Book Name:Ummahatul Momineen

نکاح مع سید المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم

          حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکے انتقال سے آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلمکو نہایت پریشانی ہوئی ،کیونکہ گھر بار ،بال بچوں کا انتظام ان ہی سے متعلق تھا۔ یہ دیکھ کر خولہ بنت حکیم رضی اللہ تعالیٰ عنہانے عرض کیا:یارسول اللہ!صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم آپ نکاح کر لیجئے ،فرمایا: کس سے؟ خولہ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے حضرت عائشہ وسودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہماکا نام لیا ۔آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلمنے دونوں سے خواستگاری کی اجازت دیدی۔ خولہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکے پاس گئیں اور کہا کہ خدا عزوجل نے تم پر کیسی خیروبرکت نازل فرمائی ہے ۔سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے پوچھاکہ وہ کیا ہے! خولہ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلمنے مجھے آپ کے پاس بغرض خواستگاری بھیجا ہے، انہوں نے کہا کہ مجھے منظور ہے مگر میرے باپ سے بھی دریافت کرلو۔ چنانچہ وہ ان کے والد کے پاس گئیں اور جاہلیت کے طریق پر سلام کیا یعنی انعم صباحاکہا انہوں نے پوچھا کہ تم کون ہو؟ خولہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اپنا نام بتایا پھر نکاح کا پیغام سنایا انہوں نے کہا کہ محمد(صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم) شریف کفو ہیں مگر سودہ سے بھی دریافت کرلو۔خولہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا کہ وہ راضی ہیں ۔یہ سن کر زمعہ نے کہا کہ نکاح کے لیے آجائیں ۔

  (شرح العلامۃ الزرقانی،الفصل الثالث،سودۃ ام المؤمنین رضی اللہ عنھا ،ج۴،ص۳۷۹)

          بعض روایتوں کے مطابق حضرت خدیجۃ الکبری رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے وصال کے بعد حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم  کے نکاح میں آئیں


 

 



Total Pages: 58

Go To