Book Name:Seerat e Ala Hazrat Ki Chand Jhalkiyan

سُنّیوں کے دِلوں میں جس نے تھی

شمعِ عشقِ رسول روشن کی

وہ حبیبِ خُدا کا دِیوانہ

                           واہ کىا بات اعلىٰ حضرت کى                     (وسائلِ بخشش)

اعلٰى حضرت  اور ساداتِ کِرام  کا اَدب و اِحترام

سُوال : ساداتِ کِرام کے اَدب و اِحترام  کے حوالے سے اعلىٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت کے کچھ واقعات بیان فرما دیجیے ۔ ([1])  

جواب : اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّت ساداتِ کِرام کابہت اَدب و اِحترام کرتے تھے ۔ پہلے کے دور مىں  گاؤں دیہات کے لوگ  جب کسی  بڑی شخصیت  کا اِحترام کرتے  اور عِزّت دیتے تو اسے کہیں لے جانے کے لیے  ڈولى مىں سوار کرتے تھے ، جسے چار اَفراد کندھا دے کر چلتے تھے ۔ اس دور میں عُلَما و  مَشائخ  کا اِحترام بھی اِسی طریقے سے کیا جاتا تھا چنانچہ ایک بار اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّتکہیں مَدعو کیے گئے تھے  تو آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کو بھی یونہی ڈولی میں سوار کیا گیا ، جب کہاروں نے ڈولى اُٹھائى اور لے کر چلنے لگے تو اچانک اعلىٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّتنے حکم فرماىا کہ ڈولى روک کر نیچے رکھ  دی جائے ۔ کہاروں نے ڈولی روک کر نیچے رکھی تو آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ ڈولی سے  باہر تشرىف لائے اور کہاروں سے فرماىا :  ڈولی میں بیٹھ کر میرے دِل میں  اِضطراب پیدا  ہوا اور مجھے کسى آلِ رسول کى خوشبو آ رہى ہے لہٰذا سچ بتاؤ آپ مىں سے سَیِّد  کون ہے ؟ تو اُن کہاروں میں سے  اىک آگے بڑھا اور عرض کى حضور مىں سَىِّد ہوں!بس اتنا سُننا تھا کہ لوگوں نے یہ مَنظر دیکھا کہ  اپنے وقت کا امام اپنا عمامہ اُتار کر اس سَىِّد زادے کے قدموں پر رکھتا ہے اور مِنَّت و سَماجت کرتے ہوئے کہتا  ہے کہ اے سَىِّد زادے ! اے آلِ رسول !مجھے مُعاف کر دوکہیں ایسا نہ ہو کہ  قىامت کے دِن آپ کے نانا جان مجھ سے یہ  فرمائیں کہ  تمہارى ڈولى اُٹھانے کے لىے کىا مىرى اَولاد کا کندھا ہى رہ گىا تھا۔ اب وہ سَىِّد صاحِب حىران و پریشان کہ اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّت ان سے مُعافىاں مانگے جا رہے ہىں۔ بہرحال اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّت نے اُس سَیِّد زادے سے مِنَّت کی کہ اب آپ ڈولی میں بیٹھیے اور احمد رضا ڈولی کو  کندھا دے گا۔ چنانچہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے  اِصرار کر کے اُس  سَىِّد صاحب کو ڈولى مىں بىٹھنے پر مجبور کىا اور جب وہ سَیِّدصاحب ڈولى مىں بىٹھے تو دِیگر تىن اَفراد کے ساتھ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  نے بھی ڈولی کو  کندھا دیا۔ جو ڈولی اعلیٰ حضرت  عَلَیْہِ رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّت کی عِزّت اَفزائی کے لیے لائی گئی تھی اب اُسے آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ   خود اُٹھا  کر چل رہے تھے ۔ ([2]) ساداتِ کِرام کے اَدب و اِحترام کے بارے میں اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّت کے اِس طرح کے واقعات پڑھ کر میرا یہ ذہن بنا کہ سَیِّد بادشاہ ہیں اور ہمارے سَر کے تاج ہیں ۔   

