Book Name:Jootha Pani Phaink Dena Kesa?

اِسراف سے بچنے کا لاکھوں ىا کروڑوں مىں کسی اىک کا ذہن ہو تو ہو ورنہ گھروں مىں پانی ضائع کرنے کا عام مَسئلہ ہے حالانکہ پانى  کا اِسراف (یعنی اس کو ضائع کرنا)حرام ہے ([1])لىکن افسوس ایسا کرتے ہوئے بالکل ڈر نہیں لگتا۔ پانى پئىں گے تو آدھا بچا کر پھىنک دىں گے حالانکہ ایسا کرنا حرام ہے  لہٰذا بچا ہوا پانی پھینک دینے کے بجائے رکھ لیں اور بعد میں پی لیں یا کسی دوسرے مسلمان کو پِلا دیں۔ اگر جوٹھا ہے تو کیا ہوا؟ناپاک تو نہیں ہو گیا بلکہ دوسرا مسلمان پیے گا تو اس کے لیے شِفا  کا سبب بنے گا جیساکہ منقول ہے : سُؤْرُ الْمُؤْمِنِ شِفَاءٌ یعنی مؤمن کے جُوٹھے میں شِفا ہے ۔ ([2])لہٰذا جُوٹھا پانى پھىنکنے  کے بجائے کسی نہ کسی اِستعمال میں لے لینا چاہیے ۔

امیرِ اَہلسنَّت کاہر قسم کے اِسراف سے بچنے کا ذہن

جب مىں پانى پىتا ہوں تو اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ ایک ایک قطرہ ضائع ہونے سے بچانے کا اِہتمام کرتا ہوں چنانچہ پانی پی چکنے کے بعد پىالے کى دىواروں سے پىندے مىں دو تىن قطرے  جمع ہو جاتے ہیں تو انہیں بھى پى لىتا ہوں۔ بعض اوقات پھر دىکھتا ہوں کہ اىک آدھ قطرہ اور جمع ہو گیا ہے تو اُسے بھى پى لىتا  ہوں۔ مَدَنى چىنل  کے ناظرین نے بھی مجھے ایسا کرتے ہوئے بارہا دیکھا ہو گا۔ بہرحال پانی کے عِلاوہ بجلی اور دِیگر نعمتوں میں بھی اِسراف سے بچنے کا میرا پُرانا ذہن ہے ۔ پانى تو  کىا مجھے ہر چىز کے اِسراف سے گویا الرجى  ہے اور ہمارے گھر مىں بھى اِسى طرح کا ذہن ہے کہ ہر چىز مىں اِسراف سے بچنا ہے ۔ بس اللہ پاک ہم سب کو عقلِ سلىم عطا فرمائے ، توبہ کى سَعادت بخشے ، ہم اللہ پاک کى نعمتوں کى قدر کرنا سىکھ جائیں اور اپنے آپ کو اللہ پاک کے عذاب سے ڈرانے والے بنىں۔ جب اپنے آپ کو اللہ پاک کے عذاب سے  ڈرائىں گے تو پھر اِسراف سے  بچنے کى کوشش بھی کرىں گے تو اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اِسراف سے بچنے میں کامیاب بھی  ہو جائىں گے ۔

واش روم میں پانی کا اِستعمال

سُوال : واش روم میں پانی کے اِستعمال میں کیا اِحتیاطیں کی جائیں؟ ([3])

جواب : واش روم میں بھی پانی بقدرِ ضَرورت ہی اِستعمال کرنا چاہیے ۔ آج کل واش روم میں شاور لگانے کا رَواج ہے ۔ شاور دو طرح کے ہوتے ہىں : اىک تو وہ شاور ہوتا ہے جس کا بَٹن دبائىں گے تو پانى نکلے گااور دوسرا شاور وہ ہے  جس کا کوئی بَٹن یا ہینڈل نہیں ہوتا، بالکل اوپن ہوتا ہے ۔ نَل کُھلتے ہی پانی کی تیز دھار نکلنا شروع ہو جائے گی، اِس میں پانی روکنے کا کوئی سِسٹم نہیں ہوتا، اس کی چھینٹیں بھی اُڑتی ہیں اور بِلا ضَرورت  پانی بھی ضائع ہوتا ہے ۔ مجھے تو اِس سے چڑ ہے کہ اِس کو اِستعمال کیسے کرىں؟ ہر صورت مىں پانی  ضائع ہوتا ہے ۔

