Book Name:Intiqal Par Sabar Ka Tariqa

سُوال : گھر میں جوان  موت ہو جائے تو بعض اوقات بے صبری میں زبان سے اىسے اَلفاظ نکل جاتے ہىں جو نہىں نکلنے چاہئیں، اِس کے متعلق کچھ اِرشاد فرما دیجیے  ۔ ([1])

جواب : گھر میں جوان یا کسی کی بھی موت ہوجائے تو صبر ہی کرنا چاہیے  ۔ اس موقع پر بعض اوقات زبان سے اىسے اَلفاظ نکل جاتے ہىں جو نہىں نکلنے چاہئیں ۔  بعض اوقات تو وہ جملے کفرىہ بھی ہوتے ہىں مثلاً بعض لوگ ىوں کہتے ہوں گے کہ اس کى مَرنے کى کوئى عمر تھى؟بعض    کہتے ہوں گے :  ىا اللہ! تجھے اس کى جوانى پر بھی تَرس نہىں آىا ؟نَعُوْذُبِاللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اگر کسی نے ىہ کہا تو کہنے والا کافر ہوگىا، اِسلام سے نکل گىا کىونکہ اس نے اللہ پاک کو بے رحم کہا ۔ یقیناً اللہ پاک بے رحم نہىں ہے ۔ اللہ پاک جو کرتا ہے وہ دُرُست کرتا ہے ، صحىح کرتا ہے ۔ کسی کا وقت جب پورا ہو جاتا ہے تو اس کا اِنتقال ہو جاتا ہے  ۔ ([2])

امامِ حسین صبر و اِستقامت کے پہاڑ

اولاد کے اِنتقال پر بے صبری کرنے والے والدین کو غور کرنا چاہیے کہ جب حضرتِ سیِّدُنا على اصغر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے مىدانِ کربلا مىں صِرف چھ ماہ کی عمر میں جامِ شہادت نوش  کیا تھا تو ان کے والدِ محترم، امام عالى مقام، امام حسىن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ اور ان کى اَمّى جانرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا نے صبر ہی کىا تھا ۔  ان سے تَصَوُّر بھى نہىں کیا جا سکتا  کہ کوئى اىسى مَعَاذَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  بے صبری والی بات زبان پر لائیں ۔  امام حسىن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے لختِ جگر اور شہزادے حضرتِ سیِّدُنا على اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے بھى مىدانِ کربلا مىں عین جوانی میں تىن دِن بھوکے پىاسے رہ کر جامِ شہادت نوش کیا ۔  بھانجے بھتىجے بھی شہىد ہوئے اور پھر خود آگے بڑھ  کر شہادت کو گلے لگایا لیکن ان تمام مَصائِب وآلام کے باوجود بھی اىک لفظ شکوے کا زبان پر نہ لائے بلکہ ان کے دِل و دماغ مىں بھى کہىں بے صبرى کا شائبہ تک نہىں آ سکتا کیونکہ امامِ حسین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ صحابى، ابنِ صحابى (حضرتِ علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے شہزادے )اور نبىٔ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے نواسے تھے  ۔ ([3])ىہ صبر نہىں کرىں گے تو کون صبر کرے گا؟اگر کوئی کہے کہ ہم ان جىسے نہىں ہو سکتے لہٰذا ہم کیسے صبر کریں؟تو ایسوں سے عرض ہے کہ بے شک ہم ان جیسے کبھى بھى نہىں ہو سکتے لىکن ا ن کے اس کِردار مىں ہمارے لیے دَرس تو ہے  لہٰذا  ہمىں ان کے نقشِ قدم پر تو چلنا ہى ہے اور ہر حال میں صبر ہی کرنا ہے کہ اسی کا ہمیں حکم ہے  ۔

