Book Name:Seerat e Ala Hazrat Ki Chand Jhalkiyan

پڑھ رہے ہوتے بلکہ صِرف نماز کی رَسم  ادا کر رہے ہوتے ہىں۔ اگر کوئی  صحىح نماز ادا کرے  جىسے  شرىعت نے حکم دىا ہے تو نماز ضَرور بُرائىوں سے بچائے  گی۔ اللّٰہ پاک کا کلام سچا ہے ، ہم سچے ہو جائىں اور اپنى نماز دُرُست کر لىں تو اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ہماری  نماز ہمىں بھی  دُرُست کر دے  گى۔

مسجد تو بنا دی شَب بھر میں اِیماں کی حَرارت والوں نے

مَن اپنا پُرانا پاپی ہے بَرسوں میں نمازی بن نہ سکا

اعلىٰ حضرت کاسفر میں نماز کا اِہتمام

مىرے آقا اعلىٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّتکو 52 سال کى عمر مىں جب دوسرى بار سفر حج کى سعادت ملى، تو مَناسِکِ حج ادا کرنے کے بعد آپ  صاحبِ فراش (یعنی بىمار) ہو گئے ، ىہاں تک کہ دو مہىنے تک  بىمارى کے سبب  بستر پر تشرىف فرما رہے ۔ جب کچھ صحتىاب ہوئے تو زىارتِ رَوضۂ اَقدس کے لىے مدىنۂ مُنَوَّرہ زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً کا رُخ کىا۔ جَدَّہ شرىف سے ہوتے ہوئے کشتى کے ذَرىعے (اب ىہ کشتىوں کا سفر نہىں ہے اس دور مىں ہوتا  ہو گا)تىن دِن کے بعد رابغ کے مقام پر پہنچے اور وہاں سے مدىنۂ پاک کے لیے کرائے کے اونٹ پر سوار ہو گئے ، پہلے لوگ قافلے کے ساتھ اونٹوں پر سفر کرتے تھے ۔ جب بیر شىخ (ىہ ایک  مقام کا نام ہے )پر پہنچے تو  مدىنہ شرىف قریب تھا  زىادہ دور نہىں تھا لىکن فجر کا وقت تھوڑا رہ گىا تھا۔ چونکہ منزل قریب تھی اس لیے جمال(اونٹ چلانے والوں )نے منزل ہى پر اونٹ روکنے کى ٹھانى، لىکن اس وقت تک نمازِ فجر کا وقت ختم ہونے کا اندىشہ تھا۔ اعلىٰ حضرت جو کہ عاشقِ نماز تھے ، جب آپ نے ىہ صورتِ حال دىکھى تو قضائے نماز کا Risk (یعنی خطرہ) نہ لیا اپنے رُفقا(یعنی ساتھىوں) سَمىت وہىں ٹھہر گئے اور  قافلے کو جانے دىا کہ جان تو جا سکتى ہے نماز نہىں جا سکتى، قافلہ تو جاسکتا ہے نماز نہىں جا سکتى مىں نے نماز پڑھنى ہے چنانچہ آپ رُک گئے قافلہ چلا گىا۔ ([1])

میرے آقااعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّت کے پاس ایک کِرمِچ(یعنی مخصوص ٹاٹ کا بنا  ہوا ڈول )تھا، مگر رَسى نہىں تھى اور کنواں بھى گہرا تھا ، ڈول کے ساتھ رَسی باندھے بغیر  پانى نہىں نکالا جا سکتا تھا ، پھر عمامے شرىف ڈول کے ساتھ  باندھ کر کنوئیں سے پانى نکالا اور وضو کر کے وقت کے  اندر اندر نمازِ فجر ادا فرمائى۔ چونکہ دو ماہ کے طویل عرصے تک بیمار رہنے کی وجہ سے کافی کمزوری  ہو گئی تھی، اس لیے اب ىہ فِکر لاحق ہوئى کہ منزل تک پىدل کىسے چلىں گے ! اِسی  سوچ  میں تھے کہ مُنہ پھىر کر دیکھا کہ  اىک اجنبى جمال (یعنی اىک انجان اونٹ والا)اپنا اونٹ لىے اِنتظار مىں کھڑا ہے ، آپرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ حمدِ اِلٰہى بجا لا کر اس اونٹ پر سوار ہو گئے ۔ ([2]) نماز کی بَرکت سے اعلىٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّت کی یہ غیبی مدد ہوئى۔  

اعلىٰ حضرت پر اپنی آنکھیں بند ہیں

مىرے آقا اعلىٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّت عاشقِ اِلٰہى بھى تھے ، عاشقِ رَسول بھى تھے ، عاشقِ صحابہ بھى تھے ، عاشقِ اَولىا بھى تھے اور خود بھى صاحِبِ وِلاىت (یعنی وَلِیُّ اللہ) تھے ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ ہم نے اعلیٰ حضرت کا دامن پکڑ کر وَاللہ، بِاللہ، تَاللہ ٹھوکر نہىں کھائى بلکہ ہم نے اس دَر کے لىے دُنیا ٹھکرائى ہے ۔ اللہ کرے کہ اعلىٰ حضرت کا دامن ہمارے ہاتھوں سے نہ چھوٹے ، ان کا دَروازہ مضبوطى سے پکڑنا ہے کہ ”یَکْ  دَرْگِیْر مُحْکَم گِیْر یعنی ایک ہی دَروازہ پکڑو مگر پکڑو مَضبوطی سے ۔ ([3]) کی تعلىم بھى اعلىٰ حضرت ہى نے دی ہے ۔ ىہ بھى ٹھىک تو وہ بھی  ٹھىک نہىں بلکہ جو رضا کہىں وہ ہى ٹھىک ہے کىونکہ رضا کوئی بھی بات  قرآن و حدىث سے ہٹ کر نہىں کرتے ۔ جب ہم نے ان کے فتاوىٰ، ا ن کى کُتُب اور  ان کى سىرت کا مُطالعہ کىا تو ہماری سمجھ میں یہ بات آ گئى کہ رضا کى زبان سے وہى نکلتا ہے جس کی تائید و تَصدیق قرآن و حدىث سے ہوتی ہے ۔ اس لىے رضا پر اپنی آنکھىں بند کر دیں، اگر آنکھىں کھولىں تو کہىں اىسا نہ ہو کہ مشکل کھڑى ہو جائے اور دِل کى آنکھىں بند ہو جائىں لہٰذا آنکھىں بند کر کے  رضا کے پىچھے پىچھے  چلتے جائیے اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ غوثِ پاک  کے دامن تک پہنچ جائیں گے  اور غوثِ پاک اپنے نانا جان، رَحمتِ عالمىان صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  کے قدموں تک لے جائیں گے ۔

باغِ جنَّت مىں محمد مسکراتے جائىں گے

پُھول رَحمت کے جھڑىں گے ہم اُٹھاتے جائىں گے

اعلیٰ حضرت پر آنکھیں بند ہونے کا مَطلب

سُوال : آپ کہتے ہیں”اعلیٰ حضرت  عَلَیْہِ رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّت پر ہماری آنکھیں بند ہیں“اِس کا کیا مَطلب ہے ؟

 



[1]   ملفوظات اعلیٰ حضرت، ص۲۱۷  ماخوذاً مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی

[2]   ملفوظات اعلیٰ حضرت، ص ۲۱۷ تا ۲۱۸ ماخوذاً

[3]   فتاویٰ رضویہ ، ۲۱ / ۶۰۴ رضا فاؤنڈیشن مرکز الاولیا لاہور



Total Pages: 11

Go To