Book Name:Ummahatul Momineen

آگیا ہے جسے اپنے پہلے شوہر کنانہ سے بیان کیا۔ اس نے کہا کہ تو اس بات کی خواہش رکھتی ہے کہ اس بادشاہ کی بیوی بنے جو مدینہ میں ہے اور ایک طمانچہ حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو مارا جس سے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی آنکھ نیلی پڑ گئی،اس طمانچہ کا اثر ظاہر تھا، سرور دوعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم  کے استفسار پر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ساری حقیقت حال بیان کردی۔

 (الطبقات الکبریٰ لابن سعد،ذکر ازواج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم،ج۸،ص۹۶)

سیدہ صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا ادب

          غزوہ خیبرسے واپسی پر حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم  نے اپنے پائے مبارک سواری پر رکھے تاکہ سیدہ صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اپنے قدموں کو حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم  کی ران پر رکھ کر سوار ہوجائیں ۔ سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اپنے قدم کے بجائے اپنے زانو کو حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم  کی ران پر رکھ کر سوار ہوگئیں ۔ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم  نے ان کو اپنا ردیف بنایا اور پردہ باندھا۔

 (الطبقات الکبریٰ لابن سعد،ذکر ازواج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم،ج۸،ص۹۶)

          حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم  سیدہ صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی باری کے دن ان کے پاس تشریف لائے، سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو روتا پا کر سبب گریہ وزاری پوچھا عرض کیا: سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور سیدہ حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا آکر مجھے ایذا دیتی ہیں ، کہتی ہیں کہ ہم صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے بہترہیں کیونکہ ہمیں نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم  کے نسب مبارک کی شرافت حاصل ہے، حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم  نے فرمایا :تم نے کیوں نہیں کہا کہ تم کیوں کر مجھ سے بہتر ہو، حالانکہ میرے باپ


 

 



Total Pages: 58

Go To