Book Name:Aghwa Se Hifazat Kay Aurad

پاؤں بھاگ کھڑے ہوں تو تعویذ کی بَرکت سے اللہ پاک کی طرف سے اس طرح کے اَسباب پیدا ہو سکتے ہیں اور یوں تعویذ کے ذَریعے  بچوں کی حِفاظت کی صورت بن سکتی ہے ۔

بڑوں کی حِفاظت کا وَظیفہ

بڑوں کے لیے حِفاظت کا وَظیفہ یہ ہے کہ جب وہ وُضو کریں تو ہر عُضو دھوتے وقت ایک بار ” یَا قَادِرُ “پڑھ لیا کریں مثلاًجب وُضو  شروع کریں تو سیدھا اور اُلٹا ہاتھ دھوتے ہوئے ایک بار ” یَا قَادِرُ “پڑھ لیں ، اِسی طرح جب ایک بار کلی کر لیں  تو دوسری بار کلی کرنے سے پہلے ایک بار  ” یَا قَادِرُ “پڑھ  لیں ، پھر جب ایک بار ناک میں پانی چڑھا لیں تو اب رُک جائیں  اور ایک بار  ” یَا قَادِرُ “پڑھ کر مزید دو بار ناک میں پانی  چڑھا لیں ۔ اِسی طرح ہر عُضو دھوتے  اور سر کا مسح کرتے وقت ایک بار ” یَا قَادِرُ “پڑھ لیں ، اس کے ساتھ ساتھ دُعائیں بھی پڑھی جا سکتی ہیں مگر دُعاؤں کی جگہ دُرُود شریف پڑھنا افضل ہے لہٰذا دُرُود شریف پڑھ لیا جائے ۔ اگر لوگ اِس طرح اِحتیاطیں بَرتیں گے اور اَوراد و وَظائف پڑھیں گے تو  اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ بہتریاں آئیں گی ۔

بیسن پر وُضو کرتے ہوئے  ” یَا قَادِرُ “پڑھنا کیسا؟

سُوال : کیا واش روم میں بیسن پر وُضو کرتے ہوئے بھی  ” یَا قَادِرُ “پڑھ سکتے ہیں؟ ( [1])

جواب : آج کل پیسے والے لوگوں کے  گھر وں میں آسائشوں کا پورا اِنتظام ہوتا ہے اور زبردست ڈیکوریشن ہوتی ہے ۔ اِسی طرح متوسط یعنی  دَرمیانے طبقے کے لوگوں اور جو صِرف نام کے غریب ہوتے ہیں ان کے گھروں میں بھی ڈیکوریشن اور سجاوٹیں ہوتی ہیں مگر وُضو خانہ نہیں ہوتا ۔ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ لوگوں میں سے بھی کسی کسی  کے گھر  وُضُو خانے کا اِہتمام ہوتا ہے  حالانکہ گھروں میں وُضو خانہ بنانے کی بارہا  تَرغیب دِلائی گئی ہے اور راہ نُمائی کے لیے مکتبۃ المدینہ کا شائع کردہ ” وُضُو کا طریقہ “ نامی رِسالے  میں وُضو خانے کا  نَقشہ بھی چھاپا گیا ہے ۔ عام طور پر گھروں میں بیسن پر وُضو کیا  جاتا ہے اور بیسن واش روم کے ساتھ بنا ہوتا ہے ۔ یاد رَکھیے !اگر بیسن واش روم  کے ساتھ بنا ہو تو وُضو کرتے ہوئے   ” یَا قَادِرُ “اور وُضو کرنے سے پہلے  ” بِسْمِ اللہنہیں پڑھ سکتے ۔ چونکہ وُضو سے پہلے  ” بِسْمِ اللہ پڑھنا مستحب ہے اور فقط اللہ پاک  کا نام لینا سُنَّتِ مؤکدہ ہے ۔ ( [2]) اس لیے  واش روم  میں لگے ہوئے بیسن پر وُضو کرنے کے باعِث اگر اسے  چھوڑنے کی عادت بنائیں گے تو  گناہ گار  ہو جائیں گے لہٰذا ایسی صورت میں  ” بِسْمِ اللہ “پڑھنے کے لیے واش روم سے باہر نکلنا ضَروری ہو جائے گا ۔

