Book Name:Intiqal Par Sabar Ka Tariqa

لىجئے اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  جو کچھ پڑھىں گے ىاد رہے گا، دُعا ىہ ہے : اَللّٰہُمَّ افْتَحْ عَلَیْنَا حِکْمَتَکَ وَانْشُرْ عَلَیْنَا رَحْمَتَکَ  يَا ذَاالْجَلَالِ وَالْاِکْرَام  ۔ ([1]) اِس دُعا کے اَوَّل آخر دُرُودِ پاک پڑھ لیجیے  ۔ یہ دُعا پڑھ کر  جو کتاب پڑھیں گے اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ وہ بھولیں گے نہیں ۔ مکتبۃ المدینہ کی کتابوں کے شروع میں جہاں یہ دُعا لکھی ہوتی ہے وہاں دُعا سے پہلے اِس طرح  لکھا ہوتا ہے کہ ”دِینی کتاب یا اسلامی سبق پڑھنے سے پہلے ذیل میں دی گئی دُعا پڑھ لیجیے “اسے پڑھ کر میری توجہ اِس طرف گئی کہ شاید لوگ اب  یہ الفاظ ”ذیل میں دی ہوئی “نہیں سمجھتے ہوں گے لہٰذا”مندرجہ بالا اور دَرجہ ذیل “جیسے اَلفاظ نہ لکھے جائیں ۔  میں عوام کی حالت دیکھ کر  آسان اَلفاظ اِستعمال کرنے کی کوشش  کرتا ہوں، اگر اسلامی بھائی  ہنسىں نہىں تو بتاؤں کہ عوام کی حالت کیسی ہے ؟ کیونکہ مَدَنی مذاکرے میں شریک اسلامی بھائی مسجد میں بیٹھے ہیں اس لیے ہنسنے پر پابندی ہے کہ مسجد میں ہنسنا قبر میں اَندھیرا لاتا ہے  ۔ ([2]) البتہ مسکرانے میں حَرج نہیں ۔  ہوا کچھ یوں کہ ہم ایک جگہ جَشنِ وِلادت کے سلسلے میں کی گئی چراغاں دىکھنے گئے تو رَش ہو گىا، وہاں میں نے اپنے کانوں سے سُنا کہ ایک شخص نے ”باپا کی آمد“اور”باپا کی وِلادت“کے نعرے لگائے اور قوم  نے ”مَرحَبا“ کہہ کر جواب دیا، اب ایسی قوم کو ذىل اور مذکورہ کے اَلفاظ کىا پَلے پڑیں گے جس کو ىہ ہى نہىں معلوم کہ”وِلادت“ کا کىا معنیٰ ہے ؟اور باپا کی وِلادت کا جشن ہے  یا آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی وِلادت کا ؟    

مُقَرِّرِین مسجد میں چٹکلا سُناتے ہوئے پہلے سمجھا دیں

جس طرح  مىں نے یہ بات کرنے سے پہلے سمجھایا ہے  کہ مسجد میں ہنسنا نہیں  اِسی طرح مُقَرِّرِین کو بھى چاہىے کہ جب کبھی وہ   کوئى تفنن کی  بات کرىں خاص طور پر مسجد میں تو لوگوں کو سمجھا دىں کہ وہ  ہنسیں نہیں ۔  اگر میں یہ واقعہ سنانے سے پہلے  نہ سمجھاتا تو شاید اسلامی بھائی ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو جاتے  ۔

