Book Name:Aghwa Se Hifazat Kay Aurad

اگر اللہ پاک  چاہے تو مُردہ بھی زندہ ہو کر کھڑا  ہو سکتا ہے ۔ اَنبیائے کِرام عَلَیْہِمُ السَّلَام نے بھی  معجزات کے ذَریعے مُردے زندہ کیے ہیں ، بالخصوص مُردے زندہ کرنا حضرتِ سَیِّدُنا عیسیٰ رُوْحُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا مشہور معجزہ ہے ۔ اسی طرح میرے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے بھی مُردے زندہ کیے ہیں ۔ آپ عَلَیْہِ السَّلَام  نے اپنے والدِ ماجِد حضرتِ سَیِّدُنا عبدُاللہ اور اپنی والدۂ ماجدہ حضرتِ سَیِّدتُنا آمنہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کو وفات کے بعد زندہ کیا ، کلمہ پڑھا کر اپنی اُمت  میں شامل فرمایا اور شرفِ صَحابیت سے نوازا ۔ ( [1]) اِسی طرح حضورِ غوثِ پاک عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الرَّزَّاقنے بھی اپنی کرامت سے مُردے زندہ کیے ہیں ۔ مَرنے کے بعد زندہ ہونے کی  یہ چند اِستثنائی صورتیں ہیں مگر عام طور پر جس پر سکرات طاری ہو اور اس کی رُوح قبض ہو جائے وہ پلٹ کر نہیں آتا ۔ سکرات میں شدید تکلیف ہوتی ہے اور مومن کو اس پر اَجر ملتا ہے اور گناہوں کے کفارے ادا ہوتے ہیں جیسا کہ حدیثِ پاک میں ہے : اَلْمَوْتُ کَفَّارَۃٌ لِکُلِّ مُؤْمِنٍ یعنی موت ہر  مومن کے لیے کفارہ ہے ۔ ( [2]) اللہ پاک ہمارے لیے آسانی فرمائے اور ہم دُنیا سے اِس طرح جائیں کہ ہمیں موت کی تکلیف کا اِحساس نہ ہو! اگر موت کے  وقت نگاہوں کے سامنے  پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے جلوے ہوں تو اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  موت کے جھٹکوں کا اِحساس نہیں ہو گا ۔ جس طرح آپریشن کرنے سے پہلے اِنجکشن لگا کر آپریشن والی جگہ کو سُن یا مریض کو بے ہوش کر دیا جاتا ہے جس کے باعِث مریض کو کاٹا پیٹی کا اِحساس ہی نہیں ہوتا اِسی طرح اگر ہم  موت کے وقت سرکار عَلَیْہِ السَّلَام کے جلوؤں میں گم ہو جائیں گے تو اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  ہمیں موت کی تکلیف کا اِحساس نہیں ہو پائے گا ۔

سکرات میں گر رُوئے محمد پہ نظر ہو

ہر موت کا جھٹکا بھی مجھے پھر تو مزا دے

گر ترے پىارے کا جَلوہ نہ رہا پىشِ نظر

سختىاں نَزع کى کىوں کر مىں سہوں گا ىا ربّ!

نَزع کے وقت مجھے جَلوۂ مَحبوب دِکھا

تىرا کىا جائے گا مىں شاد مَروں گا ىا ربّ!

قبر محبوب کے جَلووں سے بسا دے مالِک

                                ىہ کَرم کر دے تو مىں شاد رہوں گا ىا ربّ!     ( وسائلِ بخشش)

اپنے نَفس کى تَربیت کیسے کریں؟

سُوال : تُرکى سے آئے ہوئے  اسلامى بھائى کا سُوال ہے کہ ہم  اپنے نَفس کى تَربىت کِس طرح کرىں؟

جواب : نَفس کى تَربىت ىہ تو بہت طوىل مَو ضوع ہے ، آج کل بچے کى تَربىت ناکوں چنے چبوا دىتی ہے ۔ نَفس تو ہے ہى بڑا مَکّار ، دَغا باز اور شَرارتى کہ  نىکىاں دِکھا کر گناہ کروا دىتا ہے اور بندہ سمجھتا ہے مىں نىکى کر رہا ہوں ۔ نَفس کى تَربىت کے لىے بعض اوقات  اس کے خِلاف کرنا ہوتا ہے مثلاً نَفس بولے ٹھنڈا پانی  پىو تو تم  گرم پىو ، نَفس بولے گرم کھانا کھا ؤ تم  ٹھنڈا کھاؤ ، نَفس بولے بَرىانى کھاؤ تو تم  روٹى کھاؤ ، اِس طرح نَفس کى مُخالفت نَفس کو تھکاتى ہے ۔ اس کے عِلاوہ اللہ تعالىٰ سے دُعا بھى کرتے  رہنا چاہیے کہ اللہ تعالىٰ ہمیں نَفس کى شَرارتوں سے مَحفوظ رکھے ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم  

یاد رَکھیے ! نَفس کى  تىن قسمىں ہىں : ( ۱) نَفْسِ اَمّارَہ ( ۲) نَفْسِ لَوَّامَہ ( ۳) نَفْسِ مُطْمَئِنَّہ ۔ نَفْسِ اَمّارَہ : ىہ وہ ہے جو گناہوں مىں ڈالتا ہے اور لذّتوں مىں پھنساتا ہے ۔ نَفْسِ لَوَّامَہ : یہ وہ ہے جب  بندہ کچھ غَلَط کام  کر لىتا ہے تو یہ اسے  ملامت کرتا ہے جس کے باعِث بندے کو  شرمندگى ہوتى ہے اور اِحساس ہوتا ہے کہ ىہ مىں نے غَلَط کیا ۔ نَفْسِ مُطْمَئِنَّہ : ( جو بندگانِ خُدا کو ذِکر ِ خُدا سے سکون پہنچاتا ہے ۔ ) ىہ سب سے اچھا ہے اللہ پاک  ہمیں نَفْسِ مُطْمَئِنَّہ کى سعادت نصىب فرمائے ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم ( [3])    

شافعی مذہب والے حنفی اِمام کے پیچھے نماز پڑھ سکتے ہیں؟

 



[1]    الروض الانف ، کتاب الحجر ، وفاة آمنة و حال رسول اللّٰه صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم... الخ ، ۱ / ۲۹۹  دار الکتب العلمیة بیروت ۔ مشہور مُفَسِّر ، حکیمُ الامَّت حضرتِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان  فرماتے ہیں : مَرنے کے بعد دُنیا میں لوٹ کر نہ آنا یہ ربّ کا قانون ہے اور حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کی دُعا پر مُردوں کا زندہ ہو کر آنا یہ ان کی خُصُوصیت ہے قانون اور خُصُوصیات میں فرق ہے ۔ یوں ہی حضورِ انور ( صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم) کا اپنے والدین کو زندہ کرنا ، انہیں کلمہ پڑھانا ، صحابی بنانا حضور ( صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم) کی خصوصیات سے ہے ۔ ( مراٰۃ المناجیح ، ۸ / ۵۵۳ ضیاء القرآن پبلی کیشنز مرکز الاولیا لاہور)

[2]    شعب الایمان ، باب فی الصبر علی المصائب ، فصل فی ذکر ما فی الاوجاع...الخ ، ۷ / ۱۷۱ ، حدیث : ۹۸۸۵ دار الکتب العلمیة  بیروت 

[3]    صِراطُ الجنان ، پ۳۰ ، الفجر ، تحت الآیۃ : ۲۸  ماخوذاًمکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی 



Total Pages: 13

Go To