Book Name:Piyaray Aqa Ka Piyara Bachpan

زَجر(یعنی ڈانٹ ڈپٹ) کے طور پر کہہ رہا ہوں کہ یہ عِزَّت کا لفظ ایسی عورتوں کے لیے نہ بولا جائے جو مَردوں کے مجمع میں گھستى ہىں۔ ہمارى طرف سے تنظیمی طور پر تمام اسلامى بہنوں کو سَجاوٹ دیکھنے کے لیے گھروں سے نکلنا منع ہے ۔ اسلامى بھائىوں کو بھى تاکىد ہے کہ وہ  چراغاں  دِکھانے کے لىے گھر کی خَواتین کو ہرگز ہرگز نہ لے جائىں۔ اگر کوئی اپنے دِل کو یوں  مَنا لے کہ  مىں تو  کار مىں لے جاتا ہوں جس کے دَروازے بند ہوتے ہیں تو اِس طرح بھی لے جانے کی ہماری طرف سے اِجازت نہیں۔ اس لیے کہ جو دىکھے گا وہ اپنے لیے دَلىل بنائے گا کہ دیکھو فُلاں دعوتِ اسلامی والا اپنے گھر کی خَواتین کو چَراغاں دِکھانے کے لیے  لے جاتا  ہے لہٰذا میں  بھی لے جاتا ہوں۔ بَرائے مہربانى کوئی بھی اسلامی بھائی ایسا کام نہ کرے ۔

جَشنِ وِلادت مَنانے میں بے اِعتدالیاں

سُوال : جَشنِ وِلادت مَنانے میں جو بے اِعتدالیاں کی جاتی ہیں بَرائے کَرم ان کی نشاندہی فرما دیجئے ۔ ([1])

جواب : جَشنِ وِلادت کے موقع  پر چَراغاں کرنا اچھی بات ہے ، ہماری طرف سے اِس کی تَرغیب بھی دِلائی جاتی ہے لیکن یہ کام جائز طرىقے سے ہونا چاہیے ۔ بعض لوگ  چَراغاں کرنے مىں حَد سے تجاوز کر جاتے ہىں مثلاً گلىوں مىں اسٹىج لگا کر راستہ بند کر دىتے ہىں ، گڑھے کھود کر بانس گاڑھتے ہىں ، چراغاں کے لیے بجلی چوری کرتے ہیں اور کان پھاڑ آواز مىں نعتىں چلا کر حقوقِ عامہ تَلف کرتے ہىں۔ جَشنِ وِلادت یقیناً ہمارى آنکھوں کى ٹھنڈک اور دِل کا سُکون ہے لیکن حقیقت میں جَشنِ وِلادت وہى ہے جس سے مسلمان کے دِل ، بَدن بلکہ  رُوئیں رُوئیں کو راحت پہنچے ۔ ىہ کىسا جَشنِ وِلادت مَنانے کا اَنداز ہے کہ کان پھاڑ آواز میں نعتىں چلا کر لوگوں کی نیند بَرباد کر دو؟ جوشىلے نعرے لگا کر مَرىضوں کے آرام پر پابندى لگا دو؟ اب جس مریض کو  گولی کھا کر نیند آتی ہے تو اس شور میں اسے گولی کھانے کے بعد بھی نیند نہیں آئے گی۔ بالفرض اگر کوئی کہے کہ ہم نے محلے والوں سے نعتیں چلانے کی اِجازت لے لی ہے تو ایسوں سے عرض ہے کہ کیا ں لانکہ یہ بھی حرام کام ہے۔ھی چوری کرتے ہیں کر لے لیتے ہوں گے۔؟سوال دودھ پیتے بچوں سے بھی اِجازت لے لی ہے ؟تیز آواز سے بچہ ڈر کر ایسا روئے گا کہ ماں باپ کا سکون بھی بَرباد کر دے گا۔

