Book Name:Seerat e Ala Hazrat Ki Chand Jhalkiyan

بڑھتے آج اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ تناور دَرخت بن گىا ہے ۔ تحدىثِ نعمت کے لىے کہہ رہا ہوں کہ آج اىک دُنىا ہے جو اِس دَرخت کا پھل کھا رہى ہے اور  رضا رضا پُکار رہی ہے ۔ بس یہ اللہ پاک کى رَحمت اور اس کا کرم ہے ۔ اللہ پاک کی بارگاہ میں دُعا ہے کہ جس طرح اس نے دُنىا مىں اعلیٰ حضرت  عَلَیْہِ رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّت کے فىوض وبرکات سے ہمیں مالا مال فرماىا آخرت مىں بھی ان کی بَرکات سے ہمیں  محروم نہ کرے ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم

اعلٰی حضرت سے مُتأثر رہنے پر اِستقامت پانے کا سبب

سُوال : اِنسان کسى سے مُتأثر ہو جاتا ہے لىکن بعض اوقات مستقل مُتأثر رہتا نہىں ہے ۔ مُتأثر ہونا ىہ اپنى جگہ پر ہے لىکن مستقل طور پر کوئی کسی سے  مُتأثر  رہے  ىہ اىک الگ موضوع ہے ۔ آپ کے اعلىٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّت کى ذاتِ مُبارَکہ سے مُتأثر ہونے اور پھر اِس پر اِستقامت پانے کے اگر کوئى اَسباب ہوں تو بىان فرما دیجئے ؟(نگرانِ شُورىٰ کا سُوال)

جواب : اصل میں یہ اپنى اپنى قسمت کی بات  ہوتى ہے ۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ  میری خوش نصیبی کہ میں اعلیٰ حضرت  عَلَیْہِ رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّتسے مُتأثر ہوگیا اور پھر یہ عقیدت دِن بدن بڑھتی چلی گئی۔ جب میں نے جوانی کی دَہلیز پر قدم رکھا تو کسى لائبرىرى کا مِمبر بن گیا۔ وہاں اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّت کے فتاویٰ کے مجموعے مثلاً اَحکامِ شَرىعت، عِرفانِ شرىعت اور مَلفوظاتِ اعلىٰ حضرت وغیرہ لیتا اور انہیں  تھوڑا تھوڑا کر کے  پڑھتا کہ اگر یہ ختم ہوگئی تو پھر کیا پڑھوں گا؟بس یہ میرے جَذبات تھے اور ان مختصر کُتُب میں شَرعی مَسائِل پڑھ کر مجھے اتنا مَزہ آتا تھا کہ بس پڑھتا چلا جاتا ۔ پتنگ اُڑانا کیسا ہے ؟ جھینگا کھانا کیسا ؟ اِس طرح کے دِلچسپ مَسائِل جو عموماً عوام کو معلوم نہیں ہوتے انہیں پڑھ کر لُطف آتا۔ فتاوىٰ رضوىہ شریف کا تو شاید اس وقت نام بھی نہىں سُنا تھا۔ بہرحال اللہ پاک نے بڑا کرم کىا کہ اپنے وَلیٔ    کامل، عاشقِ رَسول اور عظیم  عالِمِ دِین   و مُفتىِ اِسلام  کا دامن عطا فرمایا۔ عالِم اور مُفتى تو  اور بھی بہت ہیں  مگر احمد رضا جىسا کوئى نہیں۔ آخری دو چار صَدیوں مىں آپ جىسا کوئی پىدا ہوا ہو مىرى معلومات مىں نہىں ہے ۔ اِس بات کی گواہی ہر وہ شخص دے گا جو فتاویٰ رضویہ کا بغور مُطالَعہ کرے ۔ کوئی بھی عِلم دوست شخص جس کی اُردو اچھى ہو اور کچھ نہ کچھ عَربى فارسى بھى سمجھ لىتا ہو تو جب وہ فتاوىٰ رضوىہ پڑھے گا  تو وہ مُتأثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا، اس لیے کہ اس مىں علمی تحقیق کی اتنى گہرائى  پائے گا  کہ جس کا تلہ نہیں ملے گا۔ اگر کوئی نیوٹرل آدمی بھی اُردو فتاوىٰ کا تَقابل کرے تو وہ  فتاویٰ رضویہ کو ہی ہر لحاظ سے فائِق (بڑھ کر)پائے گا۔  

اعلٰی حضرت کی داڑھی والوں سے محبت

سُوال : سُنا ہے کہ اعلیٰ حضرت، امام اہلِ سُنَّت عَلَیْہِ رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّت داڑھی والوں کو اپنی مجلس میں خاص مقام دیتے تھے ؟ ([1])  

جواب : جی ہاں!اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّت داڑھی والے اَشخاص کو خاص مقام دیتے تھے ۔ اعلىٰ حضرت کی مجلس مىں جب شىرىنى بٹتى تھى تو ساداتِ کِرام اور داڑھى والوں کو دُگنی دی جاتى تھى۔ عاشقانِ اعلیٰ حضرت کو چاہیے کہ اپنے چہروں کو سُنَّتِ مصطفے ٰ سے سجائیں کہ جن  کا ہم 100 سالہ عُرس مَنا رہے ہىں وہ داڑھی والے تھے ، ان کے  شہزادوں کى بھی داڑھى تھى۔ داڑھی تو ہر مسلمان کو  رکھنی چاہیے کیونکہ داڑھی مُنڈانا یا ایک مٹھی سے گھٹانا حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے ۔

اعلٰی حضرت کے ہی ہو کر کیسے رہ گئے ؟

سُوال : دُنیا والوں کے اِعتبار سے عاشِق تو دِل پھینک ہوتا ہے ، کبھى اِدھر دِل دے دىا کبھى اُدھر دے دىا  لیکن آپ نے اعلىٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ میں ایسی کیا خاص بات دیکھی کہ انہیں کو دِل دیا اور پھر انہیں کے ہو کر رہ گئے ؟(نگرانِ شُورىٰ کا سُوال)

جواب : اپنا تو یہ ذہن ہے کہ جب دِل ایک کو دے دیا تو اب کسی اور کو نہ دو ۔ جیساکہ بىکل بہرام پورى مَرحوم کى اىک رُباعى ہے :  

تارے خموش ہیں بڑى اندھىارى رات ہے

اِىماں کے لوٹنے کے لىے ڈاکوؤں کى گھات ہے

اے ڈاکوؤ! ىہ جسم لو ىہ جان لوٹ لو

ىہ دِل نہ دوں گا اس مىں مدىنے کى بات ہے

یعنی ىہ دِل مىں نے مدىنے والے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو دے دىا ہے ، اب ىہ تمہیں نہىں دوں گا، باقى جو چاہو لُوٹ لو ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ  عَزَّوَجَلَّ مىرے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا اِتنا کَرم ہے کہ مىرا اِىمان تم نہىں لُوٹ سکتے ، اس لیے کہ مىں نے یہ دِل مدىنے والے کے قدموں مىں ڈال دىا ہے اب وہاں سے چُرانے کی ہمت کسی میں نہیں ۔

 



[1]   یہ سُوال شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ کی طرف سے قائم کیا گیا ہے جبکہ جواب امیر اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا عطا فرمودہ  ہی ہے ۔  (شعبہ فیضانِ مدنی مذاکرہ)



Total Pages: 11

Go To