Book Name:Aghwa Se Hifazat Kay Aurad

وُضو کا طریقہ “ نامی رِسالہ حاصل کر کے اس کا مُطالعہ کیجیے ، اس رِسالے میں وُضو خانہ بنانے کے مَدَنی پھول اور تَصویر بھی دی گئی ہے کہ کس طرح وُضو خانہ بنانا ہے ۔

وُضو کرنے اور نماز پڑھنے کا طریقہ سیکھئے

بیسن پر تو  پورا ہاتھ بھی نہیں دُھلتا صِرف اُنگلیاں ہی دھل پاتی ہیں کیونکہ بیسن پر ڈک شیپ کے چھوٹے سے نل لگے ہوتے ہیں البتہ کچن کے بیسن پر L شیپ کے نل لگائے جاتے ہیں لہٰذا اگر کچن میں وُضو کیا جائے تو اللہ پاک  کا نام بھی لیا جا سکتا ہے اور قدرے بہتر طریقے سے وُضو ہو سکتا ہے مگر کچن کا نل وُضو کرنے کے لیے نہیں بلکہ برتن دھونے کے لیے ہوتا ہے ۔ ( اس موقع پر نگرانِ شوریٰ نے فرمایا : ) چونکہ بیسن پر پاؤں دھونا مشکل ہوتا ہے اس لیے بڑے بوڑھے پاؤں دھونے کے لیے غسل خانوں کا رُخ کرتے ہیں اور وہاں کھڑے کھڑے نل کھول کر نیچے پاؤں رکھ لیتے ہیں اور پھر تھوڑی دیر بعد نل بند کر کے چل  دیتے ہیں اور یوں پاؤں دھوتے ہوئے نہ تو اُنگلیوں کا خلال کرتے ہیں اور نہ ہی پاؤں کے تلوؤں کو دیکھتے ہیں کہ اُن پر پانی بہا ہے یا نہیں؟اسی طرح جب کہنیوں سمیت دونوں ہاتھ دھوتے ہیں تو چلو میں تین بار  تھوڑا سا پانی لے کے  اوپر سے بہا دیتے ہیں ۔

( نگرانِ شوریٰ کی گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے  امیرِ اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے اِرشاد  فرمایا : ) اِس طرح وُضو کرنے سے صِرف وُضو کی رَسم ادا ہوتی ہے ۔ آجکل لوگوں کو نہ تو دُرُست طریقے سے وُضو کرنا آتا ہے اور نہ نماز پڑھنا آتی ہے ۔ وُضو اور نماز سیکھنے کے لیے جوان اور بزرگ سب سات دِن کا ”  فیضانِ نماز کورس “ کریں اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  کسی حَد تک وُضو اور نماز سیکھنے کا موقع ملے گا ۔ اس کے ساتھ ساتھ دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ   کتاب  ” نماز کے اَحکام “حاصل کر کے اس کا مُطالعہ کریں کہ اس  کتاب میں  ” وُضو کا طریقہ ، نماز کا طریقہ ، قضا نمازوں کا طریقہ ، نمازِ عید کا طریقہ ، نمازِ جنازہ کا طریقہ اور  ” مُسافر کی نماز “جیسے ضَروری مَسائل  پر مشتمل 12 مَدَنی رَسائل ہیں ۔  

