Book Name:Aghwa Se Hifazat Kay Aurad

میرے آقا کو کتنا صَدمہ پہنچتا ہو گا!

 اب تو ایسی ہىوى مشىنىں چل رہى ہوتی  ہىں کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ  کى پناہ ، اىک بار مىں مسجدِ نبوى شرىف عَلٰی صَاحِبِھَاالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام مىں غالباً سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کى پُشتِ اَطہر کی جانِب والے حصّے میں پناہ لىے ہوئے تھا کہ مسجدِ نبوی کی زمىن لَرزنے لگى ، ىہ اللہپاک  کى رَحمت ہے کہ  مجھ پر خوف طارى نہىں ہوا بلکہ مىں نے کہا کہ لگتا ہے بقىع کى آرزو پورى ہو رہى ہے ۔ مىں سمجھا کہ زَلزلہ( Earthquake)  ہو رہا ہے ، ابھی زمىن پھٹى اور مىں اندر گىا ، مىں سنبھل کر بىٹھ گىا اور کلمہ شریف وغیرہ پڑھنے لگا ۔  مگر مىرا ایسا  نصىب کہاں! بہرحال زمىن تھم گئى ۔ پھر مىرى توجہ اِس طرف  گئى کہ  اس وقت تعمىرات کے سلسلے مىں بہت ہىوى مشىنیں کام  کر رہى ہیں جس کے صَدمے سے وہ مُبارَک زمىن ہل رہى تھى ۔ مجھے مشىن چلانے والوں پر بہت دُکھ ہوا کہ ان ہىوى مشىنوں کے چلنے سے ہم جىسوں کو تکلىف ہو رہى ہے تو مىرے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو کتنا صَدمہ پہنچتا ہو گا ۔ یہ  مىرے جَذبات ہىں اور میں  عِشقِ رَسول اور مَحبّتِ رَسول کى بات کر رہا  ہوں کیونکہ ہم عشق کے بندے ہىں کىوں بات بڑھائى ہے ۔  

مدینۂ مُنَوَّرہ کا اَدب و اِحترام

اُمُّ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدَتُنا عائِشہ صِدِّىقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا مدىنے  شرىف مىں کسى کو کىل نہىں ٹھوکنے دىتى تھىں کہ یہاں مىرے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم آرام فرما ہىں انہیں تکلىف ہو گى ۔ ( [1]) اس وقت لوگ ایسے ٹھوک ٹھاک والے سب کام مدىنۂ مُنَوَّرہ زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً سے باہر جا  کر کرتے تھے ، مدىنے شریف کا ایسا اَدب تھا کہ وہاں اِستنجا کرنے کے بجائے مدىنے شریف سے باہر اىک مخصوص مقام پر جا یا  کرتے تھے ۔ اس وقت کا سارا  مدینہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ  اب مَسجدِ نبوی عَلٰی صَاحِبِھَاالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا حِصّہ بن گىا ہے ، اب مدینہ مُنَوَّرہ زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً کا  شہر کافى وَسیع ہو گیا ہے ىہ بھی اگرچہ مدىنہ ہى ہے لىکن حقىقت مىں جو اس مُبارک دور کا اصل مدىنہ تھا وہ پورا  مسجد ِنبوى مىں شامِل ہو گیا ہے ۔

تَذکرۂ مولانا رُوم

سُوال : مولانا رُوم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَیُّوْم کا مَزار مبارک کہاں ہے ؟ نیز ان کی زندگی کا کوئی  واقعہ بھی  بیان فرما دیجیے ۔ ( [2])  

جواب : حضرتِ سَیِّدُنا جلالُ الدِّىن رُومی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی اور ان کے پیر و مُرشِد حضرتِ سَیِّدُنا شَمس تبریزی  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی  دونوں کے  مَزارات تُرکی میں ہیں ۔ اللہ پاک ان کے مَزارات کی حاضِری نصیب فرمائے ۔ مولانا رُوم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَیُّوْم  کا واقعہ بڑا مشہور ہے کہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  ایک حوض کے کنارے اپنے کام( یعنی دَرس و تدریس) میں مَصروف تھے ، سامنے چند کتابیں رکھی ہوئی تھیں ، اچانک حضرتِ سَیِّدُنا شمس تبرىزى عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی اس طرف آ  نکلے اور آپ سے پوچھا : ىہ کىا ہے ؟ آپ  نے جواب دیا : ىہ میری  کتابىں ہىں ، اِن میں مىرا عِلم ہے ۔ حضرتِ سَیِّدُنا شَمس تبرىزى عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے وہ  کتابىں اُٹھائىں اور حوض مىں ڈال دىں ۔ مولانا رُوم  گھبرا گئے اور کہا کہ اب مىں کىا کروں مىں تو خالى ہو گىا ، آپ نے میری سارى کتابىں حوض میں ڈال دیں ۔ ( ان کی گریہ وزاری دیکھ کر ) حضرتِ سَیِّدُنا شَمس تبریزی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے وہ کتابیں جو پانى مىں ڈوب گئى تھىں نکال نکال کر انہیں دىنى شروع کر دىں جن پر  پانى کا کوئى اَثر نہىں تھا ۔  ىہ کَرامت دىکھ کر مولانا رُوم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَیُّوْم ان سے مُتأثر ہوئے کہ ىہ تو باکَرامت وَلِىُّ اللہ ہىں اور ان کے مُرىد ہو گئے اور  پھر اس پر اىک شعر کہا :

مولوى ہرگز نشد مولائے رُوم

       تا غُلامِ شَمس تبرىزى نشد  ( [3])

ىعنی مولوی ہرگز مولائے رُوم نہ بنا جب تک اس  نے شَمس تبرىزی کى غُلامى اِختىار نہ کى ، مىرے پاس جو کچھ ہے اور میں  جو کچھ  بنا ہوں  ىہ سب  شَمس تبرىزی  کی غُلامی  کا صَدقہ  ہے ۔

حضرتِ سَیِّدُنا شمس تبریزی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی یہ مولانا رُوم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَیُّوْم کے پیر و مُرشِد ہیں ۔ مگر ان کی  شُہرت کم اور مولانا رُوم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَیُّوْم کی شُہرت زیادہ ہے ۔ مولانا رُوم کی مَثنوى شریف  بہت مشہور ہے جسے عام طور پر مَثنوى مولانا رُوم کہا جاتا ہے ، یہ ضخیم کتاب ہے ، اس کے کئی حصّے ہىں ، اس مىں بڑے  نصىحت آموز  واقعات ہىں ۔ ( اصل کتاب فارسی میں ہے لیکن ) اس کے اُردو میں تَراجم بھى دَستیاب ہیں ۔ اللہ پاک ان دونوں ہستیوں  پر اپنى رَحمتىں نازِل فرمائے اور ان کے صَدقے  ہم سب کو بے حساب مَغفرت سے مُشَرَّف فرمائے ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم  

نمازِ جنازہ میں سَلام کَب پھیرا جائے ؟

 



[1]    الدرة الثمینة ، الباب الخامس عشر ، ص۱۳۹ تا ۱۴۰  شركة  دار الأرقم بن أبی الأرقم بیروت

[2]    یہ سُوال شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ کی طرف سے قائم کیا گیا ہے جبکہ جواب امیرِ اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کا عطا فرمودہ ہی   ہے ۔  ( شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ)

[3]    زیاراتِ تُرکی ، ص۹۱ بغدادی ہاؤس راولپنڈی کینٹ 



Total Pages: 13

Go To