Book Name:Intiqal Par Sabar Ka Tariqa

سُوال  : کىا کفریہ  خىالات آنے سے بھى کفر ہو جاتا ہے ؟

جواب : اگر کوئى کفریہ خىال آتا ہے اور بندہ اُسے  ٹالتا ہے تو یہ کفر نہیں ہو گا ۔ ([1]) خیالات اور  وسوسے   تو سب کو آتے ہىں ۔ اللہپاک  ہم سب کو بُرے وسوسوں سے محفوظ رکھے کہ وہ  تکلىف دہ ہوتے ہىں ۔ ([2])  

بھتىجى سے نکاح کا شَرعی حکم

سُوال  : کىا بھتىجى سے نکاح جائز ہے ؟

جواب : بھتىجى سے نکاح جائز نہىں  ۔ ([3]

شادی سے منع کرنے والے  کے بارے میں  شَرعی حکم

سُوال  : شادی سے منع کرنے والے کے بارے مىں شَرعى حکم کىا ہے ؟  

جواب : ہر اىک پر  شادی کرنا  فرض ىا واجب نہىں ہے بلکہ بعضوں کے لىے تو شادی نہ کرنا واجب ہوتا ہے کہ اگر  کریں گے تو گناہ گار ہوں گے کیونکہ اُن  کى اَندرونى کىفىت بعض اوقات اىسی ہوتی ہے کہ وہ شادى کے قابِل نہىں ہوتے ۔  بہرحال کسى سے یہ   نہیں پوچھنا  چاہیے  کہ تم شادى کىوں نہىں کر  رہے ؟ کیونکہ  اس طرح کرنے سے  اس کا  خُفىہ عىب ظاہر ہو سکتا ہے ، نیز  ممکن ہے وہ  اس وجہ سے منع کر رہا ہو کہ  اس  سے  حقوق پورے اَدا نہ ہو سکتے ہوں اور وہ شادى اور گناہوں بھرى کىفىت کے بغیر بھی رہ سکتا ہو ۔ کسی کی اندرونی کیفیات معلوم کرنے کے لىے ایسے سُوالات  نہىں کرنے چاہئیں مگر یہاں  اس  قرآنی آیت :  )لَا تَجَسَّسُوْا ((پ۲۶، الحجرات : ۱۲) ترجمۂ کنز الایمان : ”اور عیب نہ ڈھونڈو ۔ “کو نہیں پڑھا جائے گا کیونکہ اِس آیتِ مُبارَکہ میں گناہ کی ٹوہ میں پڑنے سے منع کیا گیا ہے جبکہ کسى کا شادى کے لائق نہ ہونا گناہ نہىں ہے ۔ بہرحال اگر کوئی شادی کرنے سے منع کرے تو اُسے  گناہ گار نہىں کہا جائے گا جب تک کہ وہ وجہ سامنے نہ آ جائے کہ جس کے سبب وہ منع کرتا ہے ۔   

واقعۂ مِعراج عظیم ترین معجزہ ہے

سُوال :  ہم نے رَبىعُ الاوَّل شرىف مىں پىارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  کے کئى معجزات سُنے ، آپ سے عرض ہے کہ کیا  واقعۂ  مِعراج بھى آقا عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کا معجزہ ہے ؟

جواب : جی ہاں! واقعۂ مِعراج  بھی ىقىناً پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عظىم ترىن معجزہ ہے اور اس میں  کوئى شک نہىں ہے  بلکہ واقعہ مِعراج  کئى معجزات کا مجموعہ ہے کہ اس سفر کے دَوران کئی معجزات پیش آئے ۔   

دُرُودِ پاک کی جگہ ”ص“یا”صلعم“لکھنا کیسا؟

سُوال : جَشنِ وِلادت کے موقع پر بہت سے لوگ ایسے جھنڈے بھی لیے ہوتے ہیں جن پر پورا دُرُود شریف نہیں لکھا ہوتا اس کی جگہ”ص“یا ”صلعم“ لکھ دیا جاتا ہے اس کے بارے میں کچھ اِرشاد فرما دیجیے ۔

جواب : دُرُود شریف لکھنے کے بجائے اس کی  Short Form(یعنی مخفف) مثلاً ”ص “یا”صلعم“ لکھنے کو بہارِ شریعت میں سخت حرام لکھا ہے  ۔ ([4])آج کل اَخبارات، رَسائل، ماہناموں اور دِیگر تحریروں میں دُرُود شریف کی جگہ”ص“ لکھا ہوتا ہے یہ لکھنے والوں کو چاہیے کہ اتنا دُرُود شریف” صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم “ضَرور لکھیں ۔  Letter( یعنی خط)وغیرہ جو ہاتھ سے لکھا جاتا ہے اس میں جب دُرُود شریف خوبصورت کر کے لکھتے ہیں تو اتنا باریک کر دیتے ہیں کہ پڑھنے میں ہی نہیں آتا، وہ خط پڑھنے والا اندازے سے سمجھتا ہے کہ یہ دُرُود شریف لکھا گیا ہے ۔ بس کاغذ کا چھوٹاسا ٹکڑا بلکہ ایک سطر کا کونا بچانے کے لیے صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کو



   1فتاویٰ ھندیة، کتاب السیر، الباب التاسع فی احکام المرتدین، ۲ / ۲۸۳ ماخوذاً  دار الفکر بیروت

   2کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب صفحہ 423 پر ہے : ذِہن میں کُفْرِیَّہ خیالات کا آنااور انہيں بيان کرنے کو بُرا سمجھنا عَین اِیمان کی عَلامَت ہے کیونکہ کُفرِیّہ وساوِس شَیْطان کی طرف سے ہوتے ہیں اور وہ لَعِیْن مَردُود چاہتا ہے کہ مسلمان سے اِیمان کی دولت چھین لے ۔ حضرتِ سیِّدُنا ابوہُریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روايت ہے ، نبیِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی خدمتِ سراپا عظمت میں بعض صَحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے حاضِر ہو کر عرض کی : ہمیں ایسے خَیالات آتے ہیں کہ جنہیں بَیان کرنا ہم بَہُت بُرا سمجھتے ہیں ۔  سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا : کیا واقِعی ایسا ہوتا ہے ؟اُنہوں نے عَرض کی :  جی ہاں ۔ اِرشاد فرمايا : يہ توخالِص ايمان کی نشانی ہے  ۔ (مُسلِم، کتاب الایمان، باب  بیان  الوسوسة  فی الایمان…الخ، ص۷۴، حدیث : ۳۴۰) صَدرُ الشَّریعَہ، بَدرُ الطَّريقہ، حضرتِ علّامہ مَولانا مفتی محمد امجد علی اَعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں :  کُفری بات کا دِل میں خیال پیدا ہوا اور زَبان سے بولنا بُرا جانتا ہے تو یہ کُفر نہیں بلکہ خاص اِیمان کی عَلامَت ہے کہ دِل میں اِیمان نہ ہوتا تو اسے بُراکیوں جانتا ۔   (بہارِشریعت، ۲ / ۴۵۶، حصّہ : ۹ مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی)

    3ترمذی، کتاب النکاح، باب  ما جاء  لا  تنکح المراة  علی عمتھا…الخ، ۲ / ۳۶۷، حدیث : ۱۱۲۹ 

1    بہارِ شریعت، ۱ / ۵۳۴، حصہ : ۳



Total Pages: 14

Go To