Book Name:Ummahatul Momineen

تاکہ جانیں کہ کس کے ہاتھ زیادہ دراز ہیں ۔

          انہوں نے جانا کہ سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاتھ زیادہ دراز ہیں ، جب حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم  کے وصال فرمانے کے بعد سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا دار فانی سے رخصت ہوئیں تو انہیں معلوم ہوا کہ درازی سے مراد صدقہ و خیرات کی کثرت تھی، اس لئے کہ سیدہ زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا اپنے ہاتھ سے دستکاری کرتیں اور صدقہ دیتی تھیں ۔

    (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم،درذکر ازواج مطہرات وی،ج۲،ص۴۷۸)

          سیدہ زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم  سے عرض کیا:مجھے چند فضیلتیں ایسی حاصل ہیں جوآپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی کسی اور زوجہ کوحاصل نہیں ایک یہ ہے کہ میرے جد اورآپ کے جد ایک ہیں ،دوسرے یہ کہ میرا نکاح آسمان میں ہوا تیسرے یہ کہ اس قصہ میں جبرائیل علیہ السلام سفیر و گواہ تھے۔

    (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم،درذکر ازواج مطہرات وی،ج۲،ص۴۷۸)

          ام المؤمنین سیدہ زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے گیارہ حدیثیں مروی ہیں دو متفق علیہ یعنی بخاری ومسلم میں ہیں اور باقی نو دیگر کتابوں میں ہیں ۔

   (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم،درذکر ازواج مطہرات وی،ج۲،ص۴۷۸)

وصال

       ان کے وصال کی خبر جب سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو پہنچی توفرمایا: ’’پسندیدہ خصلت والی،فائدہ پہنچانے والی،یتیموں اور بیواؤں کی خبر گیری کرنے والی دنیا سے چلی گئی۔‘‘ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی نمازجنازہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پڑھائی


 

 



Total Pages: 58

Go To