Book Name:Bachon Ko Dhoop Laganay Kay Fawaid

جواب : مَیِّت کو کفن دینا فرضِ کفایہ  ہے ، يوں ہی مَیِّت کو دَفن کرنا بھی فرضِ کفایہ ہے ۔ ([1])مَیِّت نے جو مال چھوڑا اس میں سے بھی کفن  دے سکتے ہیں اور اگر خاندان میں سے کوئی دوسرا شخص اپنے طور پر کفن دینا چاہے تو وہ بھی دے سکتا ہے ۔ یہاں تک کہ اگر خاندان میں  کوئی کفن دینے والانہیں تو کوئی بھی مسلمان کفن دے دے تو فرضِ کفایہ  اَدا ہو جائے گا ۔ اَلبتہ عورت نے اگرچہ مال چھوڑا اُس کا کفن شوہر کے ذِمَّہ ہے بشرطیکہ موت کے وقت کوئی ایسی بات نہ پائی گئی جس سے عورت کا نفقہ شوہر پر سے ساقِط ہو جاتا ۔ ([2])

نابالغ کے حصّہ سے اِیصالِ ثواب کا کھانا نہیں بنا سکتے

مَیِّت کے  اِیصالِ ثواب کے لیے غُرَبا اور مَساکین کو کھانا کھلانا ایک مستحب کام ہے ۔ مَیِّت نے جو مال چھوڑا ہے اس میں سے کھانا کھلانے کے مَسائل ہیں ۔  مَیِّت کے بالغ بیٹے بیٹیاں سارے وُرَثا اگر اِتفاقِ رائے سے اِیصال ِ ثواب کے لیے کھانا پکانے کی اِجازت دے دیتے ہیں تو پھر جائز ہے اور اگر وُرَثا میں سے کوئی نابالغ ہے تو وہ اِجازت دے تب بھی اِیصال ِثواب کے لیے کھانے وغیرہ کا اِہتما م نہیں کیا جا سکتا البتہ اس نابالغ  کا حِصّہ الگ کرنے  کے بعد  باقی بالغان کی اِجازت سے اِیصالِ ثواب کے لیے کھانے  پینے وغیرہ کا اِہتمام کیا جا سکتا ہے ۔  ([3])  

آپریشن کے ذَریعے بچوں کی پیدائش میں اِضافہ

سُوال : اَخبار میں یہ خبر آئی ہے کہ گزشتہ 15 سالوں  میں آپریشن کے ذَریعے بچوں کی پیدائش میں خطرناک حد تک اِضافہ ہوا ہے ۔  اَعداد و شُمار کے مُطابق صِرف 2015ء میں تین کروڑ بچوں کی پیدائش آپریشن کے ذَریعے کی گئی  جو  اس سال پیدا ہونے والے بچوں کی تعداد کا 21 فیصد ہے اور ان میں سے تقریباً 44 لاکھ 55 ہزار بچوں کی پیدائش  میں آپریشن کی ضَرورت ہی نہیں تھی ۔  اس سلسلے میں ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ لاکھوں خواتین غیر ضَروری طور پر آپریشن کے مَرحلے سے گزر کر خود کو خطرے میں ڈال رہی ہیں ۔  ایسی صورتِ حال میں کیا کرنا چاہیے ؟

جواب : جب میرا لڑکپن تھا تو اس وقت میں نے  آپریشن کا نام ہی نہیں سُنا تھا ، سب کی سب ڈلیوریاں نارمل ہوتی تھیں اور ہسپتال جانے کی ضَرورت ہی پیش  نہ آتی  تھی ۔ اس دور میں عام طور پر ڈلیوریاں گھروں پر ہوتی تھیں اور دائیاں (Midwives)  گھروں پر آتی تھیں اور اپنے تجربات کی بِنا پر  آپریشن کے بغیر نارمل ڈلیوری کیا کرتی تھیں ۔  اس حوالے سے مجھے ایک واقعہ یاد آیا جو مجھے  کسی نے  بتایا  تھا  کہ ایک غیر مسلم دائی کو اپنے کسی کیس میں یہ معاملہ پیش آیا کہ ڈلیوری نہیں ہو پا  رہی تھی  اور مریضہ کو  بہت دُشواری اور تکلیف کا سامنا تھا ۔  اس دائی نے کمرے کے دَروازے سے باہر نکل کر اِس طرح کہا :  ” اے مسلمانوں کے غوثِ پاک! میں نے سُنا ہے کہ آپ اپنے مُریدوں کی مدد کرتے ہیں ، اگرچہ میں تو مسلمان نہیں ہوں لیکن یہ عورت مسلمان ہے ، آپ کی مُریدنی ہے اور  آپ کو   ماننے والی ہے اس کا مسئلہ حَل نہیں ہو پا رہا آپ اس کا مسئلہ حَل فرما دیجیے ! “ یہ  کہنے کے بعد جب وہ دائی  اَندر گئی تو نارمل ڈلیوری ہو گئی ۔ غوثِ پاک عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الرَّزَّاق کی یہ کَرامت دیکھ کر وہ دائی  مسلمان ہو گئی ۔  

