Book Name:Intiqal Par Sabar Ka Tariqa

سُوال : کیابچے کی وِلادت کے 40 دِن کے اَندر اَندر اُسے کسی پیر صاحب سے بیعت کروا دینا چاہیے ؟

جواب  : بیعت کروانے کے لیے بچے کی 40 دِن کى عمر کا اِنتظار نہ کىا جائے ۔  بچے کی  جب تک  پىدائش  نہیں ہوتی تب تک اس کی  بىعت نہىں ہو سکتی اور جب وہ دُنىا مىں آ جائے تو اب چاہے اس کی عمر ایک  گھنٹے کى ہو یا  اىک مِنَٹ کی اُسے  اس کے والد ىا جو بھی اس کا وَلی ہو اس کى اِجازت سے بىعت کروایا  جا سکتا ہے  ۔ ([1]) بچوں کو بیعت کروادىنا چاہىے تاکہ اُسے کسی سلسلے کا فیض جا ری ہو جائے اور  اس کے دُنیا میں کم سے کم سانس غوثِ پاک عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الرَّزَّاق کے سلسلے  ىا کسى بھى جامع شرائط پیر  کے سلسلے مىں داخِل ہوئے بغىر گزرىں ۔ کئی اسلامی بھائی ایسے  جذبے والے بھی  ہوتے ہىں کہ جو  آ کر یہ کہتے ہیں کہ  گھر میں بچے  کی اُمّىد ہے آپ بىعت کر لیجیے حالانکہ ایسی صورت میں  بیعت  نہىں ہوتی ۔  غوثِ پاک عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الرَّزَّاق نے قىامت تک کے لىے فرما دىا کہ جو مىرا عقىدت مند ہے وہ بھى مىرا مُرىد ہے  ۔ ([2]) ہم لوگ خاک ہىں اور وہ غوثِ پاک ہىں ۔  کاش!ہم غوثِ پاک عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الرَّزَّاق کے قدموں کى خاک ہوتے مگر ہم  اس قابل بھى کہا!

اگر قسمت سے مىں ان کى گلى میں خاک ہو جاتا

                    غمِ کونىن کا سارا بکھىڑا پاک ہو جاتا            (ذوقِ نعت)

آجکل  کون سی بیعت ہوتی ہے ؟

سُوال : ہم جو بیعت کرتے ہیں یہ بیعتِ اِصلاح ہے یا بیعتِ تَصَوُّف؟

جواب : بیعتِ اِصلاح ىا بىعتِ تَصَوُّف کی اِصطلاحات تو  مىں نے نہىں سُنیں البتہ  فتاوىٰ رَضوىہ شریف مىں بیعتِ اِىصال اور بىعتِ اِتصال  کا لکھا ہوا ہے ۔ ([3])اب جتنى بیعتیں ہو رہى ہىں یہ  بىعتِ اِتصال ہىں کہ مُریدین کو سلسلے سے  جوڑ دىا جاتا ہے ۔ اِىصال کا مطلب ہوتا ہے پہنچانا وہ تو غوثِ پاک عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الرَّزَّاق کا کام ہے کہ وہ ہم سب کو  آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے قدموں مىں پہنچا دىں گے ۔  

ہے خَلِیْلُ اللہ کو حاجت رَسُوْلُ اللہ کى

سُوال : اِس شعر کى تشرىح بیان فرما دىجیے ۔  

وہ جہنم مىں گىا جو ان سے مستغنى ہوا

                        ہے خَلِیْلُ اللہ کو حاجت رَسُوْلُ اللہ کى   (حدائقِ بخشش)

جواب : اِس شعر کا مَطلب یہ ہے کہ جو شخص  پىارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  کى ضَرورت محسوس نہىں کرتا اور کہتا ہے کہ مَعَاذَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ مجھے سرکار عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کی ضَرورت نہیں ہے تو وہ جہنم مىں جائے گا کىونکہ حضرتِ سَیِّدُنا  اِبراہىم خَلِىلُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو بھى پىارے آقا ، مکى مَدَنى مصطفے ٰ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کى ضَرورت ہے  ۔ ([4])مىرے آقا اِمامُ الانبىا یعنی نبىوں کے بھى نبى ہىں ۔  

مِرى آنے والى نسلىں، ترے عشق ہى مىں مچلىں

                     انہىں نىک تو بنانا مَدَنى مدىنے والے   (وسائلِ بخشش)

جنَّت میں رات ہو گی یا دِن ؟

سُوال :  جنَّت مىں رات ہو گى ىا دِن؟

جواب : جنَّت مىں رات نہىں ہو گی، اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  اُجالا ہى اُجالا، نُور ہى نُور اور  روشنى ہى روشنى ہو گی ۔  صبح کے وقت جو روشنى ہوتى ہے جنَّت میں وہی ہو گی ۔  ([5])وہاں دھوپ کى تَمازَت (یعنی شِدَّت کی گرمی) ہو گى نہ گرمىاں  نہ سردىاں، کوئى تکلىف دہ  معاملہ ہی نہیں  ہو گا صرف لُطف ہى لُطف اور  مَزہ ہى مَزہ  ہو گا اور اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے جَلوے  ہى جَلوے ہوں گے ۔

کفریہ خیالات آنے سے کفر نہیں ہو جاتا

 



   1 ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت، ص۲۳۵ مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی

     2بھجة الاسرار، ذکر فصل اصحابه وبشراھم، ص۱۹۳ دار الکتب العلمية بيروت

     3فتاویٰ رضویہ، ۲۱ / ۵۰۵ ۔ ۵۰۷ ملتقطاً

[4]    جیسا کہ پیارے آقا، مکی مَدَنی مصطفے ٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے قیامت کے دِن کے بارے میں اِرشاد فرمایا :  وَاَخَّرْتُ الثَّالِثَةَ لِيَوْمٍ يَرْغَبُ اِلَیَّ الْخَلْقُ كُلُّهُمْ حَتّٰى اِبْرَاهِيْمُ  اور میں نے (اپنی) تیسری  دُعا اس دِن کے لیے مخصوص کر دی ہے جس دِن ساری مخلوق میری طرف متوجہ ہو گی یہاں تک کہ اِبراہیم (عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام)بھی ۔  (مسلم، کتاب صلاة المسافرین وقصرھا، باب بیان ان القرآن علی سبعة أحرف و بیان معناہ ، ص۳۱۸، حدیث : ۱۹۰۴)        

[5]    روح البیان ، پ۱۶، المریم، تحت الآية : ۵، ۶۲ / ۳۴۵  ماخوذاً  دار احیاء التراث العربی بیروت



Total Pages: 14

Go To