Book Name:Jootha Pani Phaink Dena Kesa?

ہونا واجب ہے ۔ ([1])لہٰذا قرآنِ کرىم  کی مَخصُوص مِقدار جو فرض یا واجب ہے وہ تو یاد کرنی ہی ہو گی، اِس کے عِلاوہ مَزىد بھى ىاد کرنا چاہىے ۔ قرآنِ کرىم جو دىکھ کر بھى نہىں پڑھ سکتا تو اب اس کو کىا لَقب دىا جائے ۔ دُنىوى اِعتبار سے اىک سے اىک پڑھے لکھے آپ کو ملىں گے لىکن ان میں ایک تعداد ہو گی جنہیں قرآنِ کرىم دىکھ کر بھى پڑھنا نہىں آتا ہو گا، اب جنہیں قرآنِ کرىم دىکھ کر بھى پڑھنا نہىں آتا تو انہیں پڑھا لکھا کیسے کہا جائے ؟ ہر ایک کو قرآنِ شرىف پڑھنا سیکھنا چاہیے اور جنہیں آتا ہے انہیں تلاوت کر کے اس کى بَرکتىں حاصِل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے ۔  

تعلیمِ قرآن عام کرنے کے لیے مَدَارِسُ المدىنہ میں بھی اِضافہ ہونا چاہىے ۔ بالِغان کو قرآنِ کریم سِکھانے کے لیے مدرسۃُ المدىنہ بالِغان بھى قائم ہونے چاہئیں تاکہ کام کاروبار کرنے والے حضرات بھی قرآنِ پاک سیکھ سکیں۔ مدرسۃُ المدینہ بالِغان کا دَورانیہ تقرىباً 63 مِنَٹ کا ہوتا ہے اور اس کا رات میں ہی لگانا شَرط نہىں بلکہ جہاں جیسی سہولت ہو، فجر، ظہر یا کسی بھی مُناسِب وقت میں مدرسہ لگانے کی تَرکیب بنا لی جائے ۔ اللہ پاک قرآنِ کریم کى بَرکتىں ہم سب کو نصىب فرمائے ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم    

مُلکِ پاکستان اور دِیگر ممالک میں پانی کا بحران

سُوال : اِس وقت دُنىا بھر میں بالخُصُوص مُلکِ پاکستان مىں پانى کی کمی اىک بہت بڑا مَسئلہ بنا ہوا ہے ۔ میرا  خود اىک مُلک مىں جانا ہوا تو اُس مُلک میں باقاعدہ گھروں مىں مَحدود مِقدار میں پانى اِستعمال کرنے کی اِجازت ہے ۔ اگر اس سے زائد پانى اِستعمال کیا تو ان کے لىے مَسائل ہوتے ہىں۔ دُنىا بھر میں بالخُصُوص مُلکِ پاکستان مىں پانى کى بچت کے لىے مختلف اَنداز پر کام کىا جا رہا ہے ۔ آپ اس بارے میں کچھ مَدَنی پھول اِرشاد فرما دیجئے کہ اىک عام شخص پانى کى بچت میں اپنا کىا کِردار ادا کر سکتا ہے ؟(نگرانِ شورىٰ کا سُوال)

جواب : پانى اللہ پاک کى بہت بڑى نعمت ہے ، اس کے بغىر زندگى ناممکن ہے ۔ ىہ بھی اللہپاک  کا کَرم ہے کہ جو چیز جتنى زىادہ اَہم ہوتى ہے وہ ہمارے لىے ىا تو سَستى رکھى گئی ہے یا بالکل ہی مُفت جىسے ہوا، یہ زندگى کے لىے  سب سے زىادہ ضَرورى ہے کہ آکسىجن کے بغىر آدمى زندہ نہیں  رہ سکتا لیکن ىہ اللہ کى رَحمت سے بالکل مُفت مِل رہی ہے ۔ ہوا کے بعد اِنسان کو پانی کی بھی شدید حاجت ہے یہ نعمت بھى مُفت ہی مِل رہی ہے ۔ ([2])اب کہىں کہىں پانی  پىنے کے لىے بِک بھى رہا ہے اور جہاں جہاں پانی کی کمی ہے وہاں واٹرٹىنکر کے ذَریعے پانی خریدنا پڑتا ہے ۔ بہرحال پانى اللہ تعالىٰ کى بہت بڑى نعمت ہے ۔ اِس ایک نعمت کا جتنا شکر ادا کرىں کم ہے ۔ اِس نعمت کو صحىح اِستعمال کرنے کے بجائے بہت ضائع کیا جاتا ہے ، اتنا ضائع کیا جاتا ہے کہ بس خُدا کى پناہ!ایک چھوٹا سے پیالہ دھونا ہوتا ہے جس کے لیے آدھا پیالہ پانی کافی ہے لیکن پورا  نَل کھول کر بالٹی جتنا پانی بہا دیتے ہیں اور یوں بڑی بے دَردی سے اللہ پاک کى اِس  نعمت کو ضائع کرتے ہیں۔

