Book Name:Ummahatul Momineen

جبرائیل علیہ السلام نے آغوش میں لے کربھینچاپھرچھوڑکر کہا:

اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِیْ خَلَقَۚ(۱)خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍۚ(۲)اِقْرَاْ وَ رَبُّكَ الْاَكْرَمُۙ(۳)الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِۙ(۴)عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْؕ(۵) (پ۳۰،العلق:۱تا۵)

ترجمۂ کنزالایمان : پڑھو اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا آدمی کو خون کی پھٹک سے بنایا پڑھو اور تمہارا رب ہی سب سے بڑا کریم جس نے قلم سے لکھنا سکھایا آدمی کو سکھایا جو نہ جانتا تھا۔

        اس پر مژدہ واقعہ سے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی طبیعت بے حد متأثِر ہوئی گھر واپسی پر سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فرمایا: ’’ زملونی زملونی‘‘مجھے کمبل اڑھائو مجھے کمبل اڑھائو۔ سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے آپ  صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم  کے جسم انور پر کمبل ڈالا اور چہرہ انور پر سرد پانی کے چھینٹے دیئے تاکہ خشیت کی کیفیت دور ہو۔ پھر آپ  صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے سارا حال بیان فرمایا۔ سیدہ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے آپ  صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم  کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے ساتھ اچھا ہی فرمائے گاکیونکہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلمصلۂ رحمی فرماتے، عیال کا بوجھ اٹھاتے، ریاضت و مجاہدہ کرتے، مہمان نوازی فرماتے، بیکسوں اور مجبوروں کی دستگیری کرتے، محتاجوں اور غریبوں کے ساتھ بھلائی کرتے لوگوں کے ساتھ حسن اخلاق سے پیش آتے، لوگوں کی سچائی میں انکی مدد اور ان کی برائی سے حذر فرماتے ہیں، یتیموں کو پناہ دیتے ہیں سچ بولتے ہیں اور امانتیں ادا فرماتے ہیں۔ سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے ان باتوں سے حضور  صلی اللہ تعالیٰ علیہ

 



Total Pages: 58

Go To