Book Name:Bachon Ko Dhoop Laganay Kay Fawaid

ہے اور ایسا شخص گناہگار ہے ۔  ہر کام کے لىے عِلم ہونا چاہىے ۔ عِلم کے بغىر  اَندھا اور اَنجان دونوں برابر ہىں ۔  

بہرحال اگر کوئی ان بُرائیوں سے بچنے کے لىے اکىلا رہتا ہے اور عوام سے مِلتا جُلتا نہىں تو ىہ بہت اچھى بات ہے بلکہ جس سے ہو سکے وہ ىہى کرے ۔  نىکى کى دعوت دىنے ، اِنفرادى کوشش کرنے اور کاروبار کرنے کے لیے بے شک لوگوں مىں جائے ، نماز تو باجماعت  مسجد ہى مىں لوگوں کے ساتھ پڑھى جائے گى ۔  اس کے علاوہ جو فارغ اوقات ہیں ان  مىں  بىٹھکیں  لگانے اور  گپ شپ کرنے سے بچے ۔ سوشل مىڈىا سے بھی اِجتناب کیجیے کہ اس کى صحبت بھى اچھى نہىں ہے ، اگرچہ اس کا صحىح اِستعمال بھى ہے مگر زىادہ تر غَلَط اِستعمال ہے اور یہ بات تقرىباً سبھی سمجھتے ہیں لہٰذا اس سے  بھی بچا جائے ۔

٭٭٭٭

نجات دِلانے والی تین چیزیں

     حضرتِ سیِّدُنا عُقبہ بن عامِر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی : یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!نَجات کیا ہے ؟ فرمایا : (1)اپنی زَبان کو روک رکھو (یعنی اپنی زَبان وہاں کھولو جہاں فائدہ ہو ، نقصان نہ ہو) ، (2)تمہارا  گھر تمہیں کِفایت کرے (یعنی بِلا ضَرورت گھر سے نہ نکلو) اور (3) گناہوں پر رونا اِختیار کرو ۔  

 (تِرمِذی ، کتاب الزھد ، باب ما جاء فی حفظ اللسان ، ۴ / ۱۸۲ ، حدیث : ۲۴۱۴ دار الفکر بیروت)

 



Total Pages: 8

Go To