Book Name:Intiqal Par Sabar Ka Tariqa

نفسیاتی مریض بن جانے کا خطرہ ہو کہ شرعاً بھی خود کو ہلاکت یا مصیبت پر پیش کرنے کی اِجازت نہیں ہو گی ۔ ([1])

خواہ مخواہ کی بہادری مہنگی پڑ گئی

لوگوں کو اپنے ہاتھوں خود کو خواہ مخواہ مصیبت میں ڈالنے سے بچانے کے لیے کسی نے یہ واقعہ بنایاہے کہ چند دوستوں کے دَرمیان یہ Competition (یعنی مقابلہ)ہوا کہ کو ن رات کو قبرستان میں اکیلے رُک کر فُلاں  دَرخت کے نیچے کیل گاڑٖے گا؟  یہ کیل گاڑنے کی شَرط شاید اِس وجہ سے لگائی گئی ہو گی تاکہ وہ آگے پیچھے نہ بھاگے اور اس کیل کے ذَریعے معلوم ہو جائے کہ اس نے واقعی  رات کو رُک کر کیل گاڑ دی ہے ۔ بہرحال ان میں سے ایک لڑکا تیار ہو گیا کہ میں رات کو اکیلا قبرستان میں رُک کر کیل گاڑ دوں  گا ۔  اس کے دوست کسی قبرستان میں اسے چھوڑ کر آگئے  ۔ صبح پہنچے تو ان کا دوست مَرا ہوا تھا ۔  جب دیکھا گیا تو وہ کیل اس کے دامن میں گڑی ہوئی ہے ۔ تفتیش کے بعد معلوم ہوا کہ اس نے کیل تو گاڑی مگر غَلَطی سے وہ کیل اس کے دامن میں گڑ گئی اور اس کو  پتا نہیں چلا ۔  جب یہ کیل گاڑ کر اُٹھا تو اس کا دامن اٹک گیا مگر یہ سمجھا کہ  مجھے کسی جن نے پکڑ لیا ہے وہ بے چارہ اِسی خوف سے مَرگیا ۔ لہٰذا اِس طرح کی بہادری دِکھانے سے منع کیا گیا ہے کہ ایسے مقامات پر اِس طرح کا اِتفاق ہونا بھی ممکن ہے جس کے نتیجے میں اِنسان اپنی جان سے ہی ہاتھ دھو بیٹھتا ہے ۔

اَنبیائے کِرامعَلَیْہِمُ السَّلَام نے اپنی ذِمَّہ داری پوری فرمادی

سُوال : اَنبیائے کِرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کو بھیجنے کا مقصد اللہ پاک کے اَحکام پہنچانا تھا کیا انہوں نے اپنی ذِمَّہ داری صحیح طور پر پوری فرمادی؟

جواب : جی ہاں!اَنبیائے کِرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اللہ پاک کے اَحکام پہنچانے کے لیے تشریف لائے اور انہوں نے اللہ پاک کے اَحکام پہنچانے میں کوئی کوتاہی نہیں فرمائی بلکہ 100فیصد وہ اَحکام پہنچادئیے یہ عقیدہ رکھنا ضَروری ہے ۔ اس میں ان کی طرف سے نہ تو  جان بوجھ کر کوئی کوتاہی واقع  ہوئی اور نہ ہی کچھ بھولے سے ۔ ([2])

سرکار عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام تشہد میں کیا اَلفاظ ادا فرماتے ؟

سُوال : جس طرح ہم اَلتَّحِیَّات مىں اَلسَّلَامُ عَلَیْكَ اَیُّھَاالنَّبِیُّ یا اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ پڑھتے ہىں تو کىا سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم بھى اِس طرح پڑھتے تھے ىا کوئى اور اَلفاظ ادا فرماتے تھے ؟ (رُکنِ شُوریٰ کا سُوال)  

جواب : صحىح قول ىہ ہے کہ حضورِ اَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم اَلتَّحِیَّات مىں اَشْہَدُ اَنَّ  مُحَمَّداً  عَبْدُہٗ  وَرَسُوْلُہٗ ہى پڑھتے تھے ، اس کى جگہ اَشْہَدُ  اَنِّیْ رَسُوْلُ اللہ ىا کوئى اور کلمات  نہىں کہتے تھے  ۔ ([3])   

خالص پھولوں کا سہرا جائز ہے

سُوال : سرکارِ مدىنہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عَقد (یعنی نکاح)حضرتِ سَیِّدَتُنا خدىجہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے کون سى سِنِ عىسوى اور کس تارىخ     کو ہوا تھا؟ نیز آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے اپنے ماتھے پر پھولوں کا سہرا باندھا تھا ىا نہىں؟(ہند سے  سُوال)

جواب : سرکارِ مدىنہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عقد (یعنی نکاح)حضرتِ سَیِّدَتُنا خدىجہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا  سے عامُ الفىل (یعنی ہاتھى والے سال کے تقریباً 25 سال بعد)میں ہواتھا ۔ اس وقت ہجرت نہىں ہوئی تھى اس لیے سِنِ ہجرى شروع نہىں ہوا تھا اور سِنِ عىسوی شاىد اس وقت وہاں رائج نہىں تھا ۔  (رہی بات نکاح کے وقت سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے سہرا ڈالنے کی تو) سہرے کا کہىں پڑھا سُنا نہىں ہے ۔ البتہ بہارِ شریعت میں خالص پھولوں کے  سہرے کو  شَرعاً جائز لکھا ہے  ۔ ([4]) سہرا سر پر سے ڈالا جاتا ہے جبکہ ہار گلے مىں پہناتے ہىں ۔  بہرحال دونوں کا ثبوت سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے دور مىں نہىں  تھا  ۔ دولہے سر پر جو سہرے لگا کر پھرتے ہىں اورسہرے پہنتے ہىں ان پر کسی کو   وسوسہ  نہىں آتا(کہ یہ  سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے مبارک دور میں نہیں پہنے جاتے تھے )، ہاں جَشنِ وِلادت کے موقع پر  پھول لگائے جائیں تو بعض لوگوں کو  وسوسے آنا شروع ہو جاتے ہیں ۔  جَشنِ وِلادت کے پھول جن کو کانٹے کى طرح چبھتے ہىں وہ  گجرا بھى پہن لىتے ہوں گے  انہیں گجرا  بھى اُتار دىنا چاہىے ۔  

جسے عشقِ مصطفٰے میں رونا نہ آتا ہو وہ کیا کرے ؟

 



1   اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّتفرماتے ہیں : شب میں تنہا قبرستان نہ جانا چاہیے ۔ (فتاویٰ رضویہ، ۹ / ۵۲۳)

2   بہارِشریعت، ۱ / ۴۰، حصہ : ۱ ماخوذاً

[3]    ردالمحتار، کتاب الصلاة، باب صفة  الصلاة، ۲ / ۲۶۹  ماخوذاً

[4]    بہارِ شریعت ، ۲ / ۱۰۵، حصہ : ۷ 



Total Pages: 14

Go To