Book Name:Ummahatul Momineen

کومناتے ہوئے فرمایا:کیاتم نے نہ دیکھاکہ میں تمہارے اوران( حضرت ابوبکرصدیقرضی اللہ تعالیٰ عنہ)کے درمیان حائل ہوگیا۔راوی فرماتے ہیں :پھرجب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ حاضرہوئے توسیدعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم  اور حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو بہت خوش پایا توآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی بہت خوش ہوئے۔

(المسندللامام أحمدبن حنبل،مسند الکوفیین،حدیث النعمان بن بشیر،ج۲،ص۲۵۴)

          حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں :مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم  نے فرمایا: میں جانتا ہوں جب تم مجھ سے راضی رہتی ہو اور جب تم خفا رہتی ہو میں نے پوچھا:آپ کیسے پہچانتے ہیں ؟ فرمایا:جب تم مجھ سے خوش رہتی ہو توکہتی ہو محمدصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے رب عزوجل کی قسم! اور جب ناراض رہتی ہوتوکہتی ہو ابراہیم علیہ السلام کے رب کی قسم! میں نے عرض کیا: ہاں ! یہی بات ہے میں صرف آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کا نام ہی چھوڑتی ہوں ۔

(صحیح البخاری،کتاب النکاح،باب غیرۃ النساء ...الخ،الحدیث ۵۲۲۸،ج۳، ص۴۷۱)

           مطلب یہ ہے کہ اس حال میں صرف آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کا نام نہیں لیتی۔ لیکن آپصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم  کی ذات گرامی اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی یاد میرے دل میں اور میری جان آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت میں مستغرق ہے۔

تفقہ فی الدین

          حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فقہاوعلماوفصحابلغااور اکابرمفتیانِ صحابہ میں سے تھیں اور حدیثوں میں آیا ہے کہ تم اپنے دو تہائی دین کو ان حمیرا(یعنی عائشہ


 

 



Total Pages: 58

Go To