Book Name:Seerat e Ala Hazrat Ki Chand Jhalkiyan

اعلىٰ حضرت  اور پابندیٔ نماز

سُوال : اعلىٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت کے شوقِ نماز کے حوالے سے کچھ مَدَنی پھول بیان فرما دیجیے ۔ ([1])

جواب : جس طرح مىرے آقا اعلىٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت  بہت بڑے عاشقِ رَسول تھے اِسی طرح بہت بڑے عاشقِ اِلٰہی  بھى تھے ۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ   جب سے سمجھدار ہوئے تب  سے ہی مسجد مىں باجماعت نماز اَدا کرنے کے عادى تھے اور عمر بھر صاحبِ تَرتىب([2]) رہے ۔ ([3])

اعلٰى حضرت اور جماعت  کی پابندی

اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت صِرف نماز ہى کے نہىں جماعت کے بھى پابند تھے ، اِس سلسلے میں ایک واقعہ پیشِ خِدمت ہے چنانچہ ایک بار آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے پاؤں مُبارَک کا اَنگوٹھا پک گیا اور زخم ہو گىا تو اُن دِنوں Surgeonجَرَّاح(یعنی زَخموں اور پھوڑے پھنسیوں کا عِلاج کرنے والے )ہوا کرتے تھے ۔ شہر کے سب سے بڑے اور ہوشىار جَرَّاح نے آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کے انگوٹھے کا عمل ِ جَراحَت(یعنی  آپرىشن) کىا اور پٹى باندھنے کے بعد عرض کیا : حضور ! اگر آپ حَرکت( ىعنى ہِل جُل )نہىں کرىں گے تو ىہ زخم دَس بارہ دِن مىں ٹھىک ہو جائے گا ورنہ زىادہ وقت لگ سکتا ہے ، ىہ کہہ کر وہ Surgeon جَرَّاح  چلے گئے ۔ اب اس عاشقِ الٰہی کے لیے یہ کىسے ممکن تھا  کہ مسجد کى حاضِرى اور جماعت کى پابندى تَرک کر دے لہٰذا جب نمازِظہر کا وقت ہوا  تو آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے  وُضو کىا مگر  مسجد جانے کے لیے  کھڑے نہىں ہو پا رہے تھے ، اب آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ بىٹھتے اور  گھسٹتے ہوئے اپنے مَکانِ عالى شان کے دَروازے تک پہنچ گئے ، جب  لوگوں نے دىکھا کہ اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّت  مسجد کی جماعت چھوڑتے ہی  نہىں تو انہوں نے آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کو کُرسی پر بٹھایا اور پھر کُرسی کو  اُٹھا کر مسجد مىں پہنچا دىااور پھر محلے اور خاندان والوں نے یہ طے کیا کہ پانچوں نمازوں کے وقت  ہم مىں سے چار مَضبوط آدمى کُرسى لے کر حاضِر ہو جاىا کرىں گے اور پھر  پلنگ سے ہى کُرسى پر بٹھا کر آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کو  مسجد کے مِحراب کے قرىب پہنچا دىا کرىں گے ۔ چنانچہ ىہ سِلسِلہ تقرىباً اىک ماہ تک بڑى پابندى سے چلتا رہا، پھر  جب زَخم اچھا ہو گىا اور آ پ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ خود چلنے کے قابِل ہو گئے تو کُرسی پر مسجد پہنچانے کا مُعاملہ ختم ہوگیا۔ ([4]) یاد رَکھیے ! جو حقیقی  بزرگ ہوتے ہىں اُن کی سیرت میں آپ کو تقوىٰ و  پرہىزگارى، نماز روزوں کی پابندی اور  سُنَّتوں پر عمل کرنا ملے گا اور جو صِرف باتوں کے بزرگ ہوتے ہیں ان میں یہ  چیزیں نظر  نہیں آتیں اور وہ اس ڈَبّے کی طرح ہوتے ہیں جو خوب بَج رہا ہوتا ہے مگر  اندر سے خالی  ہوتا ہے ۔ میرے آقا اعلیٰ حضرتعَلَیْہِ رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّت کا تَقویٰ بے مثال تھا اور آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  سُنَّتوں کے پابنداور بہت ہى زَبردست شخصىت کے مالِک تھے ۔  