W.C اور بیسن دونوں   کو الگ الگ کیجیے

اگر واش روم  کا اِحاطہ بڑا ہو تو W.C یا کموڈ ( Commode) کو سِلائیڈنگ ڈور یا  گلاس ( یعنی شیشہ) لگا کر اِس طرح کور کر لیں کہ یہ دیکھنے میں الگ لگے تو اس صورت میں بیسن پر وُضو کرتے ہوئے  ” یَا قَادِرُ “اور  ” بِسْمِ اللہ “پڑھنے میں حَرج نہیں ۔ یاد رہے خالی پلاسٹک کا پردہ لگا کرW.C یا کموڈ کو کور کرنے سے کام نہیں چلے گا بلکہ اس کے لیے کسی سولڈ چیز مثلاً لکڑی ، سیمنٹ ،  اَلُومینیم یا  ہارڈ بورڈ کی دِیواریں لگا کر کور کرنا ضَروری ہے ۔ میں نے اپنے گھر کے  واش روم میں اور فیضانِ مدینہ میں اپنے زیرِ اِستعمال  واش روم میں W.C کو اسی طرح کور کیا ہوا ہے ۔ مجھے  کبھی کبھار جب  اَرب  پتی لوگوں کے گھروں میں جانے کا اِتفاق ہوتا ہے تو وُضو کرنے میں مَزہ نہیں آتا کیونکہ بیسن پر کھڑے کھڑے وُضو کرنا پڑتا ہے ۔ جن گھروں میں بیسن پر وُضو کرنا پڑتا ہے یا تو ان گھروں میں بڑے بوڑھے نہیں ہوتے  ہوں گے یا پھر بے چارے کھڑے کھڑے وُضو کرتے ہوں گے جس کے باعِث بے چاروں کی ٹانگوں میں دَرد ہو جاتا ہو گا اور بسااوقات وہ  گِر بھی پڑتے ہوں گے ۔ خیال رہے کہ جب بوڑھا آدمی گِرتا ہے تو اگر اس کی کسی  نازک جگہ پر چوٹ آ جائے یا  پھر ہڈیاں ٹوٹ جائیں تو وہ اُٹھ نہیں سکتا بلکہ اُسے کندھے پر اُٹھا کر لے جانا پڑتا ہے اور پھر بے چارے کو  تکلیفیں اُٹھا کر زندگی کے سال دو سال پورے کرنے پڑتے  ہیں کیونکہ کمزور ہونے کے باعِث ہڈیاں آسانی سے جُڑتی نہیں ہیں ۔ آج کل گھروں میں لوگ طرح طرح کی آسائشیں ، سوئمنگ پول اور حوض بناتے ہیں مگر وُضو خانہ بنانے کے لیے اُن کے پاس دو گز جگہ نہیں ہوتی ۔ اپنے گھروں میں ایسی جگہ کہ جہاں وُضو کرنے میں سُستی نہ ہو مسجد کے وُضو خانے کی طرح ایک وُضو خانہ بنائیے اور اس میں ایک یا دو نل لگائیے اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  وُضو کرنے میں بہت سہولت ہو جائے گی ۔ اگر اس نیت سے اپنے گھر میں وُضو خانہ بنائیں گے کہ اللہ پاک  کا نام لے سکیں ، دُرُودِ پاک   پڑھ سکیں اور ”  یَا قَادِرُ “پڑھ سکیں تو یہ وُضو خانہ بنانا بھی عبادت بن جائے گا ۔ وُضو خانہ کس طرح بنایا جائے اس کے لیے دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃ المدینہ سے  ”



[1]    یہ سُوال شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ کی طرف سے قائم کیا گیا ہے جبکہ جواب امیر اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا عطا فرمودہ  ہی ہے ۔ ( شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ)  

[2]    البحر الرائق ، کتاب الطھارة ، ۱ / ۳۹ کوئٹه ۔ حاشية الطحطاوی علی مراقی الفلاح ، ص۶۷ باب المدینه کراچی 



Total Pages: 13

Go To