عِبرت ہی عِبرت

میری مَدَنی بیٹیاں  ” اسلامی بہنوں کی نماز “ نامی کتاب کا مُطالعہ کریں ۔ اسلامی بہنوں کے لیے راولپنڈی کی ایک اسلامی بہن اُمّ الْحَسَنَیْن کا واقعہ عبرتناک ہے ۔ یہ  پہلے عام عورتوں کی طرح ایک ماڈرن خاتون تھیں ، چھ سال پہلے انہوں نے دعوتِ اسلامی کے تحت ہونے والے  ” فیضانِ شریعت کورس  “ میں داخلہ لیا جس کے باعِث ان کا دِل چوٹ کھا گیا اور یہ مَدَنی ماحول سے وابستہ ہو کر شَرعی پَردہ کرنے لگیں ۔ بے چاری ۶مُحَرَّمُ ا لْحَرَام کو اپنے چار بچوں کے ساتھ غالباً روڈ کراس کرنے کے لیے کھڑی تھیں کہ قریب سے گزرنے والی جیپ بے قابو ہونے  کی وجہ سے یا بَریک فیل ہونے کے سبب اچانک ان سے ٹکرا گئی  جس کے سبب  ان کے  تین بچے تو  بے چارے ہاتھوں ہاتھ وہیں دَم توڑ گئے ، ایک بچے نے ہسپتال میں دَم توڑا اور اُمّ الْحَسَنَیْن کَرب و اِضطراب اور تکلیف میں رہیں بالآخر انہوں نے بھی ۱۰مُحَرَّمُ ا لْحَرَام کی رات دَم توڑ دیا اور یوں دیکھتے ہی دیکھتے سارا  گھر اُجڑ گیا اور بچوں کے اَبو بے چارے رونے کے لیے اکیلے رہ گئے ۔ اللہ پاک اس خاندان پر رحم و کرم فرمائے ۔ اس واقعے میں ہمارے لیے عبرت ہے کہ ہم کیا  پھوں پھاں کریں !بچے اُٹھانے اور اِغوا کرنے والو تم بھی سُنو! تم نے یہ کیا لگا رکھا ہے ؟ ڈاکوؤں تم بھی سنو! تم نے یہ کیا دہشت پھیلا رکھی ہے ؟دہشت گردو تم بھی سنو! تم نے یہ کیا   مارا ماری لگا رکھی ہے ؟یاد رکھو! تمہارا یہ ڈکیتیاں ، چوریاں اور مارا ماری کرنا عارضی ہے ، ان کاموں میں تمہارے لیے  تھوڑی سی لذّت ہے اور پھر اس کے بعد اندھیری قبر بلکہ اس سے  پہلے نزع کی سختیاں ہیں ۔ موت کا ایک جھٹکا تلوار کے ہزار  وار سے سخت تر ہے ۔ تلوار کی کاٹ بَرداشت کرنا تو دُور کی بات ہے اگر کسی کو ایک لاٹھی جو پولیس والوں کے پاس ہوتی ہے جسے اُردو میں بید اور ہماری گجراتی میں نیتر  کہتے ہیں لگ جائے تو وہ چلا اُٹھے گا ۔

نزع کی سختیاں

اَمِیْرُ الْمُؤْمِنِیْنمولا مشکل کُشا حضرتِ سَیِّدُنا عَلِیُّ المرتضیٰ شیرِِ خُدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے جہاد کی تَرغیب دِلاتے ہوئے اِرشاد فرمایا : اگر راہِ خُدا میں شہید نہ ہوئے اور بِستر پر مَرے تو یاد رکھو مَر جاؤ گے ۔ ( [1]) مَر جاؤ گے یہ بطورِ محاورہ کہا جاتا ہے اور اس سے مُراد یہ ہوتا ہے کہ  مصیبت میں پڑ جاؤ گے ۔ بندے کو نَزع کے وقت سخت تکلیف ہوتی ہے ۔ جب رُوح نکلتی ہے تو پاؤں سے نکلنا شروع ہوتی ہے اور جوڑوں پر  آ کر رُک جاتی ہے اور  پھر آگے بڑھ کر   گلے میں اٹک جاتی ہے ۔ اِس دَوران مجرموں کو فرشتے مارتے ہیں ، ہم اللہ پاک  سے عافیت کا سُوال کرتے ہیں ۔ بعضوں کی سکرات کئی کئی دِن تک چلتی ہے جسے ڈاکٹر کوما  کا نام دیتے ہیں ۔ خیال رہے کہ ہر کوما  سکرات نہیں ہوتا کہ بعض لوگوں کو بے ہوشی کے بعد ہوش بھی آ جاتا ہے مگر جسے واقعی سکرات لگتی ہے تو وہ واپس پلٹ کر نہیں آتا ۔ ہاں



[1]    مکاشفة القلوب ، الباب الرابع والاربعون فی بیان شد ة  الموت ، ص۱۶۷  ملخصاً  دار الکتب العلمیة  بیروت 



Total Pages: 13

Go To