  بہرحال پولیس والوں نے کہا کہ آپ لوگ پہلے ہی صَدمے سے چُور ہیں ہم مَزید آپ کو  پریشان نہیں کرنا چاہتے ، پھر انہوں نے فوراً اپنی کاروائی مکمل کر لی تو ہم ہسپتال پہنچے شاید ہمارے ساتھ کوئی پولیس والا بھی تھا اس کے بغیر ہسپتال والے لاش نہیں دیتے تاکہ کوئی اور لاش نہ لے جائے ۔ ہم نے ہسپتال سے بھائی کی لاش لی اور اسی رات گھر پہنچ آئے ۔ ورنہ ہمارا خیال تھا کہ رات وہیں گزرے گی کیونکہ ہم لوگ عصر یا مغرب کی نماز پڑھ کر نکلے تھے اِسی وجہ سے میرے ساتھ آنے والے سماجی کارکن نے اپنے ساتھ چادر وغیرہ بھی رکھ لی تھی ۔  جب لاش ملی تو گھر لے جانے جیسی نہیں تھی کیونکہ وہ بالکل کٹ چکی تھی تو ہم نے کسی سماجی اِدارے میں غسل کی تَرکیب بنائی ۔  جب لاش کو کھولا گیاتو مجھ سے اپنے بھائی کی یہ حالت  دیکھی نہیں گئی کہ ٹانگ الگ کٹی ہوئی ہے (گردن کی طرف اِشارہ کرکے فرمایا)ادھر پہیا چڑھ جانے کی وجہ سے وہ حصہ کٹ چکا ہے  ۔ وہاں کسی سماجی کارکن کا بچہ بھی تھا جو بہت اُچھل کود کر رہا تھا اس نے اپنے والد کو کہا کہ”ابو! وہ دیکھو گردن کٹی ہوئی ہے ، فُلاں چیز یوں کٹ گئی ہے  ۔ “اس کا یہ انداز دیکھ کر میرا ذہن بنا کہ یہ لوگ رات دن  اِس طرح کے حالات دیکھتے ہوں گے جیسے ہم مُرغیاں اور بکرے وغیرہ  کٹے ہوئے دیکھتے ہیں اور  ہمیں کچھ نہیں ہوتا اِسی طرح یہ بچہ بھی روزانہ ایسی چیزیں دیکھ کر عادی ہو چکا ہو گا ۔  

خود کو ہلاکت پر پیش کرنے کی شَرعاً اِجازت نہیں

اِسی طرح قبرستان میں جو گورکن وغیرہ ہوتے ہیں یہ لوگ قبروں کے  پاس  لیٹ جاتے ہیں، ساری ساری رات وہیں گھومتے ہیں، بعض اوقات جوا وغیرہ بھی کھیل رہے ہوتے ہیں، ان کو قبرستان میں ڈر نہیں لگتا ۔ لیکن ہمیں اگر کوئی کہے کہ ایک رات قبرستان میں گزارو صبح زندہ آئے تو ایک لاکھ روپے وصول کر لینا، ہم لوگ پھر بھی تیار نہیں ہوں گے بلکہ رات تو بہت بڑی بات ہے ہم پانچ مِنَٹ کے لیے بھی اندھیرے قبرستان میں رُکنے کے لیے  تیار نہیں ہوں گے ۔ حالانکہ قبرستان میں مُردے قبروں میں ہوتے ہیں لیکن ہم نفسیاتی طور پر ڈرنا شروع ہو جاتے ہیں ۔ یاد رَکھیے ! ایسی بہادری ہرگز نہیں دِکھانی چاہیے جس میں اِنسان  کے



Total Pages: 14

Go To