Book Name:Intiqal Par Sabar Ka Tariqa

سُوال : جس کو مدىنے جانے کى تڑپ نہ ہو اور نہ ہی اُس کا دِل  ہجر نبى صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم مىں غمگىن ہوتا ہو تو  وہ کىا کرے ؟(SMS کے ذَریعے سُوال)

جواب : جس کو سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے عشق مىں رونا نہ آتا ہو غم کى کىفىت پىدا نہ ہوتى ہو تو وہ بکوشش رونے جىسى شکل بنائے کہ اچھوں کى نقل بھى اچھى ہے مگر یہ رونا رِىاکارى کے لىے نہ ہو ۔  جو آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ہمارے غم مىں، غمِ اُمَّت مىں آنسو بہاتے رہے ، ہمىں ىاد فرماتے رہے ، جب دُنىا مىں تشرىف لائے پىدا ہوتے ہىرَبِّ ھَبْ لِیْ اُمَّتِی([1])(یعنی اے اللہ!مىرى اُمَّت مجھے بخش دے ، مجھے دے دے ، مجھے ہبہ کر دے  ۔ )جن کے لَبوں پر تھا ۔  اس آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے مِعراج مىں بھى اُمَّت کو ىاد کىا ۔ ([2]) جب قبرِ اَنور مىں تشرىف لے گئے تب بھى ہونٹ مُبارَک ہِل رہے تھے کان قرىب کر کے سُنا گىا تو اُمَّتِی اُمَّتِی(یعنى مىرى اُمَّت میری اُمَّت)فرما رہے تھے ۔ ([3]) آج بھى اُمَّتِی اُمَّتِی فرما رہے ہىں ۔ ([4])بعض اوقات بندے کے کان بجتے ہىں تو اس وقت دُرُود شرىف پڑھنا مستحب ہے  ۔ اعلىٰ حضرت  عَلَیْہِ رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّت نے لکھا ہے کہ ىہ سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے اُمَّتِی اُمَّتِی فرمانے کی آواز ہے ۔ ([5]) بسا اوقات ىہ آواز جس کو رَب چاہتا ہے اُس کو سُنائى دىتى ہے ، اس کى اىک علامت ىہ ہوتى ہے کہ اس کے کان بجتے ہىں لہٰذا اس وقت دُرُود شرىف پڑھا جائے ۔ جو آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ہمىں اتنا ىاد فرمائىں، مىزانِ عمل پر اپنے گناہ گار اُمَّتىوں کے نىکىوں کے پلڑے کو بھارى بنائىں اور  جب پُل صِراط سے غُلام گزرىں تواس وقت سجدے مىں جا کر رَبِّ سَلِّمْ اُمَّتِىْىعنى اے پَروردگار مىرى اُمَّت کو سلامتى سے گزار “کى دُعائیں دىں ۔ ([6])اور شَفاعت فرمائىں اب اىسے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کى محبت دِل مىں کیوں  نہ پیدا ہو گی  ۔ اِس طرح ان باتوں کو اور ان کے رونے کو ىاد کرىں اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ دِل مىں عشق کى کىفىات پىدا ہوں گى اور  رونے کى بھى کىفىت بن سکے گى، جىسا کہ مولانا حسن رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن  کا دِل پر چوٹ کرنے والا ىہ شعر ہے :

ہائے پھر خندۂ بیجا مِرے لَب پر آىا

               ہائے پھر بھول گىا راتوں کا رونا تىرا            (ذوقِ نعت)

خندۂ بے جامعنىٰ فضول ہنسى، لَب معنىٰ ہونٹ ىعنى مولانا حسن رضا خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن اپنے آپ کو مخاطَب کر کے فرما رہے ہىں : ”افسوس! میری فضول ہنسى نکل گئى، یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم آپ ہم اُمّتىوں کے لىے راتوں کو جو روتے رہے ہىں میں وہ بھول گىا ہوں، غفلت کا شکار ہو گىا کہ مىں فضول ہنس رہا ہوں ۔ “ ىہ بھى ىاد کرنے کا اىک اَنداز ہے  ۔ اِس کے عِلاوہ عاشقانِ رَسول کى صحبت میں بیٹھیں، مَدَنى اِنعامات پر عمل کریں اور عاشقانِ رَسول کے ساتھ مَدَنی قافلوں میں سفر فرمائىں اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ عشقِ رَسول مىں رونے والى خوبی  نصىب ہو ہى جائے گى ۔ اللّٰہ کرىم ہم سب  کو یہ خوبی  نصىب فرمائے ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم  

ىاد ِ نبىِ پاک مىں روئے جو عمر بھر

مولیٰ مجھے تلاش اُسى چشمِ تر کى ہے

ىعنى اے اللّٰہ!مجھے اىسى آنکھ چاہىے جو تىرے محبوب کى ىاد مىں بس روتى رہے ۔

اِجتماعِ مِيلاد كے چار شُرکا کی شہادت

سُوال : سُنا ہے کہ دعوتِ اسلامی کے تحت مدینۃُ الاولیا ملتان شریف میں ہونے والے بڑی رات کے اِجتماعِ مِیلاد میں شریک چار اسلامی بھائی کسی حادثے کے سبب جامِ شہادت نوش کر گئے ہیں؟([7])

جواب : جی ہاں!مدىنۃُ الاولىا ملتان شرىف (پنجاب، پاکستان )میں 1440 سنِ ہجرى کى بارھوىں شب دعوتِ اسلامی کے تحت اِجتماعِ مِىلاد کى تَرکىب تھى ۔ اِس اِجتماعِ میلاد میں مدینۃُ الاولیا ملتان شرىف کے علاقے سورج مىانى سے تعلق رکھنے والا ایک قافلہ بھی حاضر ہوا ۔  اسی قافلے میں اس علاقے کے پانچ اسلامى بھائى بھی تھے جن کا آپس مىں فرىنڈ سرکل ہو گا ۔ پانچوں مَدَنی ماحول سے وابستہ، مَدَنی کاموں میں حصّہ لینے والے اور غالباً عطاری بھی تھے ۔ بتایا گیا کہ ان مىں اىک حافظِ



[1]    فتاویٰ رضویہ، ٣٠ / ٧١٢ 

[2]    سرورالقلوب بذکر المحبوب، ص۹۵ شبیر برادرز مرکز الاولیا لاہور

[3]    مدارج النبوت، قسم چھارم، باب سوم، ۲ / ۴۴۲، مركز اهل سنت بركات رضا هند

[4]    کنز العمال ، کتاب القیامة ، الجزء : ۱۴ ، ۷ / ۱۷۸، حدیث : ۳۹۱۰۸  دارالكتب العلمية بيروت

[5]    فتاویٰ رضویہ، ۳۰ / ۷۱۲

[6]    ترمذی، کتاب  صفة القیامة، باب ما جاء فی شان الصراط، ۴ / ۱۹۵، حدیث : ۲۴۴۱ بتغیرِ قلیلٍ

[7]   یہ سُوال شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ کی طرف سے قائم کیا گیا ہے جبکہ جواب امیرِ اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا عطا فرمودہ  ہی ہے ۔  (شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ)



Total Pages: 14

Go To