حَرَمَیْنِ طَیِّبَین زَادَہُمَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً مىں بھى اِسی طرح کا پائِپ لگا ہوتا ہے ، جس کے سبب پانی ضائع ہونے سے بچانا جوئے شىر لانے (یعنی مشکل یا ناممکن کام سر انجام دینے ) کے مُترادِف ہے ۔ ممکن ہے کہ ہىنڈل والا شاور اِس لیے اِنتظامیہ نہ لگاتی ہو کہ جلدى خَراب ہو جاتے ہیں اور ان کا ىہ عُذر قابلِ سَماعت ہو بھی سکتا ہے ۔ بہرحال جس بھی عُذر کے تحت یہ شاور لگائے گئے ہوں ان کے اِستعمال میں پانى ضَرور ضائع ہوتا ہے ۔ اگر واش روم میں شاور کے بجائے لوٹا اِستعمال کیا جائے تو پانی کی کافی بچت ہو گی۔ مجھے ىاد آ رہا ہے کہ حَرَمَیْنِ طَیِّبَیْن زَادَہُمَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً  مىں بھی پہلے لوٹے ہی رکھے ہوتے تھے ۔ گھروں مىں بھى لوٹا سِسٹم ہی تھا، اب  آہِستہ آہِستہ شاور کا رَواج  بڑھتا جا رہا ہے ۔  

بارش ہونے کی پیشن گوئیوں پر یقین کرنا کیسا؟

سُوال : سوشل میڈیا پر بارش کے حوالے سے  اِس طرح کی خبریں چلتی ہیں کہ فُلاں وقت بارش ہو گی، اِسی طرح محکمۂ موسمیات کی طرف سے بھی وقتاً فوقتاً  بارش ہونے کی پیشن گوئیاں  کی جاتی ہیں تو ان پر یقین کرنا کیسا ہے ؟

جواب : محکمۂ موسمیات بارش ہونے کی پیشن گوئیاں کرتا ہے مگر عام طور پر لوگ ان پیشن گوئیوں  پر یقین نہیں کرتے کیونکہ بارہا  دیکھا گیا ہے کہ ان کی پیشن گوئیاں  غَلَط ثابِت ہوجاتی ہیں۔ (اِس موقع پر مَدَنی مذاکرے میں شریک مفتی صاحب نے فرمایا کہ) اِس طرح کی پیشن گوئیوں پر یقین کرنے کی اِجازت نہیں ہے کیونکہ بارش ہونے کا قَطعی عِلم تو کسی صورت حاصِل نہیں ہو سکتا  جبکہ  یقین، قَطعی عِلم پر ہی کیا جا سکتا ہے ۔ بارش کے بارے میں جو خبریں چلتی ہیں یہ اَندازے ہوتے ہیں اور عام طور پر ہر ایک کو کچھ نہ کچھ یہ اندیشہ ہوتا ہے کہ اِن خبروں میں غَلَطی ہو سکتی ہے ۔ محکمۂ موسمیات والوں نے جو کہہ دیا وہ حَرفِ آخر ہے اور ایسا ہی ہو گا، کوئی بھی اِس طرح کا  یقینی اور قطعی اِعتقاد نہیں رکھتا اور نہ ایسا اِعتقاد رَکھنے کی شَرعاً اِجازت ہے ۔      

بچوں کے حادثات بڑھنے کی وجہ

سُوال : آجکل والدین بچوں پر کم توجہ دیتے ہیں جس کی وجہ سے کئی بچے حادثات کا شِکار ہو جاتے ہیں تو کیا پہلے بھی ایسا ہوتا تھا ؟

جواب : جی ہاں! پہلے بھی ایسا ہوتا تھا چنانچہ میرے بچپن یا لڑکپن کا واقعہ ہے کہ  ایک بار میں اپنے گھر کی بالکونى مىں کھڑا تھا کہ ہمارے گھر کے  سامنے والی بلڈنگ کى پہلى منزل کی بالکونی سے اىک بچى گِری جو پہلے گھر کے نیچے موجود دُکان کے چھجے سے ٹکرائی اور پھر اُچھل کر زمین پر جا گری مگر اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ  وہ زندہ بچ گئی۔ یوں غیر محتاط اَنداز شروع سے ہی چلتے آ رہے



[1]    اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّت فرماتے ہیں : صِرف دو صورتوں میں اِسراف ناجائز و گناہ ہوتا ہے ایک یہ کہ کسی گناہ میں صَرف و اِستعمال کریں، دوسرے بیکار محض مال ضائع کریں۔ وُضو و غسل میں تین بار سے زائد پانی ڈالنا جب کہ غَرَضِ صحیح(یعنی جائز مقصد) سے ہو ہر گز اِسراف نہیں کہ جائز غَرَض میں خَرچ کرنانہ خود مَعصِیَت(یعنی نافرمانی) ہے نہ بیکار اِضاعت(یعنی ضائِع کرنا)۔ (فتاویٰ رضویہ، ۱ / ۹۴۰ تا ۹۴۲، جز : ب)

[2]    الفتاوی الفقھیة الكبری لابن حجرالهيتمی، ۴ / ۱۱۷ دار الکتب العلمیة بیروت

[3]    یہ سُوال شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ کی طرف سے قائم کیا گیا ہے جبکہ جواب امیرِ اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا عطا فرمودہ  ہی ہے ۔  (شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ)



Total Pages: 5

Go To