Book Name:Seerat e Ala Hazrat Ki Chand Jhalkiyan

پڑھنا مکروہِ تَنزیہی ہے ۔ ([1]) آج کل عموماً لوگ جب  کسی کے ہاں دَعوت مىں جانا ہو یا صَدر، وزیرِ اعظم ، ایم این اے  بلکہ اگر کسی  کونسلر کے پاس بھی جانا ہو تو اچھا لباس پہنتے ہىں اور دیکھتے ہیں کہ کہیں لباس میں  سلوٹیں تونہیں پڑی ہوئیں تاکہ اِستری کر کے انہیں دور کر لیا جائے ۔ اسی طرح ہر داماد  بخوبی جانتا ہے کہ وہ سُسرال میں کس طرح کا لباس پہن کر جاتا ہے ۔ دُنىوى مُعاملات مىں تو عُمدہ سے عُمدہ لباس پہنا جاتا ہے مگر نماز میں بارگاہِ خُداوندى کى حاضِرى کے وقت لباس کا کوئى ٹھکانا نہىں ہوتا بلکہ جو لباس ہاتھ  آئے  اُسے  چڑھا کر نماز پڑھ رہے ہوتے ہىں۔ اللہ پاک  ہمیں نمازوں کی قدر نصىب فرمائے اور زہے نصیب! ہم نمازوں کے لیے کو ئی خاص جوڑا الگ سے بنائیں اور اُسے پہن کر نماز پڑھنے والے بن جائیں۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم

نماز کے لیے رضوی جوڑے کا اِہتمام کیجیے

فجر کی نماز میں لوگNight Dress (یعنی رات جس لباس کو پہن کر سوتے ہیں اسی) میں ہی مسجد پہنچ جاتے ہیں، ایسا نہیں کرنا چاہیے ۔ نماز کے لیے عُمدہ لباس ہونا چاہیے اور ساتھ ہی ساتھ  مسجد اور نماز کی تعظیم کی نیت سے خوشبو بھی  لگانی چاہىے کہ  ىہ مستحب اور ثواب کا کام ہے ۔ اعلىٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّت  نماز کے لیے Special (یعنی خاص )اور عمدہ  لباس کا اِہتمام فرماتے اور اسے پہن کر آپرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نماز پڑھتے تھے ۔ اِس وقت (یعنی ۲۵صَفَرُ الْمُظَفَّر ۱۴۴۰؁ ھ کو) مَدِیْنَۃُ الْمُرْشِد  بَرىلى شرىف مىں بہت بڑا اِجتماع ہو رہا ہے ، پورے ہند بلکہ دُنیا کے  کئی ممالک سے عاشقانِ رضا اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ   کے صَدسالہ عُرس میں جمع ہوئے ہوں گے ۔ تمام عاشقانِ رضا کو چاہیے کہ اىک آدھ جوڑا نماز کے لىے خاص کر لیں اور اس کا نام رضوى جوڑا رکھ لیں اور اسے پہن کر نماز پڑھا کریں۔ مگر ىہ پىنٹ شرٹ اور اوٹ پٹانگ قسم کا لباس نہ ہو بلکہ عُمدہ، قىمتى، بہترىن اور سُنَّت کے سانچے مىں ڈَھلا ہوا صحىح اِسلامى لباس ہو اور خوبصورت  عمامہ شرىف سَجا  ہوا  ہو۔ کاش مجھے بھى یہ توفىق مِل جائے ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم  

اعلیٰ حضرت کے نماز پڑھنے کا اَنداز

سُوال : اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ   کے نماز پڑھنے کا اَنداز کیسا ہوتا تھا ؟([2])