پیالہ اور دِیگر بَرتن دھونے کا طریقہ

پىالہ دھونے کا طرىقہ ىہ ہونا چاہیے  کہ اِس مىں چند قطرے پانى کے ڈالیں اور پھر بَرتن دھونے کے Liquid ( لکوىٹ) کے ایک دو قطرے ڈال کر جھاگ وغیرہ سے مَل لیں، اب ہلکا سا نَل کھول کر اس کے نیچے دھولىں تاکہ مىل کچىل اور غِذا کے اَثرات صاف ہو جائیں۔ اِس طرح دھونے سے پانی بہت کم اِستعمال ہو گا۔ اگر زیادہ بَرتن دھونے ہوں تو نَل کے نیچے دھونے سے بہتر ہے کہ کسی بڑے بَرتن میں پانی نکال کر اس میں ڈبوکر دھوئے  جائیں۔ پہلے بَرتن دھونے کا یہی طریقہ رائِج تھا لیکن اب نَل سِسٹم آ گیا ہے جو پانی کے ضیاع کا بڑا سبب ہے ۔ میں جب کسی کو نَل کے نیچے کچھ دھوتے دیکھتا ہوں تو پانی کا بے دَریغ اِستعمال دیکھ کر بَرداشت نہیں کرپاتا، مجھے یہ قطعاً پسند نہیں کہ یوں ضَرورت سے زائد پانی بہایا جائے ۔

گرم پانی لینے کیلئے ٹھنڈا پانی ضائع کرنے سے کیسے بچا جائے ؟

سردىوں مىں ٹھنڈا پانی آزمائِش کا سبب بنتا ہے لہٰذا گرم پانى کے لیے گىزر لگائے جاتے ہیں۔ اب گیزر سے گرم پانی حاصِل کرنے کے لیے پائِپ مىں موجود ٹھنڈے پانى کو بڑی بے دَردی کے ساتھ بہا دیا جاتا ہے حالانکہ تھوڑی سی توجہ کر کے یہ پانی بچایا جا سکتا ہے مثلاً کسی بالٹی میں یہ پانی نکال لیں یا پھر پائِپ کا ایسا  سِسٹم بَنوا لیں کہ پانی زمین دوز ٹینک میں واپس چلا جائے ۔ خود میں نے بھی اپنے گھر میں ایسا سِسٹم بنوایا ہوا ہے ، گرم ٹھنڈا پانی مِکس کرنا بھى اىک مَسئلہ ہے کہ اس مىں بھى پانى بہت ضائع ہوتا ہے لہٰذا مکسچر کرنے میں بھی ایسی اِحتىاط سے کام لیں کہ بچت کى صورت  بنے مثلاً مکسچر کے لیے ایسے نَل لگوا لیے جائیں جوAutomatic(یعنی خود بخود) ٹھنڈا گرم پانی مِکس کر دىتے ہیں، یہ نَل اگرچہ کچھ مہنگے ہوتے ہىں لیکن پانی کے ضیاع سے بچنے کے لیے کارآمد ہیں۔

پانی ضائع کرنے والوں کو ممکنہ صورت میں سمجھائیے

کپڑے اور فَرش وغیرہ دھونے میں بھی پائِپ اِستعمال کیا جاتا ہے جس کے سبب ضَرورت سے بہت زیادہ پانى بہتاہے لیکن آہ!ان لوگوں کو بولنے ، روکنے ٹوکنے اور سمجھانے والا کوئی  نہىں ہے ۔ مَساجد کے دھونے میں بھى بے تحاشا پانی ضائع کیا جاتا ہے مگر افسوس کوئى کسی کو  بولنے والا نہىں ہوتا، حالانکہ کئی لوگ ایسے ہوتے ہیں انہیں معلوم ہوتا ہے کہ اگر ہم بولیں گے تو ىہ مان جائے گا اور پانی بقدرِ ضَرورت ہی اِستعمال کرے گا لیکن پھر بھى وہ نہىں بولتے کىونکہ ان کا اپنا پانی کی بچت کا ذہن نہىں ہوتا، یہ خود اس سے دَس گنا بڑھ کر پانى ضائع کر رہے ہوتے ہیں۔ مُعاشرے میں سب ایسے نہیں ہوتے ، بعض لوگوں کا اِسراف سے بچنے کا ذہن ہوتا ہے اور وہ بچتے بھی ہیں لیکن جو اِسراف سے نہیں بچتے ان کی سزا میں



[1]    در مختار، کتاب الصلاة، باب صفة الصلاة، فصل فی القراءة، ۲ / ۳۱۵  ماخوذاً دار المعرفة بیروت

[2]    تفسیر کبیر، پ۲، البقرة ، تحت الآیة : ۱۶۴ ، ۲ /  ۱۷۲  ماخوذاً  دار احیاء التراث العربی بیروت



Total Pages: 5

Go To