Book Name:Ummahatul Momineen

آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا وصال تریپن سال کی عمر میں  ۲۰ھ؁ یا  ۲۱ھ؁ مدینہ شریف میں ہوا اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا جنت البقیع میں مدفون ہوئیں ۔

(مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم،درذکر ازواج مطہرات وی،ج۲،ص۴۷۸)

{۸}ام المؤمنین سیدہ جویریہ بنت الحارث رضی اللہ تعالیٰ عنہا

          ام المؤمنین سیدہ جویریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کانام بھی برہ تھا، حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم  نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نام تبدیل کرکے جویریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا رکھ دیا تھا۔

          حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ گویا حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم  اس کو مکروہ جانتے تھے کہ کوئی یہ کہے ’’برہ کے پاس سے نکل آئے ‘‘۔ (برہ کے معنی نیکی و احسان کے ہیں ۔)(المرجع السابق،ص۴۷۹)

نکاح مع سید المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم

          ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے منقول ہے کہ سیدہ جویریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بڑی شیریں ، ملیح اورصاحبِ حسن و جمال عورت تھیں ۔ جب سرکار دو عالم  صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئیں ، تو انہوں نے سب سے پہلی بات یہ کہی کہ یارسول اللہ! صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم  میں مسلمان ہو کر حاضر ہوئی ہوں ، اشھدان لاالہ الا اللہ وانک رسولہ اور میں حارث بن ابی ضرار کی بیٹی ہوں جو اس قبیلہ کا سردار اور پیشوا تھا، اب لشکر اسلام کے ہاتھوں میں قید ہوں ، اور حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہکے حصہ میں آگئی ہوں ، اور انہوں نے مجھے اتنے مال پر مکاتب ( مکاتب اس غلام کو کہتے ہیں جس نے اپنے آقا سے مال کی ادائیگی کے بدلے آزادی کا معاہدہ کیاہواہو۔مختصر القدوری،کتاب المکاتب،ص۳۷۶) بنایا ہے کہ میں اسے ادا نہیں کرسکتی،میں امید رکھتی


 

 



Total Pages: 58

Go To