Book Name:Seerat e Ala Hazrat Ki Chand Jhalkiyan

جواب : اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّت پر آنکھیں بند ہونے کا مَطلب یہ نہیں کہ سر کی آنکھیں بند ہیں بلکہ اِس کا مَطلب یہ ہے کہ ہم اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّت پر  کسی بھی قسم کی تنقید نہیں کرتے اور  نہ ہی ہمیں ان کی بیان کردہ کسی بات کے بارے میں کوئی  شُبہ ہوتا ہے کہ اگرغَلَطی ہوئی تو کیا ہو گا۔ اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّت کے مُعاملے میں آنکھیں بند کر نے میں ہی عافیت ہے ، اِس بارگاہ میں آنکھیں کھولیں گے تو ٹھوکر لگنے کا خَدشہ ہے ۔ یاد رَکھیے ! ہم اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّت کو اللہ پاک کا ولی مانتے ہیں نبی نہیں مانتے ، اللہ پاک کے بے شمار اَولیائے کِرام  کَثَّرَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام  ہیں ان ہی میں سے ایک اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّتبھی ہیں کیونکہ وِلایت کا دَروازہ بند نہیں ہوا بلکہ نبوت کا دَروازہ بند ہوا ہے ۔  

اعلیٰ حضرت کی سب سے آخری تحریر

سُوال : اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّت کی تحریر کی کوئی انوکھی بات ہو تو بیان فرما دیجیے ۔ نیز آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کی سب سے آخری تحریر کیا تھی؟ ([1])  

جواب : اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّت کی ایسی عظیم الشان شخصیت ہے کہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ جس سَمت آگئے ہیں سکے بٹھا دئیے ہیں۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کی کوئی صبح ایسی نہ تھی جس کی اِبتدا نامِ اِلٰہی تحریر کرنے  سے نہ ہوتی اور کوئی دِن ایسا نہیں تھا جس کے اِختتام پر آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ دُرُود شریف تحریر  نہ کرتے ۔ آپرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کی زندگی کی سب سے آخری تحریر جو 25 صَفَرُ الْمُظَفَّر 1340 سن ہجری جمعۃ المبارک کے دِن وِصالِ باکمال سے چند لمحات پہلے لکھی وہ یہ تھی : صَلَّى اللہُ عَلٰی سَیِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَسَلَّمَ اَجْمَعِیْن۔ ([2]) سُبْحٰنَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ!آپرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کی روزانہ کی جو آخری تحریر ہوتی تھی بوقتِ وصال بھی وہی تھی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کتنے بڑے عاشقِ الٰہی اور عاشقِ رسول تھے ۔

اسى احمد رضا کا واسِطہ جو مىرے مُرشِد ہىں

عطا کر دو مجھے اپنى محبت یَارَسُوْلَ اللہ

یقیناً آپ کا اِنعام ہے یہ مِل گئے مجھ کو

شَہَنشاہِ بَریلی اعلیٰ حضرت یَارَسُوْلَ اللہ

مجھے تم مَسلکِ احمد رضا پر اِستقامت دو

بنوں خِدمت گزارِ اہلِ سنَّت یَارَسُوْلَ اللہ

دعوتِ اسلامی اور بزرگانِ دِین کے تَذکرے

سُوال : صَحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان، حضور غوثِ اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَکْرَم  اور داتا گنج بخش علی ہجویری  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے بھی تو دِین کا کام کیا ہے لیکن آپ اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّت کا ہی اتنا نام کیوں لیتے ہیں؟ (سوشل میڈیا  کا سُوال)  

جواب : بزرگانِ دِین رَحِمَہُمُ  اللّٰہُ   الْمُبِیْن کا تَذکرہ عموماً موقع محل کے اِعتبار سے کیا جاتا ہے ابھی چونکہ اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّت کے عُرس کے اَیّام ہیں تو  ہم آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کا تَذکرہ کر رہے ہیں۔ جب گیارھویں شریف کا مہینا شروع ہو گا تو اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  گیارہ راتیں مَدَنی مذاکرہ ہو گا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ  ہمارا تو بَرسوں سے یہ سِلسِلہ چلا آ رہا ہے کہ گیارھویں شریف کا مہینا شروع ہوتے ہی غوثِ اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَکْرَم  کا ذکرِ خیرکرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اعلیٰ حضرت  عَلَیْہِ رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّت کے تَذکرے میں حضور غوثِ اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَکْرَم  کی شان بھی ظاہر ہوتی ہے کہ اعلیٰ حضرت  عَلَیْہِ رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّت کو جو عظیم الشان مَرتبہ حاصِل ہوا ہے وہ غوثِ اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَکْرَم  کی غُلامی ہی کی وجہ سے حاصِل ہوا ہے آپرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ غوثِ اعظمعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَکْرَم کے قدموں سے لپٹ کر ہی یہاں تک پہنچے ہیں۔

مَزرعِ چِشت و بخارا و عِراق و اجمیر

                                 کون سی کشت پہ بَرسا نہیں جھالا تیرا    (حدائقِ  بخشش)

یعنی اے غوثِ اعظم!وہ کون سا کھیت ہے جس پر آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کے کَرم کا بادِل نہیں بَرسا، چاہے وہ اجمیر ہو یا عراق ہر کھیت پر آپرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے کَرم کی بَرسات ہوئی ہے ۔ یقیناً اعلیٰ حضرت  عَلَیْہِ رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّت بھی اسی دَربارِ گوہر بار کے غُلام اور فیض یافتہ ہیں۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ  ہم لوگ بارہا صحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا بھی تَذکرہ کرتے ہیں بلکہ یہ نعرہ کہ ”ہر صحابیٔ نبی جنتی جنتی“بھی ہم نے ہی لگایا ہے ۔ نیز جب بارھویں شریف کا مہینا تشریف لائے گا تو ہم اپنے



[1]   یہ سُوال شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ کی طرف سے قائم کیا گیا ہے جبکہ جواب امیر اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا عطا فرمودہ  ہی  ہے ۔  (شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ)

[2]   حیاتِ اعلیٰ حضرت، ۳ / ۲۹۲ماخوذاً



Total Pages: 11

Go To