Book Name:Seerat e Ala Hazrat Ki Chand Jhalkiyan

آقا و مولیٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم جو یقیناً اللہ پاک کی مخلوق میں سب سے افضل ہستی ہیں ان کا تَذکرہ کریں گے ، اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  مَرحبا کی ایسی دھومیں مچائیں گے کہ ہماری آوازیں بادلوں سے ٹکرا جائیں گی۔ (اس موقع پر نگرانِ شُوریٰ نے فرمایا : )اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّت کے اِس شعر کو اپنے لیے مَشعلِ راہ بنائیں گے :

خاک ہو جائیں عَدو جَل کر مگر ہم تو رضاؔ

                      دَم میں جب تک دَم ہے ذِکر اُن کا سُناتے جائیں گے         (حدائقِ  بخشش)

اعلٰی حضرت کی سب سے پہلی کتاب

سُوال   : اعلىٰ حضرت نے اپنى زندگى مىں سب سے پہلى کون سى کتاب لکھى ہے ؟

جواب : (یہاں امىرِ اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے قریب بیٹھے ہوئے مفتی صاحب نے فرمایا : ”) اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّتنے آٹھ سال کى عمر مىں عِلمِ نحو کى مشہور کتاب ہِدَایَۃُ النَّحْو کى شَرح عربى زبان مىں تحرىر فرمائى تھى۔ “(امىر اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہنے فرمایا : )یہ اعلیٰ حضرت، امام اہلسنَّت عَلَیْہِ رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّت کی خُداداد صَلاحیتیں تھی کہ اتنی چھوٹی عمر میں عِلمِ نحو کی کتاب پر عربی میں شَرح تحریر فرمائی ۔ عِلمِ نحو یہ ایک فَنّ ہے ، شاید ہمیں تو بعد میں یہ بھی یاد نہ رہے کہ کِس فَنّ پر کتاب لکھی تھی لیکن اعلىٰ حضرت تو اعلىٰ حضرت ہىں کہ اتنی کم عمری میں عربی شَرح لکھ ڈالی۔ اعلىٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّت کىHand Writing   (یعنی ہاتھ کی لکھائی)بھی بہت خوبصورت تھى۔ اعلىٰ حضرت کے قلمى نسخے جنہیں مخطوطات بھی کہا جاتا ہے  ان میں خوبصورت کتابت دیکھ کر ایسا لگتا ہے جیسا کہ پىشہ ور کاتِب سے لکھوائے گئے ہوں حالانکہ وہ اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّت نے اپنے ہاتھ سے لکھے ہیں۔  

اگر نماز کے وقت گاہک آجائے تو۔ ۔ ۔ ؟

سُوال : بسااوقات نماز کے وقت کوئی گاہک دُکان پر آجاتا ہے ، اب اس وقت دُکاندار کو  کىا کرناچاہىے ؟

جواب : نماز کے وقتCustomer(یعنی گاہک)آجائے تو اسے بھى اپنے ساتھ نماز کے لىے چلنے کی دعوت دیجئے اور دعوتِ اسلامی کی نمازى بڑھاؤ تحرىک کا حصّہ بن جایئے ۔ اعلىٰ حضرت  عَلَیْہِ رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّت نے تو دَورانِ سفر نماز کی خاطِر قافلہ  ہى چھوڑ دىا تھا۔ ([1])اور ہم ہیں کہ اىک گاہک چھوڑنے کو تىار نہىں۔ Customer(یعنی گاہک) اگر آپ کی نمازِ باجماعت کی دعوت دینے پر مسجد نہیں جاتا جب بھی آپ کو نىکى کى دعوت دىنے کا ثواب تو مِل ہی جائے گا۔ ہمارا کام  مَنوانا نہیں بس دَعوت پہنچانا  ہے ۔

بچیوں کو پَردے کی عادت کب سے ڈالیں؟

سُوال : مَدَنى ماحول سے وابستہ گھرانوں میں مَدَنى منىاں اپنے طور پر نماز پڑھنے کى کوشش کرتى ہىں، سجدہ کرتى ہىں، دُعا کرتى ہىں، ذِکر و اَذکار کرتى ہىں، بىان کرتى اور  نعرے بھى لگاتى ہىں تو کىا اسلامى بہنىں مَدَنى منىوں کو پَردہ کرنے کى تَرغىب بھی دِلائىں، اِس  بارے مىں کچھ  راہ نمائى فرما دىجئے ۔

جواب : بچہ بڑوں کے نقشِ قدم پر چلتا ہے یہی وجہ ہے کہ جب گھر میں کوئی بڑا نمازپڑھتا ہے تو بچہ برابر مىں جا کر کھڑا ہو جاتا ہے اور اپنے انداز میں رُکوع اور سجدے کرتا ہے پھراُٹھ کر بھاگ جاتا ہے ۔ زہے نصىب! بچپن سے ہی دِیگر اچھی عادات کے ساتھ ساتھ مَدَنی مُنّیوں کو پَردہ کرنا بھى سِکھاىا جائے ۔ ان کا لباس بھی حىا والا ہونا چاہىے ۔ بعض لوگ چھوٹى بچىوں کو چُست چِپکا ہوا پاجامہ پہناتے ہىں تو ایسے لباس کے بجائے ڈھىلا ڈھالا سا لباس ہو جس مىں رانوں اور پنڈلىوں کى گولائى نظر نہ آئے ۔ پھر جب بچی کچھ سمجھدار ہو تو اسے شَرم و حىا کا دَرس دىا جائے ۔ اعلىٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّت فرماتے ہىں : حدىث شرىف مىں ہے کہ لڑکىوں کو سورۂ ىوسف کى تفسىر نہ پڑھائى جائے بلکہ سورۂ نور کى تفسىر پڑھائى جائے کیونکہ سورۂ ىوسف مىں عورت کے مَکر کا ذِکر ہے ۔ ([2]) زلىخا کو حضرتِ سیِّدُنا یوسف عَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے عشق ہو گىا تھا۔ یہ عشق یک طرفہ یعنی صِرف زلیخا کی طرف سے تھا۔ حضرتِ سیِّدُنا ىوسف عَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا دامن اس سے پاک تھا۔ بعض لوگ مَعَاذَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اپنے جھوٹے سڑے ہوئے عشق کو دُرُست ثابت کرنے کے لیے حضرتِ سیِّدُنا یوسف عَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامپر بھی عشق کا اِلزام لگاتے ہیں تو ان کا ایسا کہنا بالکل غَلَط ہے ۔ چونکہ سورۂ یوسف کی تفسیر میں ایک عورت کے عشق کا واقعہ ہے لہٰذا لڑکىوں کو اس سورت کی تفسیر پڑھنے سے منع کر دیا گیا کہ کہیں وہ پڑھ کر غَلَط اَثر نہ لے لیں ۔

 



[1]   ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت، ص۲۱۷ ماخوذاً

[2]   فتاویٰ رضویہ، ۲۴ / ۴۵۵ ماخوذاً 



Total Pages: 11

Go To