اِسی طرح اىک باراعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّت کے گھر کے کام کاج کے لىے ایک لڑکا بطورِ  خِدمت گار رَکھا گىا، بعد میں  پتا چلا کہ وہ  سَىِّد ہے چنانچہ یہ پتا چلتے ہی  آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  نے گھر مىں سب کو تاکىد کر دى کہ خبردار! ىہ خادِم نہیں، مَخدُوم زادے  ہىں اِن سے کوئى خِدمت نہىں لینی بلکہ ہم ان کی  خِدمت کرىں گے اور جو بھی سیلری طے ہوئی ہے وہ بطورِ نَذرانہ انہیں پیش کی  جائے گی۔ اب وہ سَیِّد صاحب  کام کاج کے لیے   تشریف لاتے  مگر ان سے کوئی کام نہ لیا جاتا  اور جو ماہانہ  سیلری طے ہوئی تھی وہ انہیں بطورِ نَذرانہ پیش کی جاتی رہی، کچھ عرصے  بعد وہ  سَیِّد صاحب خود ہی تشریف لے گئے ۔ ([3])جب میرے پاس  ڈاکٹر اور دُکاندار وغیرہ بڑے لوگ آتے ہیں تو میں انہیں یہ سمجھاتا رہتا ہوں کہ سادات کا خىال رکھا کرو اور اُن سے آدھا چارج لے لىا کرو اور اگر  غرىب سَىِّد ہو  تو  وىسے ہى نَذر کر دىا کرو ۔ یوں ہی غرىبوں سے  ہمدردى کرتے ہوئے ان سے بھى آدھا چارج لىں اور ہو سکے  تو  مُفت چیک اپ کر دىں ۔ اِس طرح کرنے سے اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ آپ کا مال جائے گا نہیں بلکہ آپ کے پاس  آئے گا۔ سادات کی دُعائیں لیں گے تو ان کے نانا جان، رَحمتِ عالمیان صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم اىسا نوازىں گے کہ  دُنىا تو دُنىا آخرت بھی سَنور جائے گى۔ مىرے آقا اعلىٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت  کو اللہ پاک نے ہر خوبی اتنی عطا کی ہے  کہ جس خوبى کى بات کرىں بس اس مىں بڑھتے ہى چلے جائىں  کہ گوىا اس کا سرا ہی نہیں ہے ۔ اب جو شخص اىسى خوبىوں کا جامع ، کامِل ولى اور ہمارا  مُرشِد ہو تو پھر ہمیں   ان   کا دامن چھوڑ  کر کسی اور کی طرف کیا دیکھنا ہے ۔ اسے اِس مثال سے سمجھیے کہ ہم نے بہترىن اور  لَذىذ بَرىانى کھائى پھر کہیں سے اُبلے ہوئے چاول آ گئے تو   انہیں کھانے کو اب ہمارا  جی کہاں  چاہے گا ؟لہٰذا جب ہم   اعلىٰ حضرت جیسی  ہَمہ جہت اور عَبقرى شخصىت کے دامن سے وابستہ ہو گئے تو  اب ہمارا ىہ ذہن ہو نا چاہیے  :

اب مىرى نِگاہوں مىں جچتا نہىں کوئى

جىسے مىرے رضا ہىں اىسا نہىں کوئى

 



[1]   یہ سُوال شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ کی طرف سے قائم کیا گیا ہے جبکہ جواب امیر اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا عطا فرمودہ  ہی ہے ۔  (شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ)

[2]   انوارِ رضا ص ۴۱۵ ملخصاً ضیاء القرآن پبلی کیشنز مرکز الاولیا لاہور

[3]   حیات اعلیٰ حضرت، ۱ / ۱۷۹ ملخصاً



Total Pages: 11

Go To