نیاز اور چندہ کرنے میں بے اِعتدالیاں

یوں ہی دادا گىر قسم کے لوگ چندہ کرنے میں بھی  بے اِعتدالیاں کرتے ہوں گے مثلاً جو آدمی  چندہ نہیں بھی دینا چاہتا اُسے آنکھیں دِکھا کر لے لیتے ہوں گے حالانکہ اِس طرح چندہ لینا دَرحقیقت رِشوت ہے ۔ پھر نیاز پکاتے وقت بھی بعض لوگ  راستہ بند کر دیتے ہیں ، سڑک میں گڑھے  کھود دیتے ہیں ، نىاز  پکاتے ہوئے نماز چھوڑ دیتے ہیں تو یہ سارے کام دُرُست نہیں۔ بہرحال اگر ان بے اِعتدالیوں کے ساتھ جَشنِ وِلادت مَنایا جائے تو یہ حقیقت میں جَشنِ وِلادت نہیں۔ جَشنِ وِلادت وہی ہے جو 100 فىصد شرىعت کے دائرے مىں رہ کر مَناىا جائے ۔ جہاں شریعت کے دائرے سے باہر نکلے تو وہ جَشنِ وِلادت نہ رہا بلکہ ایک تفرىح  کا سامان ہے ۔ اب اس مىں کسی قسم کے ثواب کى اُمِّىد نہ رکھىں بلکہ گناہ کى صورتىں واضح ہىں۔ جَشنِ وِلادت تو اِس لىے مَنایا جاتا ہے کہ ہمىں ثواب ملے ، ہمارا رَبّعَزَّ وَجَلَّ راضى ہو اور میٹھے میٹھے مصطفے ٰصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم خوش ہوں اور ہم ان کے مُبارَک ہاتھوں سے جامِ کوثر پئیں۔ جَشنِ وِلادت ہم اِس لىے تو نہیں مَنارہے کہ مَعَاذَاللّٰہ عَزَّوَجَلَّ قىامت کے دِن حکم ہو کہ جہنَّم مىں چلے جاؤ ! تم نے مسلمانوں کو تنگ کىا ہے ، لوگوں کے دِل دُکھائے ہىں ، تم نے راستے گھىر کر مَرىضوں کی اىمبولنس بھى نہىں جانے دى۔ اللہ نہ کرے کہ ہمارے ساتھ ایسا ہو لہٰذا جَشنِ وِلادت شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے مَنائیں۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ دعوتِ اسلامی والے جَشنِ وِلادت مَنانے میں حَتَّی الامکان خِلافِ شَرع کاموں سے بچتے ہیں۔ چَراغاں کے لیے بھی  بجلی سپلائی کرنے والے اِدارے کو پوری رَقم جمع کروائی جاتی ہے ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ اِس اِدارے والے بھی دعوتِ اسلامی والوں سے کافی مطمئن ہیں۔

پیارے آقا کے بچپن شریف کے حالات و وَاقعات

سُوال : پیارے آقا ، مدینے والے مصطفے ٰصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے بچپن شریف کے کچھ حالات و وَاقعات  بیان فرما دیجیے ۔

جواب : پىارے آقا ، مکی مَدَنی مصطفے ٰصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے بچپن شرىف کے حالات و وَاقعات  بىان کرتے ہوئے حضرتِ سَیِّدَتُنا حلیمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتى ہىں : مىں نے پہلى مَرتبہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کى اِس حال مىں زىارت کى کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم اُونى لباس پہنے رىشمى بستر پر آرام فرما رہے تھے ، مىں نے نَرمى سے جگاىا تو مُسکراتے ہوئے آنکھىں کھول دىں اور مىرى طرف دىکھا ، اتنے مىں مُبارَک آنکھوں سے اىک نُور نِکلا اور آسمان کى طرف بلند ہوتا چلا گىا ، ىہ دىکھ کر مىں نے شوق و محبت کے عالَم مىں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کى پىشانى مُبارَک چُوم لى۔ ([2])مىرا قبىلہ بنى سَعد قحط مىں مبتلا تھا ، اَناج (یعنی کھانے پىنے کے سامان) کى تنگى تھى اور بارشىں نہىں ہو رہى تھىں۔ جب مىں

آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو لے کر اپنے قبىلے مىں پہنچى تو قحط دُور ہو گىا ، اَناج کى تنگى دُور ہو گئى ، زمىن سرسبز ہو گئى ، دَرخت پھلدار اور جانور فربہ( ىعنى موٹے ) ہو گئے ، میرا گھر روشن رہنے لگا۔ اىک دن مىرى پڑوسن(اُمِّ خولہ سَعدیہ) مجھ سے بولى : اے حلىمہ! تىرا گھر سارى رات روشن رہتا ہے ، کیا تو اپنے گھر میں رات کو آگ جَلایا کرتی ہے ؟ مىں نے اس سے کہا : ىہ آگ کی روشنى نہىں بلکہ(حضرت) محمد (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم)کے نورانى چہرے کى چمک ہے ۔ ([3])   

سات بکرىاں  بڑھتے بڑھتے 700 ہو گئیں

حضرتِ سَیِّدَتُنا حلیمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا مَزید فرماتی ہیں کہ مىرے پاس سات بکرىاں تھىں جو بڑھتے بڑھتے 700 ہو گئیں۔ قبىلے والے اىک دِن مجھ سے بولے کہ اے  حلىمہ! اس بچے  کى بَرکتوں سے ہمىں بھى حِصَّہ دو۔ چنانچہ مىں نے اىک تالاب (یعنی پانی کے  بڑے حوض)مىں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے پاؤں مُبارَک ڈالے اور قبىلے کى بکرىوں کو اُس تالاب کا



[1]      یہ سُوال شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ کی طرف سے قائم کیا گیا ہے جبکہ جواب امیر اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا عطا فرمودہ  ہی ہے ۔  (شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ) 

[2]                         مدارج النبوة ، قسمِ دوم ، باب اول ، ذکر نسب وحمل ...الخ ، ۲ / ۱۹ مرکز اھلسنَّت برکاتِ رضا ھند

[3]      الكلام الاوضح فی تفسیر سورۃ  الم نشرح ، ص۹۸ماخوذاً ضیاء الدین پبلی کیشنز باب المدینہ کراچی



Total Pages: 7

Go To