جواب : اعلىٰ حضرترَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ ہمارى طرح جلدی جلدی نماز نہیں پڑھتے تھے بلکہ اِطمینان اور سُکون کے ساتھ نماز ادا فرماتے تھے ۔ ایک مفتی صاحِب فرماتے ہیں : امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن جس قدر اِطمینان اور سُکون کے ساتھ نماز پڑھتے اِس کی مِثال ملنی مشکل ہے ۔ ہمیشہ میری دو رَکعت ہوتی تو ان کی ایک، جبکہ میری چار رَکعت دوسرے لوگوں کی چھ اور آٹھ رَکعتوں کے برابر ہوتی۔ ([3])یہ بات مُفتى صاحب نے  100 سال سے بھی پہلے کی بیان فرمائی تھی کیونکہ (۲۵صَفَرُ الْمُظَفَّر ۱۴۴۰؁ھ میں )100سال تو اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّت کے عُرس کو ہو گئے ہىں۔ آج کل تو لوگوں کے نماز پڑھنے کا جو حال ہے  توبہ  توبہ۔ اُس وقت کم ازکم لوگوں کو نماز پڑھنا تو آتى ہو گى اب تو  نہ  نماز پڑھنی  آتی ہے اور نہ ہی نماز سیکھنے کا ذہن ہوتا ہے ! کچھ ہی نمازى ایسے ہوں گے جنہیں صحیح طریقے سے نماز پڑھنا آتى ہو گی۔ ہمارے ہاں وقتاً فوقتاً  عالمی مَدَنی مَرکز فیضانِ مدینہ اور دِیگر کئی شہروں میں سات دِن کا ”فىضانِ نماز کورس“ کروایا جاتا ہے جس میں نماز پڑھنے کا صحیح طریقہ اور کئی ضَروری مَسائِل سِکھائے جاتے ہیں۔ سات دِن کے ”فىضانِ نماز کورس“ کی دعوت دی جاتی ہے مگر افسوس!  لوگوں کے پاس نماز سیکھنے کے لىے وقت نہیں ہوتا۔

اپنى نماز دُرُست کرىں نماز آپ کو دُرُست کر دے گى

کئی لوگ نمازىں پڑھتے ہىں مگر اِس کے باوجود وہ نمازى نہىں ہوتے ، اگر اِس طرح  جَلدى جَلدی نماز پڑھی کہ حُرُوف چَب گئے اور معنىٰ ہى بَدل گیا تو نماز ہو گى ہى نہىں۔ اِس کے عِلاوہ بھی نماز میں ہزارہا غَلَطىاں ہوتى ہىں، اللّٰہ پاک کرے ہم نام کے نہیں بلکہ کام کے  نمازى بن جائىں۔ جب ہم واقعى نمازى بن جائىں گے تو اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ   بُرائىاں ہمارى جان چھوڑ دىں گى۔ اللّٰہ پاک اِرشاد فرماتا ہے : (اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِؕ-)([4])(پ۲۱، العنکبوت : ۴۵) ترجمۂ کنز الایمان : بیشک نماز منع کرتی ہے بے حیائی اور بُری بات سے ۔ “آج کل لوگ نماز پڑھنے کے باوجود بھی بُرائیوں سے رُک نہىں پاتے کیونکہ صحیح نماز نہیں 



[1]   شرح الوقایة، کتاب الصلوة، باب ما یفسد الصلوة...الخ ، ۱ / ۱۹۸ماخوذاً باب المدینه کراچی

[2]   یہ سُوال شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ کی طرف سے قائم کیا گیا ہے جبکہ جواب امیر اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کا عطا فرمودہ  ہی  ہے ۔ (شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ) 

[3]   یہ بات بیان فرمانے والے مولوی محمد حسین صاحب چشتی نظامی قُدِّسَ سِرُّہُ السَّامِی ہیں ۔ (انوارِ رضا ، ص ۲۵۸)

[4]   اِس آیتِ مُبارَکہ کے تحت صَدرُ الافاضِل حضرتِ علّامہ مولانا سَیِّد محمد نعیمُ الدِّین مُراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْہَادِی فرماتے ہیں : جو شخص نماز کا پابند ہوتا ہے اور اس کو اچھی طرح ادا کرتا ہے نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایک نہ ایک دن وہ ان بُرائیوں کو تَرک کر دیتا ہے جن میں مبتلا تھا ۔ حضرت اَنَس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مَروی ہے کہ ایک اَنصاری جوان سَیِّدِ عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے ساتھ نماز پڑھا کرتا تھا اور بہت سے کبیرہ گناہوں کا اِرتکاب کرتا تھا حضور (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ) سے اس کی شکایت کی گئی، فرمایا : اس کی نماز کسی روز اس کو ان باتوں سے روک دے گی۔ چنانچہ بہت ہی قریب زمانہ میں اس نے توبہ کی اور اس کا حال بہتر ہو گیا۔ حضرت حسن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ  نے فرمایا کہ جس کی نماز اس کو بے حیائی اور ممنوعات سے نہ روکے وہ نماز ہی نہیں۔  (خزائن العرفان، پ۲۱، العنکبوت، تحت الآیۃ : ۴۵)



Total Pages: 11

Go To