Book Name:Seerat e Ala Hazrat Ki Chand Jhalkiyan

اِسی طرح میرے دِل میں عاشقوں کے امام مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کی محبت بھی ایسی گھر کر گئی ہے کہ اب میں اِس طرح کسى اور سے مُتأثر نہىں ہوپاتا۔ جو چاہتا ہے کہ اعلیٰ حضرت  عَلَیْہِ رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّت کی محبت اُس کے دِل میں اُترجائے تو اُسے چاہیے کہ ایسے لوگوں کی صحبت میں بیٹھے جو رضا رضا کرتے ہوں اور اس کے عِلاوہ اعلیٰ حضرت  عَلَیْہِ رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّت  کی کُتُب اور آپ کی سیرت کا مُطالعہ بھى کرتا رہے ، اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نَس نَس مىں اعلیٰ حضرت کی  محبت رَچ بس جائے گی۔

یاد رہے کہ  اعلیٰ حضرت کی محبت دِل میں رَچنے بسنے سے یہ مُراد نہیں کہ مَعَاذَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  اب کسى اور بزرگ سے محبت نہىں کرنى۔ ہم تو فىضانِ  اَنبیا و اَولىا کے قائِل ہىں۔ تمام اَنبیائے کِرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ  وَالسَّلَام کو بھی مانتے ہیں، تمام صحابۂ کِرام اور اہلِ بیتِ اَطہار رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کو بھی مانتے ہیں اور تمام اَولیائے کِرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ  السَّلَام کو بھی مانتے ہیں۔ کسى مىں کچھ بھى نَقص بىان نہىں کرتے ۔

آپ اعلٰی حضرت کی کِس خوبی سے مُتأثر ہوئے ؟

سُوال : جب بندہ کسی سے مُتأثر ہوتا ہے تو کئى خوبىاں اس کے پىشِ نظر ہوتى ہىں مگر بعض خوبىاں اىسى ہوتى ہىں جو دِل کو زیادہ بہاتی ہیں۔ ایک مُرید کو بھی پیر صاحب کی بعض خوبیاں زیادہ پسند ہوتی ہیں، اعلىٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّت کی ذات اگرچہ خوبىوں کا مَجموعہ ہے لیکن اعلیٰ حضرت کا مُرید ہونے کے ناطے کیا آپ کو بھی ان تمام اچھى خوبىوں مىں سے بعض زىادہ پُرکشش لگتی ہیں؟ (نگرانِ شُورىٰ کا سُوال)

جواب : مىں اعلیٰ حضرت  عَلَیْہِ رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّت کی خوبیوں کو باہم تَرجیح دینے میں فیصلہ نہیں کر پا رہا کىونکہ مجھے اعلىٰ حضرت  عَلَیْہِ رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّت کى کسى خوبى مىں کوئی کمزورى نظر نہىں آ رہى  کہ جسے دیکھ کر میں دوسری خوبی کو اس پر تَرجیح دے سکوں۔ سارى ہی خوبىاں وزن دار ہىں۔ اللہ پاک کى محبت مىں ان کا کوئى جواب نہىں ہے ۔ عشقِ رسول کا وَصف دىکھو تو معراج کی بلندیوں پر ہے ۔ قرآنِ کرىم کے فہم مىں ان کا کوئى مِثل نہىں ، ان کے جىسا کوئى مُفَسِّر نہىں ، ان جىسا کوئی مُحَدِّث نہىں، ان جىسا کوئی مُفتى نہىں، ان جىسا کوئی  علّامہ نہىں ، بس ہر طرف رضا کے جَلوے ہی نظر آ رہے ہىں۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ جس سَمت آگئے ہىں سِکّے بٹھا دىئے ہىں۔ ہر جگہ اعلیٰ حضرت ، امام اہلسنَّت امام دِکھائی دیتے ہىں۔

اعلٰی حضرت کی  بابُ المدینہ تشریف آوری

سُوال : کیا اعلىٰ حضرت کبھی  بابُ المدىنہ(کراچى) تشرىف لائے ہىں؟

جواب : جى ہاں! اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّتکے مَلفوظات سے پتا چلتا ہے کہ بابُ المدىنہ (کراچى) کو اعلىٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّت کے قدم چُومنے کى سعادت ملى ہے ۔  

اَمیرِ اہلسنَّت کی بَریلی شریف میں حاضری

سُوال :  کیا اعلىٰ حضرت کے مَزار شرىف پر آ پ کا جانا ہوا ہے ؟

جواب : اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ بَرىلى شرىف مىں دو بار سفر کر کے حاضِرى کی سعادت نصیب ہوئى ہے ۔

اعلىٰ حضرت  کى ذِہانَت کے چند واقعات

سُوال : اعلىٰ حضرت  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت کى ذِہانَت کے کچھ واقعات بیان فرما دیجیے ۔

جواب : اعلیٰ حضرت  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت کی ذِہانَت کا اَندازہ اِ س واقعے سے  لگایا جا سکتا ہے کہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کو ایک کتاب کی ضَرورت تھی جسے آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  نے کسی سے حاصِل کیا۔ دینے والے نے کہا  : جب مُلاحظہ فرما لیں تو بھیج دیجیے گا۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے وہ  کتاب لی اور ایک  رات میں اس کا مُطالعہ کر لیا ۔ پھر کتاب واپس کرتے ہوئے فرمایا : اس کتاب کی کچھ  عبارتیں یاد ہو گئی ہیں اور مضمون تو اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  عمر بھر ذہن سے نہیں جائے گا۔ ([1])اِسی طرح اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّت کى سىرتِ طیبہ  مىں یہ  حِکاىت بھى ملتى ہے کہ لوگوں نے جب  آپرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کو ”حافظ“لکھا تو آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کو ىوں محسوس ہوا کہ لوگ مجھے حُسنِ ظَن کى وجہ سے حافِظ کہتے ہىں حالانکہ  مىں حافِظ نہىں ہوں۔ چنانچہ ایک  رَمضان شرىف کے مہىنے  میں آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  مغرب اور عشا کے دَرمیان ایک پارہ  غور سے دیکھ لیتے جو آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کو یاد ہو جاتا اور یوں آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  نے ماہِ رَمَضان میں پورا



[1]   اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّت نے جن سے کتاب لی وہ مولانا وصی احمد مُحَدِّثِ سُورتی  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی تھے اور وہ کتاب”عُقُوْدُ الدُّرِّیَّۃ فِیْ تَنْقِیْحِ الْفَتَاوَی الْحَامِدِیَّۃ“ہے ۔

(حیاتِ اعلیٰ حضرت، ۱ /  ۲۱۳ ماخوذاً مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی)



Total Pages: 11

Go To