Book Name:Ummahatul Momineen

    بعد ِوصالِ حضرت خُنیسرضی اللہ تعالیٰ عنہ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی صاحبزادی کے نکاح کے لئے حضرت عثما ن غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا مگر انہوں نے اثبات میں جواب نہ دیا، اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملاقات کی اور فرمایا کہ اگر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہکی خواہش ہو تو حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نکاح آپ کے ساتھ کردوں ! اس پر ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ خاموش رہے اور کوئی جواب نہ دیا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں مجھے غصہ آگیا اور یہ غصہ اس سے زیادہ تھا جتنا کہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر آیا تھا۔ اس کے بعد چند راتیں گزری تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم  نے پیام دیا اور میں نے حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکانکاح حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم سے کردیا۔ پھر سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ شاید آپ اس وقت مجھ پر ناراض ہوگئے تھے جب آپ کی پیش کش پر میں نے کوئی جواب نہ دیا۔ میں نے کہا :میں ناراض ہوگیا تھا۔ صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: آپ کی پیش کش کا انکار تو نہیں کیا تھا البتہ میں یہ جانتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم  نے حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو یاد فرمایا ہے اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم  کے راز کو افشا نہیں کیا۔ اگر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم  انہیں قبول نہ فرماتے تو میں قبول کرلیتا۔

             (الطبقات الکبریٰ لابن سعد، ذکر ازواج رسول اللہ، ج۸، ص۶۵،ملخصاً)

خوشخبری

          حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں :رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کوطلاق دینے کاارادہ فرمایاتوحضرت جبریل علیہ السلام نے حاضرہوکرعرض کی:آپ انھیں طلاق نہ دیں کیونکہ وہ شب بیدار،بکثرت


 

 



Total Pages: 58

Go To