اللہ پاک صبر والوں کے ساتھ ہے

قرآنِ کرىم میں صبر کرنے والوں کے لیے بشارت بھى ہے  ۔ چنانچہ اللہ پاک نے اِرشاد فرمایا : (اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳))(پ ۲، البقرة : ۱۵۳)ترجمهٔ كنز الايمان: ”بیشک اللّٰہ صابروں کے ساتھ ہے  ۔ “آج اگر کسى کے ساتھ علاقے کے تھانے کاSHO  چل رہا ہو تو اس کے پاؤں زمىن پر نہیں پڑىں گے کہ آج تھانے کا اىس اىچ او مىرے ساتھ ہے ۔ تو جس کا اللہ پاک حامى و مددگار  ہو تو اس کى شان کىا ہو گى؟اس لىے ہم کو صبر ہى کرنا چاہىے ۔

کفر کی تائید بھی کفر ہے

سُوال : اگر کسی  نے تعزیت کرتے وقت کفریہ جملہ بک دیا تو اب اس کی تائید کرنا کیسا؟ ([4])

جواب : کفریہ جملے کی تائید بھی کفر ہے  ۔ اگر غمی کے موقع پر بندہ  خود کفریہ جملہ نہىں بولتا تو بسااوقات تعزیت کرنے  والے بُلوا دیتے ہىں مثلاً کوئی تعزیت کرتے ہوئے کہے گا : اللہ تعالىٰ کو پتا نہىں اس کى کىا ضَرورت پىش آگئى تھی جو جوانی میں ہی اسے اُٹھا لىا؟اب سننے والا بھی ایسے جملے کہے گا؟واقعی کوئی ضَرورت پىش آگئى ہو گی ىا  فقط ہاں !ہاں ! کہہ کر ہی تائید کر دے گا تو ایسے جملے بولنا یا ان کی تائید کرنا دونوں ہی باتیں کفر ہیں کىونکہ اللہ تعالىٰ کو کسى کى حاجت و ضَرورت  نہىں، وہ کسى کا محتاج نہىں، ہم اس کے محتاج ہىں چنانچہ اِرشادِ رَبُّ العباد ہے :  (وَ اللّٰهُ الْغَنِیُّ وَ اَنْتُمُ الْفُقَرَآءُۚ-)(پ ۲۶، محمد : ۳۸)ترجمهٔ كنزالايمان : ”اور اللّٰہ بے نیاز ہے اور تم سب محتاج ۔ “تو ہم سب اس کے دَر کے محتاج ہىں لہٰذا اگر کسی نے اللہ پاک کو محتاج کہا  تو وہ کافر ہوگىا ۔

کفر بکنے سے نکاح اور اِیمان ختم ہوجاتا ہے

جس نے اِس طرح کا کفریہ جملہ بکا تو اس کا اِیمان اور نکاح دونوں ختم ہو گئے بلکہ جنہوں نے سمجھنے کے باوجود ہاں مىں ہاں مِلائی، اگرچہ منہ سے نہىں بولے فقط سر ہی ہلاىا اور دِل مىں اس بات کو دُرُست جانا تو ىہ بھى اِسلام سے نکل گىا اس کو بھى نئے سرے سے توبہ کرکے کلمہ پڑھنا ہو گا ۔ اگر شادی شُدہ تھا تو نکاح بھی دوبارہ کرنا



[1]   یہ سُوال شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ کی طرف سے قائم کیا گیا ہے جبکہ جواب امیرِ اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا عطا فرمودہ  ہی ہے ۔  (شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ)   

[2]   فوتگی کے موقع پر بولے جانے والے کفریہ کلمات کے بارے میں مزید معلومات کے لیے مکتبۃ المدینہ کی کتاب”کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب “کے صفحہ 489 تا 496 کا مطالعہ کیجیے ۔ (شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ) 

[3]    البدایة  والنهایة، فصل فی یوم مقتل الحسین رَضِیَ اللّٰه عَنْه، ۵ / ۷۱۱  دار الفکر بیروت 

[4]   یہ سُوال شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ کی طرف سے قائم کیا گیا ہے جبکہ جواب امیرِاہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا عطا فرمودہ  ہی ہے ۔ (شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ) 



Total Pages: 14

Go To