Book Name:Intiqal Par Sabar Ka Tariqa

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ط

اِنتقال پرصَبر کا طریقہ ([1])

شیطان لاکھ سُستی دِلائے یہ رِسالہ(۴۷ صَفحات) مکمل پڑھ لیجیے اِنْ  شَآءَ اللّٰہ  عَزَّ وَجَلَّ   معلومات کا اَنمول خزانہ  ہاتھ آئے  گا ۔

دُرُود شریف کی فضیلت

فَرمانِ مصطفے ٰصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ہے : جس نے مجھ پرصبح و  شام دَس دَس بار دُرُودِ پاک پڑھا اُسے قىامت کے دِن مىرى شَفاعت ملے گى ۔ ([2])          

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                                    صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

میرے حضور کے لَب پر اَنَا لَہَا ہو گا

سُوال : اِس شِعر کى تَشرىح فرمادىجیے :   

کہىں گے اور نبى اِذْھَبُوْا اِلٰی غَیْرِیْ

مىرے حضور کے لَب پر اَنَا لَہَا ہو گا

جواب : قیامت کے دِن جب لوگ مختلف اَنبىائے کِرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کى خِدمات مىں شَفاعت کا سُوال لے کر حاضِر ہوں گے تو سارے نبى ىہ فرمائىں گے : اِذْھَبُوْا اِلٰی غَیْرِیْ یعنی مىرے عِلاوہ کسى اور کے پاس جاؤ ! بس ہر طرف نَفْسِىْ نَفْسِىْ کا عالَم ہو گا ۔  پھر جب لوگ بارگاہِ رِسالت مىں حاضِر ہوں گے تو پىارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  فرمائىں گے : اَنَا لَہَا اَنَا لَہَا یعنی اِس کام (شَفاعت)کے لىے مىں ہوں ۔ ([3])

کہىں گے اور نبى اِذْھَبُوْا اِلٰی غَیْرِیْ

                        مىرے حضور کے لَب پر اَنَا لَہَا ہو گا  (ذوقِ نعت)

حضرتِ سَیِّدُنا طلحہ بِن عُبَیْدُاللہ کی سخاوت

سُوال : حضرتِ سَیِّدُنا طلحہ بِن عُبَیْدُاللہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا کوئى واقعہ اور فضىلت بىان فرما دىجیے ۔

جواب : حضرتِ سَیِّدُنا طلحہ بِن عُبَیْدُاللہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ صَحابىٔ رَسول تھے ۔ اىک بار رات کے وقت ان کے پاس یَمن شریف کے شہر حَضْرَمَوْت سے سات لاکھ درہم آئے  ۔ رَقم پا کر یہ پرىشان ہو گئے ۔ زوجۂ محترمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہانے عرض کى : آج آپ کو کىا ہوا ہے ؟فرماىا : مجھے ىہ فِکر دامن گىر ہے  کہ جس بندے کى راتىں اللہ پاک کى بارگاہ مىں عبادت کرتے ہوئے گزرتى ہوں، گھر مىں اِس قدر  مال کى موجودگى مىں آج اس پَروردگار عَزَّ وَجَلَّ کے دَربار مىں کىسے حاضِر ہو گا؟ زوجۂ محترمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا نے بڑے اَدب سے عرض کى : ”اِس مىں پرىشانى کى کىا بات ہے ؟ آپ اپنے نادار ىعنى غرىب دوستوں کو کىوں بھول رہے ہىں؟ صبح ہوتے ہى انہىں بُلا کر ىہ سارا  مال اُن مىں تقسىم کرنے کى نىت فرما لىجیے اور اس وقت بڑے اِطمىنان کے ساتھ ربِ کرىم کى بارگاہ مىں حاضِر ہو جائیے  ۔ “نىک بخت زوجہ (Wife) کى بات سُن کر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا دِل خوشى سے جھوم گىا اور اِرشاد فرماىا : واقعى تم نىک باپ کى نىک بىٹى ہو ۔  چنانچہ صبح ہوتے ہى آپرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے مہاجرىن و اَنصار صَحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان مىں سارا  مال تقسىم کرنا شروع کر دىا ۔ ([4])   

اَللہ اَکْبَر! ہمارے صَحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کى سخاوتىں ایسی تھیں ۔  ہمارے پاس پىسے آ جائىں تو خوشى کے مارے بے چىن ہو جائىں جبکہ ان حضرات کے پاس جب دولت آتى تو صَدمے کے مارے ان کى حالت مُضطَرِب ہو جاتى کہ ىہ  دولت کہاں سے آٹپکی؟اب مىں اِس کا  کىا کروں؟لیکن حضرتِ سَیِّدُنا طلحہ بِن عُبَیْدُاللہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کى تو بات ہى کچھ اور ہے اور ان کی زوجۂ محترمہ بھى مَا شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کىسى نىک عورت تھیں ۔ وہ دور ہى نىکوں کا دور تھا ۔  

 



[1]    یہ رِسالہ ۱۶رَبیع الاوّل ۱۴۴۰؁ ھ  بمطابق 24نومبر 2018 کو عالمی مَدَنی مَرکز فیضانِ مدینہ بابُ المدینہ (کراچی) میں ہونے والے مَدَنی مذاکرے کا تحریری گلدستہ ہے ، جسے اَلْمَدِیْنَۃُ الْعِلْمِیَّۃ کے شعبے ’’فیضانِ مَدَنی مذاکرہ‘‘نے مُرتَّب کیا ہے ۔   (شعبہ فیضانِ  مَدَنی مذاکرہ)         

[2]    مجمع الزوائد، کتاب الاذکار، باب ما یقول اذا اصبح  واذا امسی، ۱۰ / ۱۶۳، حدیث : ۱۷۰۲۲ دار الفکر بیروت

[3]    مسلم، کتاب الایمان، باب ادنی اھل الجنة منزلة فیھا، ص۱۰۵، حدیث : ۴۷۹- ۴۸۰ دار الکتاب العربی بیروت

[4]    حضرتِ سَیِّدُنا طلحہ بِن عُبَیْدُاللہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی اِن  زوجۂ محترمہ کا نام حضرتِ سَیِّدَتنا اُمِّ کلثوم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا ہے ، جو اَمِیْرُ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُنا صِدِّیقِ اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُکی بیٹی تھیں ۔ 

(سیر اعلام النبلاء، طلحة بن عبید اللہ، ۳ /  ۱۹، الرقم : ۷ ملتقطاً دار الفکر بیروت)



Total Pages: 14

Go To