Book Name:Intiqal Par Sabar Ka Tariqa

ہوگا، حج کىا تھا تو وہ بھى گىا لہٰذا اِستطاعت ہونے کی صورت میں دوبارہ حج کرنا ہوگا ۔  باقی سارى نىکىاں بھی کفر کے سبب بَرباد ہو جاتى ہىں ۔  اگر زمانۂ اِسلام کی قضا نمازىں باقى تھیں تو وہ اىمان لانے کے بعد ادا کرنا ہوں گی ۔  البتہ جتنے دِن کفر مىں رہا ان دِنوں کى نمازىں تو پڑھىں یا نہ پڑھىں ان کو دہرانے کى حاجت نہىں ہے  کیونکہ اس پر کفر کی حالت میں نماز فرض ہی نہىں تھى ۔

موت تو ہر حال میں آنی ہی آنی ہے

غمی کے موقع پر خود  قفلِ مدىنہ لگانا چاہیے  ۔ اگر لوگ اُلٹى سىدھى باتىں کرىں تو انہیں بھی سمجھا دیجیے کہ بس اللہ پاک  کى مَرضى تھى تو موت آئی، روز ہی لوگ فوت ہو رہے ہىں ۔  15 سال کى عمر مىں جانے کے سبب صَدمہ تو ہے لیکن اگر 15 سال مىں کسى کو موت نہىں آئى تو 20 سال مىں آجائے گى ، 25 سال کى عمر مىں آجائے گى ، بالفرض اگر کوئی 100سال کى عمر پاگیا تب بھى موت تو آنی ہی آنی ہے  ۔

حضرتِ سَیِّدُنا مُوسىٰ کَلِیْمُ اللہ  عَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے پاس جب  ملکُ الموت عَلَیْہِ السَّلَام رُوح قبض کرنے کے لیے آئے تو انہوں نے کوئى عمل کىا جس پر ملکُ الموتعَلَیْہِ السَّلَام اللہ پاک کى بارگاہ مىں حاضِر ہوئے ۔ پھر موسىٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے کہا گىا کہ بىل(کی پُشت)پر  ہاتھ رکھو، جتنے بال تمہارے ہاتھ کے نىچے آئىں گے اتنے سال تمہارى عمر بڑھا دى جائے گى ۔  انہوں نے پوچھا :  اس کے بعد کىاہوگا؟ کہا گىا کہ موت ۔ اس پر آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا : اچھا ابھى ہی رُوح قبض کر  لو ۔  چنانچہ پھر ان کى رُوح قبض کى گئى ۔ ([1]) تو ىہ اللہ پاک  کے مقبول بندے تھے ، نبى اور  رسول تھے  بلکہ  اُولُوالْعَزْم یعنی پانچ رسولوں مىں سے اىک تھے  ۔ ([2]) صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان، اَولىائے عظامرَحِمَہُمُ اللّٰہُ  السَّلَام اور اہلِ بىتِ اَطہار رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کا اپنا  ایک مقام ہے لىکن یہ کسی  نبى کے مرتبہ پر نہىں پہنچ سکتے ، اتنی شانوں کے باوجود بھی  آخر اَنبیائے کِرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ  وَالسَّلَام  کے لىے بھى وفات ہے ۔  

نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے 950سال تبلیغ فرمائی

حضرتِ سَیِّدُنا نوحعَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے طوىل عمر پائى  ۔ ساڑھے نو سو (950)سال تو  انہوں نے تبلىغ کى ۔ جب ان کی وفات کا  وقت آىا تو ان سے پوچھا گىا کہ آپ نے دُنىا کو کىسے پاىا؟ فرماىا :  بس اىک دَروازے سے داخل ہوئے اور دوسرے دَروازے سے نکل گئے  ۔ ([3]) ہم بھى تو بولتے ہىں وقت جلدى پاس ہو رہا  ہے  ۔ کسى نے تو ىہاں تک کہا  :

صبح ہوتى ہے شام ہوتى ہے

عمر ىونہى تمام ہوتى ہے

آگاہ اپنى موت سے کوئى بشر نہىں

سامان سو برس کا ہے پل کى خبر نہىں

بہرحال موت سب کو آنی ہے لہٰذا اپنے عزیز کے اِنتقال پر صبر کرنا چاہیے ۔ گلہ شکوہ کرنے یا رونے دھونے سے مَرنے والا واپس پلٹ کر نہیں آ سکتا ۔  مىرے آقا اعلىٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّت نصىحت کرتے ہوئے فرماتے ہىں :

آنکھىں رو رو کے سجانے والے

                              جانے والے نہىں آنے والے   (حدائقِ  بخشش)

 

 



[1]    الکامل فی التاریخ، ذکر وفاة موسی، ۱ / ۱۵۱  ماخوذاً دار الكتب العلمية بيروت

[2]    بہارِ شریعت، ۱ / ۵۴، حصہ : ۱  ماخوذاً 

[3]    احیاء العلوم، کتاب ذم الدنیا، ۳ / ۲۵۲ دار صادر بیروت



Total Pages: 14

Go To