دَورانِ بیان آسان اَلفاظ اِستعمال کیجیے

سُوال : مُقَرِّرِین اور مبلغین کو  دَورانِ بیان اور کیا اِحتیاط کرنی چاہیے ؟

جواب : مُقَرِّرِین اور مبلغىن کو چاہىے کہ جہاں تک ممکن ہو آسان اَلفاظ مىں بىانات کرىں تاکہ لوگوں کو کچھ  سمجھ  پڑے ، ورنہ ىہ بے چارے سُن تو لىتے ہوں گے  مگر انہیں سمجھ کچھ  نہیں آتا ہو گا ۔ میری آسان سے آسان اَلفاظ میں لوگوں کو سمجھانے کی کوشش ہوتی ہے  ۔ ہو سکتا ہے پھر بھی  مىرى کئى باتىں لوگوں کو سمجھ  نہ آتى ہوں کیونکہ بعض اوقات مجھے  مشکل لفظ کے  بدلے کوئی آسان لفظ نہیں  ملتا تو یہ بھی ایک آزمائش ہوتی ہے  ۔ ”فِقہ“کی اِصطلاحات کو میں  کیسے آسان کروں؟یہ بھی لوگوں کو سمجھ نہیں آتی  ہوں گی کیونکہ ” فِقہ“کی اِصطلاحات خود  Difficult(یعنی مشکل) ہوتی ہیں انہیں آسان کرنا بھى آسان کام نہىں ہے بلکہ ہو سکتا ہے کہ ہم انہیں  آسان کرنے بىٹھىں تو ان کے معنیٰ ہی بدل جائىں ۔ اِس کا  اَصل حل یہی ہے کہ عِلم حاصِل کیا جائے  ۔ یاد رَکھیے !عِلم ہمارے پىچھے نہیں چلے گا بلکہ ہمیں عِلم کى خدمت مىں حاضرىاں دىنى ہىں اور  ہاتھ باندھ کر اس کے  پىچھے جانا ہے ۔

دِینی مَسائل سیکھنے کی نیت سے اُردو بہتر کرنا کیسا؟

سُوال : جہاں دِىگر مَقاصد کے لىے مختلف  زبانىں سىکھى جاتى ہىں مثلاً  بىرونِ ملک  جانے کے لیے  لوگ  انگرىزى کا کورس کرتے ہىں تاکہ وہاں جا کر  بولنے اور سمجھنے مىں آسانى رہے  ۔ اِسی طرح  اگر اس نىت سے اپنى اُردو بہتر کی جائے کہ ہمىں دِىنى مَسائل پر مشتمل کتابىں سمجھ آنا شروع ہو جائىں  تو ىہ نىت کىسی ہے ؟

جواب : اگر اس نىت سے اپنى اُردو بہتر کی جائے کہ ہمىں دِىنى مَسائل پر مشتمل کتابىں سمجھ آنا شروع ہو جائىں  تو اس پر  صِرف ثواب نہیں بلکہ زبر دست ثواب ملے گا ۔  دعوتِ اسلامی کے مَدَنی کام کو شروع ہوئے کچھ ہی سال ہوئے تھے ، جب ہم مَدَنی  قافلوں  مىں سفر کرتے تھے تو مجھے ایک اسلامی بھائی ملے جو کسی کے مُرید نہیں تھے اور انہیں یہ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کس کے مُرید بنیں؟ انہوں نے مجھے بتایا کہ میں نے خاص عربی اس لیے سیکھی تاکہ میں تَصَوُّف سمجھ سکوں اور حضرتِ سَیِّدُنا امام محمد بن محمد بن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  اللّٰہِ  الْوَالِی کی کتابیں پڑھ کر یہ سمجھوں کہ میں کس کا مُرید بنوں؟یاد رہے ! اس وقت اُردو تَراجم کا اتنا دور دورہ نہیں تھا تو یوں اس اسلامی بھائی نے پىر کى تلاش کے لىے عربى سىکھی اور حضرتِ سَیِّدُنا امام محمد بن محمد بن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  اللّٰہِ  الْوَالِی کى کتابىں پڑھىں ۔  بہرحال وہ کسی پیر سے مُرید ہو گئے تھے اب بے چاروں کو اِنتقال کیے ہوئے  کافی عرصہ ہو گیا ہے ۔ (اس موقع پرامیرِ اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے قریب بیٹھے ہوئے ایک مَدَنی اسلامی بھائی نے بیان فرمایا کہ وہ اسلامی بھائی جن پیر صاحب کے مُرید ہوئے تھے وہ پیر صاحب شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنَّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرتِ علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ ہی ہیں ۔ )

بیعت کے لیے بچے کی عمر 40 دِن ہونا ضَروری نہیں

 



   مُسْتَطْرَف، الباب الرابع فی العلم والادب و فضل العالم والمتعلم، ۱ / ۴۰ دار الفکر بیروت

    2جامع صغیر، حرف الضاد، فصل فی المحلی بأل من ھذا الحرف، ص۳۲۲، حدیث : ۵۲۳۱ دار الکتب العلمیة بیروت



Total Pages: 14

Go To