Book Name:Jootha Pani Phaink Dena Kesa?

ہیں مگر پہلے اتنے اَسباب نہیں تھے ، اب اَسباب بڑھ گئے ہیں۔ پہلے ہم نے فریزر کا نام نہیں سُنا تھا پھر  فریزر اور اِس طرح کی دِیگر چیزیں آ گئیں، بعض اوقات بچے ان  میں بند ہو کر بے چارے ٹھنڈے ہو جاتے ہوں گے یا پھر فریج  کے نیچے لگے ہوئے پلگ میں اُنگلی ڈال کر چِپک جاتے ہوں گے ۔ اِسی طرح پہلے لوہے کی وزن دار اِستری ہوا کرتی تھی جس میں لوگ کوئلے جَلاتے اور کوئلوں سے اُسے گرم کر کے کپڑے اِستری کرتے تھے ۔ اُس اِستری میں حادثے کا اِمکان نہ ہونے کے برابر تھا مگر پھر الیکٹرونک اِستری آ گئی جس کے سبب حادثات بڑھ گے تو  یوں جتنی تَرقیاں ہو رہی ہیں اِن ترقیوں کے باعِث ہلاکتوں میں بھی اِضافہ ہو رہا ہے اور بچے بے چارے فوت ہو رہے ہیں۔ اِسی طرح پہلے گھروں میں سوئمنگ پولوں کا نہیں سُنا تھا لیکن اب گھروں میں بھی سوئمنگ پول ہوتے ہیں جن میں بچے ڈوب جاتے ہیں۔ جب بالٹی میں ڈوب کر بچے فوت ہو سکتے ہیں تو پھر سوئمنگ پول میں بَدَرَجَۂ اَولیٰ ڈوب کر بھی فوت ہو سکتے ہیں بلکہ بالٹی میں گِر کر ڈوبنے کے چانس کم ہوتے ہیں جبکہ سوئمنگ پول میں ڈوبنے کے  چانس زیادہ ہیں۔

سڑک پار کرنے کا طریقہ

سُوال : سڑک کس طرح پار کرنی چاہیے ؟ ([1])

جواب : ہم نے بچپن سے سُنا ہے کہ سڑک پار کرتے وقت بھاگنا نہیں چاہیے ۔ جب بھی روڈ پار کرنا ہو تو  پہلے روڈ کے  کنارے  کھڑے ہو کر دونوں طرف دیکھ لیں کہ کوئی گاڑی وغیرہ تو نہیں آ رہی اور پھر روڈ پار کریں ۔ بسااوقات گاڑی دُور ہوتی ہے جس کے سبب بندہ سمجھتا ہے کہ میں گزر جاؤں گا لیکن جب وہ گزرنے لگتا ہے تو پتھر وغیرہ کے آنے ، پاؤں پھسل جانے یا ہوائی چپل کی پٹی نکل جانے کے سبب روڈ میں  رُکنا پڑ جاتا ہے اور یوں گاڑی  اوپر چڑھ جاتی ہے ۔

بچوں کو حادثات سے کِس طرح  بچایا جائے ؟

سُوال : بچوں کو حادثات سے کِس طرح بچایا جائے ؟   

جواب : بچوں کو حادثات سے بچانے کے لیے انہیں سمجھایا جائے کہ روڈ پر بھاگنا نہیں ہے  بلکہ روڈ پار کروانے کے لیے کوئی نہ کوئی  بڑا  بچوں کے ساتھ ضَرور ہو ۔ اگر والدین   بچوں کو روڈ پار کرنے سے ڈراتے رہیں گے اور وقتاً فوقتاً سمجھاتے رہیں گے تو بچے حادثات کا شِکار ہونے سے بچ جائیں گے ۔ جب ہمارا گھر گئو گلی  اولڈ سٹی اِیریا(بابُ المدینہ کراچی ) میں تھا  تو ہمارے گھر سے روڈ پار کر کے  ککری گراؤنڈ تھا جہاں پہلے دعوتِ اِسلامی کا سُنَّتوں بھرا اِجتماع ہوا کرتا تھا، میری والِدہ مجھے ککری گراؤنڈ جانے اور روڈ پار کرنے سے  منع کرتی تھی جس کی وجہ سے میں روڈ پار کر کے ککری گراؤنڈ جانے سے ڈرتا تھا کہ والِدہ  نے منع کیا ہے لہٰذا اگر والِدین بچوں کو اِس طرح سمجھاتے اور ڈراتے رہیں گے تو اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  ضَرور اِس کا فائدہ ہو گا۔    



[1]    یہ سُوال اور اس کے بعد والا دونوں شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ کی طرف سے قائم کیے  گئے ہیں جبکہ جوابات امیر اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے عطا فرمودہ ہی   ہیں۔ (شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ)



Total Pages: 5

Go To