Book Name:Ummahatul Momineen

میری عاقبت کو اچھی بنا۔ پھر میں اسی دعا پر قائم ہوگئی اور اللہ تعالیٰ نے مجھے ابو سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بہتر عوض عطا فرمایا۔ اور وہ محبوب رب العالمین صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم  تھے۔

    (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم،درذکر ازواج مطہرات وی،ج۲،ص۴۷۵)

          حضرت ابو سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے وصال پر حضور تاجدار مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم  تعزیت کے لئے ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر تشریف لائے اور دعا فرمائی۔ اے خدا ان کے غم کو تسکین دے اور ان کی مصیبت کو بہتر بنا اور بہتر عوض عطا فرما۔

    (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم،درذکر ازواج مطہرات وی،ج۲،ص۴۷۵)

          ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہمانے اپنا اپنا پیام بھیجا لیکن حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ان کے پیام کو منظور نہ فرمایا پھر جب حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کا پیام آیا تو کہا: ’’مرحبا برسول اللہ‘‘صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم ۔سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے نکاح ماہ شوال  ۴ھ  ؁ میں ہوا۔ ان کا مہر ایسا سامان جو دس درہم کی مالیت کاتھا مقرر ہوا۔

  (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم،درذکر ازواج مطہرات وی،ج۲،ص۴۷۵)     

          ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے تین سو اٹھترحدیثیں مروی ہیں ان میں تیرہ حدیثیں بخاری و مسلم میں صرف بخاری میں تین حدیثیں اور تنہا مسلم میں تیرہ اور باقی دیگر کتابوں میں مروی ہیں ۔ (المرجع السابق،ص۴۷۶)

وصال

          ام المؤمنین حضرتِ ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا وصال امہات المؤمنین میں سے سب سے آخر میں ہوا۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا وصال   ۵۹ھ؁ میں ہوا جو صحیح تر ہے اور


 

 



Total Pages: 58

Go To