Book Name:Piyaray Aqa Ka Piyara Bachpan

پانى پلاىا تو اُن بکرىوں نے بچے جنے اور ہماری قوم ان بکرىوں کے دُودھ سے خوشحال و مالدار ہو گئی۔ ([1]) ایک شاعِر نے اپنے کلام کے مقطع میں  سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے بچپن مبارک پر اپنی  عقیدت کا اِظہار کچھ اِس طرح کیا ہے :  

امجد کا دِل مٹھى مىں لے کر سوتے ہو کىا انجان

ننھے قدموں پہ سر کو رکھ کر ہو جاؤں قربان

پیارے آقا کا جلدی بڑھنا اور کلام فرمانا

مىرے مکی مَدَنی  آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے دو ماہ (Two Month) کى عُمر مىں(گھسٹ کر) چلنا شروع کر دىا ، (پانچ ماہ کی عمر میں کھڑے ہو  کر چلنے لگے ) ، آٹھ ماہ (Eight Month) کى عُمر مىں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم اِس طرح بولنے لگے کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کى بات سُنى اور سمجھى جا سکتى تھى ، نو ماہ (Nine Month) کى عُمر مىں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم بالکل صاف گفتگو فرماتے تھے اور جب عُمر ِمبارک دَس ماہ (Ten Month) ہوئى تو پىارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم بچوں کے ساتھ تىر چلا لىتے تھے ۔ ([2])ىہ اِس بات کى طرف اِشارہ ہے کہ جس طرح آج کل ہمارے ىہاں طیاروں ، توپوں اور گَنوں سے جنگیں ہوتی ہیں اُس دور میں  تىر اور  تلوار سے جہاد ہوا کرتا تھا اور دُشمن  کے حملوں سے حفاظت کے لیے بچوں کو بچپن ہی سے ٹریننگ دی جاتی تھی۔ یاد رَکھیے ! پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم اتنے زیادہ ذہین تھے کہ کائنات کا کوئی بچہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے بڑھ کر نہ ذہین ہوا اور نہ ہو گا۔

بکرى نے آگے بڑھ کر سر ِمُبارَک پر  بوسہ دیا

حضرتِ سَیِّدَتُنا حلیمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا مَزید فرماتی ہیں کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم پر روزانہ سورج کى روشنى جىسا نُور اُترتا اور پھر نِگاہوں سے غائِب ہو جاتا۔ ([3])اىک دِن مىں آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکو اپنى گود میں لیے ہوئے تھى کہ چند بکرىاں قرىب سے گزرىں تو ان مىں سے اىک بکرى نے آگے بڑھ کر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو سجدہ کىا اور سر ِمبارک پر بوسہ دىا۔ ([4]) بکری نے پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو سجدہ کیا تو وہ شریعت کی مکلف ہی نہیں ہے ۔ اِسی  طرح اونٹ کا پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو سجدہ کرنے کا ذِکر بھی اَحادیثِ مُبارَکہ میں موجود ہے ۔ جانوروں کے سرکار عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ  وَالسَّلَام کو سجد ہ کرنے کے واقعات کے ذَریعے  کفار کو سرکارِ عالی وقار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی عظمت دِکھائی گئی تاکہ وہ پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی طرف آئیں اور آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ  وَالسَّلَام  کے دامنِ اَقدس سے وابستہ ہوں۔

آپ کی بَرکت سے جنگل ہَرا بَھرا ہو جاتا

حضرتِ سَیِّدَتُنا حلیمہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی  عَنْہَا مَزید فرماتی ہیں کہ جب آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو لڑکے کھیلنے کے لیے بُلاتے تو آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ  وَالسَّلَام اِرشاد فرماتے کہ مجھے کھیلنے کے لیے پیدا نہیں کیا گیا ۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم میرے بچوں کے ساتھ بکریاں چرانے جنگل تشریف لے جایا کرتے تھے ، اىک دِن مىرے  بىٹے نے مجھ سے کہا : اَمّى جان! (حضرت)محمد(صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم )بڑى شان والے ہىں کیونکہ یہ جس جنگل مىں جاتے ہىں وہ ہرا بھرا ہو جاتا ہے ، دھوپ مىں چلتے ہوئے اىک بادل ان پر سایہ کرتا ہے ، رىت پر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  کے قدمِ مُبارَک  کا نشان نہىں پڑتا ، پتھر ان کے مبارک پاؤں تلے خمىر (یعنی گُندھے ہوئے آٹے ) کی طرح نَرم  ہو جاتا ہے جس پر قدم مُبارَک کا نشان بن جاتا ہے اور جنگل کے جانور آتے ہیں اور ان کے قدم چوم  کر چلے جاتے ہیں ۔ ([5])

اللہ اللہ وہ بچپنے کى پھبن!

                               اس خُدا بھاتى صورت پہ لاکھوں سَلام        (حدائقِ بخشش)

مَدَنی کاموں پر اِستقامَت پانے کا طریقہ

سُوال : مجھے مَدَنی کاموں  مىں اِستقامت نہىں مِل پاتی اور  سُستى بڑھتى جا رہى ہے لہٰذا ایسی صورت میں مَدَنى کاموں کا جَذبہ کىسے ملے اِس حوالے سے  کچھ مَدَنى پھول عطا فرما دیجیے ۔ (SMSکے ذَرىعے سُوال)

جواب : جو لوگ نوکرى کرتے ہىں انہیں اِستقامَت مِل جاتى ہے کیونکہ وہ تنخواہ لیتے ہیں۔ اِس سے ہمیں  عِبرت حاصِل  کرنی چاہیے   کہ جن کو تھوڑے سے سِکّے اور نوٹ ملتے ہیں انہیں اِستقامَت مِل جاتی ہے تو  ہمیں نیکیوں پر اِستقامَت کیوں نہیں مل پاتی؟ یاد رَکھیے !  مَدَنی کام کرنے سے اگر ہمیں نوٹ نہیں ملتے تو کیا ہوا کہ نوٹ تو دُنیا میں ہی فنا ہو جائیں گے ، قیامت کے دِن اِن کا حِساب بھی دینا ہو گا اورنوٹوں کو حاصِل کرنے میں حَلال و حرام کے مَسائِل بھی  ہیں ، جبکہ دِین کا کام کرنے والوں کو نیکیاں ملیں گی اور ان نیکیوں کا حِساب بھی نہیں ہو گا اور ان کے بَدلے جَنَّت ملے گی۔ اگر یوں اپنے آپ کو جَنَّت کی حرص دِلا کر مَدَنی کام کریں گے تو اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  اِستقامَت مِل جائے گی ۔  

ہر کلمے کے بَدلے ایک سال کی عبادت کا ثواب

 



[1]      الكلام الاوضح فی تفسیر سورۃ  الم نشرح ، ص ۹۸تا ۹۹ ماخوذاً

[2]       شواھد النبوة ، رکن ثانی در بیان آنچه از مولد تا بعثت ظاھر شدہ است ، ص۳۸ مکتبة الحقیقة استنبول  ترکی 

[3]      سيرة حلبية ، باب  ذکر  رضاعه صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  وما اتصل به ، ۱ / ۱۳۴ دار الکتب العلمیة بیروت

[4]       سيرة  حلبية ، باب  ذکر  رضاعه صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم وما اتصل به ، ۱ / ۱۳۳ 

[5]      الكلام الاوضح فی تفسیر سورۃ  الم نشرح ، ص ۹۹تا ۱۰۰ ماخوذاً



Total Pages: 7

Go To