اِسی طرح ایک عالِم صاحب جنہیں چند سال آپرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ   کى خِدمت مىں رہتے ہوئے فتاویٰ لکھنے کا شَرف مِلا وہ فرماتے ہیں کہ اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت نے تمام عمر لازمى طور پر جماعت سے نماز پڑھى اور خواہ  کىسی ہی  گرمى کىوں نہ ہو ہمىشہ عمامہ شریف اور انگرکھا اِہتمام کے ساتھ پہنتے تھے ۔ ([5]) انگرکھا (ایک لمبا مَردانہ لباس جس کے دو حصّے ہوتے ہیں چولی اور دامن)غالبا ً کُرتے کے اُوپر پہننے والی پوشاک کا نام ہے ۔

نماز کے لیے خاص  لباس کا اِہتمام

سُوال : نماز میں لباس کیسا ہونا چاہیے ؟نیزفجر کی نماز میں لباس کے حوالے سے بڑا بُرا حال ہے اِس پر بھی کچھ مَدَنی پُھول بیان فرما دیجیے ۔ (نگرانِ شُورىٰ کا سُوال)

 جواب : اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّت عمامہ شریف سجا کر  اور انگرکھے جیسا عمدہ لباس پہن کر نماز کے لیے حاضِر ہوتے تھے ۔ یاد رَکھیے ! عُمدہ لباس پہننا اور خوشبو لگانا اس آیتِ مُبارَکہ(خُذُوْا زِیْنَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ )(پ۸، الاعراف : ۳۱) ترجمۂ کنزالایمان : ”اپنی زینت لو جب مسجد میں جاؤ۔ “کے تحت داخِل ہے ۔ حضرتِ سَیِّدُنا امامِ اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَکْرَم نے بھی نماز پڑھنے کے لیے  عمامہ شریف اور بہت عُمدہ اور  قىمتی لباس کا اِہتمام کر رکھا تھا کہ جس کی قیمت 1500دِرہم سے بھی زائِد تھی۔ ([6])میرے آقا اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت نماز کے لیے عُمدہ لباس پہنتے تھے اور  ىہ مستحب ہے لہٰذا عُمدہ لباس پہن کر نماز پڑھیں، کام کاج کے کپڑوں مىں اور  مىلے کپڑوں مىں نماز



[1]   یہ سُوال شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ کی طرف سے قائم کیا گیا ہے جبکہ جواب امیر اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا عطا فرمودہ  ہی ہے ۔  (شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ)

[2]   صاحبِ تَرتىب وہ ہوتا ہے کہ  جس کى چھ نمازیں قضا نہ ہوئی ہوں اگر  کسى کى چھ نمازىں قضا ہو گئیں تو وہ صاحبِ  تَرتىب ہونے  سے نِکل گىا اور اگر چھ سے کم نمازیں قضا ہوئیں تو وہ  صاحبِ تَرتىب ہی کہلائے گا۔ صاحبِ تَرتیب سے متعلق شَرعی مَسائل جاننے کے لیے بہارِ شرىعت جلد 1 حصّہ چہارم کا مُطالعہ کیجیے ۔  (شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ) 

[3]   سیرتِ اعلیٰ حضرت معہ کرامات، ص۳۸ ملخصاًفیضانِ امام احمد رضا مرکز الاولیا لاہور

[4]   سیرتِ اعلیٰ حضرت معہ کرامات، ص۳۷ ملخصاً

[5]   امام احمد رضا اور ردِ بدعات و منکرات، ص ۶۲ماخوذاًفريد بك سٹال مركز الاوليا لاہور

[6]   مناقب الامام الاعظم ابی حنیفة للموفق، جز : ۱، ص ۲۳۸ کوئٹه



Total Pages: 11

Go To