ڈلیوری کیس  سے متعلق اِنکشافات

پھر ڈلیوری (Delivery)کیس کے سلسلے میں رَفتہ رَفتہ ہسپتال کا رُخ کیا جانے لگا ۔ اَب ہسپتال کے کروڑوں روپے کے اَخراجات ہوتے ہیں اور پھر ڈاکٹروں کی تنخواہیں بھی ٹھیک ٹھاک ہوتی ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ آپریشن کرنے کی صورت میں بھی ان کا اچھا خاصا حِصّہ ہوتا ہے تو یوں میں سمجھتا ہوں کہ آجکل Profession(یعنی پیشے ) کے طور پر زیادہ تر آپریشن ہو رہے ہیں ۔  یہاں تک کہ میرے پاس اپنے قریبی اسلامی



[1]    درمختار  مع  ردالمحتار ، کتاب الصلٰوة ، باب صلا ة  الجنازة ، ۳ /  ۱۲۱- ۱۶۳ دار المعرفة بیروت

[2]    بہارِ شریعت ، ۱ / ۸۲۰ ، حصہ : ۴ مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی

[3]    (مَیِّت کے سِوُم ، دَہم اور) چہلم وغیرہ کے کھانے پکانے سے لوگوں کا اَصل مقصود مَیِّت کوثواب پہنچانا ہوتا ہے ، اِسی غرض سے یہ فعل کرتے ہیں ، لہٰذا اسے فاتحہ کا کھانا چہلم کی فاتحہ وغیرہ کہتے ہیں اور شک نہیں کہ اس نیت سے جو کھانا پکایا جائے مُسْتَحْسَن(یعنی اچھا)ہے اور عِنْدَ التَّحْقِیْق صِرف فُقَراء ہی پر تَصَدُّق میں ثواب نہیں بلکہ اَغنیاء پر بھی مُورِثِ ثواب (یعنی ثواب کا باعِث )ہے ۔  اگرچہ افضل وہی تھا کہ صِرف فُقَراء پر تَصَدُّق کرتے کہ جب مقصود اِیصالِ ثواب تو وہی کام مُناسِب تَر جس میں ثواب اکثر و وافر(یعنی زیادہ ثواب ملے ) ، پھر بھی اصل مقصود مَفقود نہیں ، جبکہ نیت ثواب پہنچانا ہے ۔ ہاں جسے یہ مقصود ہی نہ ہو بلکہ دعوت و مہمان داری کی نیت سے پکائے ، جیسے شادیوں کا کھانا پکاتے ہیں تو ا سے بے شک ثواب سے کچھ علاقہ نہیں ، نہ ایسی دَعوت شَرع میں پسند نہ اس کا قبول کرنا چاہئے کہ ایسی دَعوتوں کا محل شادیاں ہیں نہ کہ غمی ۔ ولہٰذا عُلَما  فرماتے ہیں کہ یہ بِدْعَتِ سَیِّئَہ(یعنی بُری بِدعت ) ہے ۔ (فتاویٰ رضویہ ، ۹ / ۶۶۸-۶۷۱ ملتقطاً)مزید تفصیلات جاننے کے لیے اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّت کے فتاویٰ رضویہ ، جلد 9 میں موجود  رِسالے ”جَلِیُّ الصَّوْت لِنَھْیِ الدَّعْوَۃِ  اَمَامَ مَوْت (کسی موت پر دَعوت کی ممانعت کا واضح اِعلان) کا مُطالعہ کیجیے ۔  (شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ )



Total Pages: 8

Go To