Book Name:Seerat e Ala Hazrat Ki Chand Jhalkiyan

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ط

سیرتِ اعلٰی حضرت کی چند جھلکیاں ([1])

شیطان لاکھ سُستی دِلائے یہ رِسالہ(۳۷ صَفحات) مکمل پڑھ لیجیے اِنْ  شَآءَ اللّٰہ  عَزَّ وَجَلَّ   معلومات کا اَنمول خزانہ  ہاتھ آئے  گا۔

دُرُود شریف کی فضیلت

فرمانِ مصطفے ٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ہے : جس نے مجھ پر اىک بار دُرُودِ پاک پڑھا اللّٰہ پاک اُس پر  دَس  رَحمتىں نازِل فرماتا ہے ۔ ([2])        

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                                    صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

اعلیٰ حضرت کی پہچان کب اور کیسے ہوئی؟

سُوال :  جب مجھے دعوتِ اسلامى کا مَدَنى ماحول ملا تو مىں آپ کا مُرىد بنا  اور پھر  آپ کى زبان سے پہلی بار اعلىٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّت کا ذِکر سُنا، اِس سے پہلے اعلىٰ حضرت کا نام سُننا یاد نہیں پڑتا یا اگر سُنا تھا تو توجہ نہىں ہو گى۔ ىوں میری طرح ایسے لاکھوں اِسلامى بھائى ہوں گے جنہوں نے دعوتِ اسلامى میں آکر آپ کے بىانات کے ذَرىعے اعلىٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّت کا نام اور تَعارُف سُنا ہو گا۔ اب اگر کوئی مجھ سے سُوال کرے کہ اعلىٰ حضرت کا نام کىسے سُنا اور تَعارُف کیسے ہوا؟ تو مىں جواب دوں گا کہ امىرِ اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے ذَرىعے ۔ اب اگر یہی سُوال کوئی آپ سے کرے کہ آپ کو اعلىٰ حضرت کا نام کىسے پتا چلا، اِس قدر وارفتگى اور محبت کیسے ملی تو آپ کىا جواب دىں گے ؟(نگرانِ شُورىٰ کا سُوال)

جواب : میں نے جب سے ہوش سنبھالا تو محلے کی بادامى مسجد(گؤگلی میٹھادر اولڈ سٹی بابُ المدینہ کراچی)سے دُرُود وسَلام اور نعتوں کی آوازیں سُنىں۔ چونکہ بچہ سادہ لوح (یعنی سادہ تختی کی مانِند)ہوتا ہے تختی پر جو لِکھا جائے وہ نَقش ہو جاتا ہے تو اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ بچپن  میں نعت و دُرُود والا ماحول ایسا ذہن میں رَچا بسا کہ اب تک باقی ہے ۔ اگر محلے کی مسجد میں عاشقانِ رَسول کى اِنتظامىہ ہو یا  امام عاشقِ رَسول ہو تو وہ عشقِ رَسول کے جام بھر بھر کر تقسىم کرے گا اور اگر مُعاملہ اِس کے اُلَٹ ہوا تو اب اَثر بھی اُلٹا پڑے گا اور عَقائِد میں خرابی ہو سکتی ہے ۔ عَقائِد میں خرابی ہو اللہ پاک اس سے پہلے اِىمان و عافىت کے ساتھ مدىنے مىں شہادت عطا فرمائے ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم 

اعلیٰ حضرت کا پہلا تَعارُف

بادامی مسجد کى اِنتظامىہ کے اىک فَرد حاجى زَکرىا گونڈل کے مىمن تھے ۔ گونڈل ہند گجرات کا اىک شہر ہے جہاں دعوتِ اسلامى کے مَدَنى قافلے کے ساتھ میری حاضِری ہوئی تھی۔ وہاں کے اِسلامى بھائىوں نے بتایا تھا کہ ىہاں اىک بھى بَدمذہب نہىں ہے جتنے بھی کلمہ گو ہیں سب کے سب عاشقانِ رَسول ہىں۔ اىک بار  مىں اسى بادامى مسجد مىں نماز پڑھ کر بىٹھا تھا  کہ حاجى زَکرىا مَرحوم نے دَورانِ گفتگو اعلیٰ حضرت کا نام لیا اور مولانا احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کہا۔ اب میری عمر اُس وقت تقریباً  نو سال تھی لیکن اتنی سمجھ تھی کہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کسی وَلی کے نام کے  ساتھ ہی بولا جاتا ہے کیونکہ ہم میمنوں کے گھروں میں غوثِ پاکعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الرَّزَّاق اور خواجہ غریبِ نواز رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کا ذِکر کثرت سے ہوتا ہے اور ان کی نیاز اور ان کے نام کے ساتھ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  بولنے کا اِلتزام کیا جاتا ہے لہٰذا حاجی زَکریا سے اعلیٰ حضرت کے نام کے ساتھ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  سُن کر میں چونکا کہ کیا یہ بھی کوئی ولی ہیں جو ان کے نام کے ساتھ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ لگایا ہے ؟ اِس پر حاجی زَکریا نے اعلیٰ حضرت کا اچھے اَلفاظ کے ساتھ تَعارُف کروایا کہ ىہ بہت نىک آدمی اور بہت بڑے وَلِىُّ اللہ تھے ۔ یوں اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّت کا پہلا تعارف ہوا۔  

اعلٰی حضرت  کى مَعرفَت کا بیج تناور دَرخت بن گیا

اس سے پہلے اَشعار مىں رضا رضا سُنتا تھا مگر کچھ سمجھ نہىں پڑتى تھى کہ ىہ رضا کون ہىں؟لیکن پھر  اُس دِن پتا چلا کہ ىہ رضا کوئى عام شاعِر نہىں بلکہ بہت بڑى شخصىت کے مالِک ہىں۔ پھر دِن گزرتے گئے اور حاجى زَکرىا نے رضا کى حقىقت اور مَعرفت کا جو بىج بویا تھا وہ اندر جڑ پکڑتا گىا اور 60 سال کے عرصے میں بڑھتے



[1]   یہ رِسالہ ۲۵صَفَرُ الْمُظَفَّر ۱۴۴۰؁ ھ بمطابق 3 نومبر 2018 کو عالمی مَدَنی مَرکز فیضانِ مدینہ بابُ المدینہ (کراچی) میں ہونے والے مَدَنی مذاکرے کا تحریری گلدستہ ہے ، جسے اَلْمَدِیْنَۃُ الْعِلْمِیَّۃ کے شعبے  ’’  فیضانِ مَدَنی مذاکرہ ‘‘ نے مُرتَّب کیا ہے ۔ (شعبہ فیضانِ  مَدَنی مذاکرہ)       

[2]   مسلم، کتاب الصلاة، باب الصلاة  علی النبی...الخ، ص۱۷۲، حدیث : ۹۱۲ دار الکتاب العربی بیروت



Total Pages: 11

Go To