Book Name:Seerat e Ala Hazrat Ki Chand Jhalkiyan

قرآنِ کریم حِفظ کر لیا۔ ([1])اِس سے اَندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ   کا کتنا زَبردست اور زور دارحافظہ تھا! جبکہ ہماری حالت یہ ہے کہ بات کرتے کرتے بُھول جاتے ہیں اور دوسروں سے پوچھتے ہیں کہ ہم کیا بول رہے تھے ؟اللہ پاک ہمیں بھی قوتِ حافظہ نصیب فرمائے ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم   

كُتُب کے نام ، جلد، صفحہ اور سطر تک یاد ہوتی

اِسی طرح ایک بزرگرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہىں کہ اىک بار اعلىٰ حضرت  عَلَیْہِ رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّت بىمار ہوئے تو آپرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کو طبىب نے خود فتویٰ  لکھنے سے منع کر دىا، اب جو فتوىٰ لکھنا ہوتا آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  اس کا کچھ مضمون لکھ کر مجھ سے فرماتے کہ المارى سے فُلاں کتاب کی فُلاں جِلد  نکال کر لاؤ، میں جب وہ کتاب لے کر آتا تو فرماتے کہ  اتنے صفحے لوٹ لو اور فُلاں صفحہ پر اتنی سَطروں کے بعد یہ مضمون شروع ہو رہا ہے  اسے ىہاں نقل کر دو۔ وہ بزرگرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ میں وہ پورا مضمون لکھتا اور سخت مُتَحَیِّر (ىعنی بہت  حىران) ہوتا  کہ کون سا وقت مِلا تھا کہ جس میں صفحہ اور سَطر گِن کر رکھے گئے تھے ۔ غَرض ىہ کہ اعلىٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت کا حافظہ اور دِماغی باتیں ہم لوگوں کی سمجھ سے باہر تھیں۔ ([2])

اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت اتنے ذہین تھے کہ بچپن میں آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کو جو قاری صاحِب قرآنِ پاک پڑھایا کرتے تھے انہوں نے ایک بار اکیلے میں پوچھا کہ صاحبزادے سچ سچ بتاؤ تم اِنسا ن ہو یا جِن؟مجھے پڑھانے میں دیر  لگتی ہے مگر تمہىں ىاد کرتے دىر نہىں لگتى۔ مىرے آقا اعلىٰ حضرت  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت نے قاری صاحب سے کہا کہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ مىں اِنسان ہى ہوں۔ ([3])

اعلىٰ حضرت کا عشقِ رَسول

سُوال : اعلىٰ حضرت کے عشقِ رسول کے بارے میں کچھ بیان فرما دیجیے ۔ ([4])  

جواب : اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت کا عشقِ رَسول بھی بے مثال تھا۔ اگر کسی کو تھوڑی بہت سمجھ پڑتی ہو تو وہ اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت کے نعتیہ کلام حَدائقِ بخشش کو تھوڑا تھوڑا رَٹنا شروع کر دے اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ بہت بڑا عاشقِ رَسول بن جائے گا۔ جس شے کو سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے نسبت حاصِل ہے اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت اُس شے کا اَدب فرماتے ، یہاں تک کہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  مدینۂ مُنَوَّرہ زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًا وَّ تَعْظِیْماً کے کُتے کا بھی اَدب فرمایا کرتے اور اِس حوالے سے آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے حَدائقِ بخشش میں اَشعار بھی لکھے ہیں چنانچہ ایک مقام پر آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  فرماتے ہیں  :

رضا کسى سگِ طىبہ کے پاؤں بھى چومے

                             تم اور آہ کہ اتنا دماغ لے کے چلے                 (حدائقِ بخشش)

اِس شعر میں اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت  اپنے آپ کو مخاطب کر کے اِرشاد فرما رہے ہیں کہ” اے رضا!کبھی تو نے مدینے کے کُتے کے پاؤں بھی چومے ہیں؟تجھے اتنی سمجھ نہیں کہ مدینے کے کتے کے پاؤں چومے جاتے ہیں۔ “ بعض عقلمندوں کی سمجھ میں ایسے اَشعار نہیں آتے جس کے باعِث وہ تنقید کرنے لگتے ہیں ۔ یہ نصیب کی بات ہے کہ کوئی تنقید کرتا ہے اور کوئی اللہ پاک  کے وَلیوں کے پیچھے  چل کر اپنے لیے جنَّت کا سامان کرتا ہے ۔ جب اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت مدینے کے کُتوں کا اتنا اَدب کرتے  ہیں تو مدینے کے ساتھ نسبت رکھنے والے دِىگر جانوروں کا کتنا اَدب کرتے ہوں گے ، پھر جو مدىنے والے سے نسبت رکھتے ہیں  جىسے صَحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان، اہلِ بیتِ اَطہار اور ساداتِ کِرام ا ن  کا کتنا اَدب و اِحترام کرتے ہوں گے ۔ عام لوگ ساداتِ کِرام کا کتنا اَدب کرتے ہیں یہ مجھے پتا ہے اور آپ کو بھی اِس کا تجربہ ہو گا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ  دعوتِ اسلامی والے ساداتِ کِرام کا بڑا اَدب کرتے ہىں اور ىہ سارا اَدب میرے آقا اعلیٰ حضرت  عَلَیْہِ رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّت کے فىضان سے تقسیم ہوا ہے ۔  

مصطفے ٰ کا وہ لاڈلا پیارا

واہ کىا بات اعلىٰ حضرت کى

غوثِ اعظم کی آنکھ کا تارا

واہ کىا بات اعلىٰ حضرت کى

 



[1]   حیاتِ اعلیٰ حضرت، ۱ / ۲۰۸ بتغیر قلیل

[2]   یہ واقعہ بیان فرمانے والے بزرگ مولوی محمد حسین میرٹھی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی ہیں۔ (حیات اعلیٰ حضرت، ۱ / ۲۱۲ ماخوذاً)

[3]   حیات اعلیٰ حضرت، ۱ / ۶۸ ماخوذاً

[4]   یہ سُوال شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ کی طرف سے قائم کیا گیا ہے جبکہ جواب امیر اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا عطا فرمودہ  ہی ہے ۔  (شعبہ فیضانِ مدنی مذاکرہ)



Total Pages: 11

Go To