Book Name:Aghwa Se Hifazat Kay Aurad

ہوتے ہیں ۔ حتّٰی کہ انہیں دُرُست طریقے سے اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ اور وَعَلَیْکُمُ السَّلَامکہنا نہیں آتا ۔ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم اور لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ صحیح تَلَفُّظ سے نہیں پڑھ سکتے ۔ سُبْحٰنَ اللہ کو سُبْھَانَ اللہ اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہ  کو اَلْھَمْدُ لِلّٰہ پڑھتے ہیں ۔ دُنیوی تعلیم میں اعلیٰ اعلیٰ ڈِگریاں حاصِل کرنے والے قرآنِ کریم دیکھ کر نہیں پڑھ سکتے ۔ ان میں سے جنہیں مان ہے کہ ہمیں نماز اور قرآنِ کریم آتا ہے تو وہ بھی جب کسی قاری صاحب کو سُنائیں گے تو حقیقت کھل جائے گی کہ  یہ مان بالکل غَلَط تھا ۔ جو بندہ قرآنِ کریم دیکھ کر بھی نہ پڑھ سکے تو اسے پڑھا لکھا کیسے کہہ سکتے ہیں! افسوس!اب مسلمان کے پاس دِینی تعلیم کے لیے وقت ہی نہیں ۔ دُنیوی تعلیم کے حُصُول میں پیسا اور عمر کا قیمتی حصّہ ہر ایک لگا رہا ہے حالانکہ اس کا نفع صِرف دُنیا کی حَد تک ہے ۔  

جہیز کی نُمائش کرنا کیسا؟

سُوال : بعض جگہ یہ رَواج ہے کہ جہىز مىں دیئے گئے سامان کو باقاعدہ سجا کر مہمانوں کے سامنے پیش کیا جاتا ہے ، بعض جگہ ایک شخص کھڑے ہو کر اِعلان بھی کر رہا ہوتا ہے کہ ىہ سونے کا سیٹ اتنے تولے کا ہے تو یہ سب کرنا کیسا ؟

جواب : جہیز کی نُمائش کرنے میں کوئی شَرعی ممانعت تو نظر نہیں آتی اَلبتہ اس مىں اَخلاقی اور مُعاشرتی خَرابىاں ضَرور ہىں ۔ مُعاشرے میں نمود ونمائش کا شوق اس قدر سِرایت کر چکا ہے کہ مسجد مىں چندہ دىتے وقت بھی خواہش کی جاتی ہے کہ نام لے کر دُعا کی جائے تاکہ لوگوں کو بھی پتا چل جائے کہ مابدولت نے مسجد کو چندہ دینے کا اِحسان کیا ہے ۔

اِغوا سے حفاظت کی اِحتیاطی تدابیر اور اَوراد و وَظائف

سُوال : آج کل بچے بہت زیادہ  اِغوا ہو رہے ہیں لہٰذا اِس حوالے سے اِحتیاطی تدابیر اور اَوراد و وَظائف بتا دیجیے ۔ ( زَم زَم نگر حیدر آباد سے سُوال)

جواب : جی ہاں! آج کل بچوں کے اِغوا ہونے کا سِلسِلہ جاری ہے ۔ اللہ پاک کرم فرمائے  پتا نہیں بچوں کو کیوں اِغوا کیا جا رہا ہے ۔ مجھے صَوتی پیغام کے ذَریعے ایک اسلامی بھائی نے بتایا کہ حال ہی میں زَم زَم نگر ( حیدر آباد) میں ایک چھ سالہ بچی کو اِغوا کیا گیا اور پھر دوسرے دِن اُس کی لاش بوری میں بند ٹکڑوں کی صورت میں ایک کَچْرا کونڈی کے ڈھیر سے ملی ۔ بے چاری چھ سالہ بچی کو اِس طرح بے دَردی کے ساتھ شہید کر کے کچرا کونڈی پر ڈال دینا سمجھ سے باہر ہے ۔ عموماً دُشمنی اور خاندانی مَسائل کی بِنا پر لوگ اِس طرح کی وارداتیں کرتے ہیں ۔ اس واقعے میں بے چاری بچی کے ماں باپ کے لیے بڑے صَدمے کی بات ہے اللہ پاک انہیں صَبر عطا فرمائے ۔ اِسی طرح تاوان کی رَقمیں وُصُول کرنے کے لیے جب کسی کے بچے کو اُٹھایا جاتا ہو گا تو اس کے  پورے خاندان ، کنبے اور قبیلے کی نیند اُڑ جاتی ہو گی!ظاہر ہے بچوں کے اِغوا کی وارداتیں کرنے والے مَدَنی چینل نہیں دیکھتے ہوں گے کیونکہ اگر دیکھتے تو پھر اس طرح کے  کام نہ کرتے ۔ بچے اِغوا  کر کے لوگوں کو پریشان کرنے والوں کو اللہ پاک ہدایت نصیب فرمائے اور کاش! انہیں یہ سوچنے کے توفیق مِل جائے کہ بچے اِغوا کرنا گناہ کا کام ہے اور انہیں عنقریب مَرنا ہے ۔

بچوں کو تنہا نہ چھوڑا جائے

بچوں کی حِفاظت کے لیے  ایک اِحتیاطی تدبیر یہ ہے کہ بچوں کو تنہا نہ چھوڑا جائے اور آنے جانے میں ان کے ساتھ  کوئی نہ کوئی بڑا ضَرور موجود ہو کیونکہ تنہا ہونے  کی صورت میں یقیناً اُن کے اِغوا ہونے کا خَطرہ  بڑھ جائے گا اور کسی بڑے کا  ساتھ ہونے کی صورت میں کم ہو جائے گا ۔ نیز بچوں کو یہ تَربیت بھی دی جائے کہ انہیں جب کوئی پکڑنا چاہے تو وہ رونا دھونا اور چیخ و پکار شروع کر دیں تاکہ اِغوا کرنے والے اس خوف سے  گھبرا کر بھاگ جائیں کہ لوگ اکٹھے ہو کر انہیں کہیں پکڑ نہ لیں ۔ بچوں کا یہ ذہن بھی بنایا جائے کہ کوئی کتنا ہی لالچ دے ، ٹافیاں اور کھلونے دِکھائے مگر وہ اُس کے ساتھ نہ جائیں ۔ ہمیں گھر میں شروع سے ہی یہ تعلیم و تَربیت  دی گئی کہ کوئی پیسا یا  کوئی اور چیز دے  بلکہ میری والدہ تو یہاں تک کہتی تھیں کہ اگر کوئی سونے کا ڈھیر بھی  تمہارے سامنے کر دے تب بھی اس کے پاس نہیں جانا ۔

بچوں کی حِفاظت کا وَظیفہ

بچوں کی حِفاظت کا وَظیفہ یہ ہے  کہ اَوّل و آخر ایک بار دُرُود شریف اور گیارہ بار  ” یَا حَافِظُ یَا حَفِیْظُ “پڑھ کر اگر  بچوں پر دَم کر دیا جائے تو حِفاظت کا حِصار مِل جائے گا اور  اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کوئی انہیں اِغوا نہیں کر پائے گا ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ  مجلسِ مکتوبات و تعویذاتِ عطّاریہ کے تحت ملک و بیرونِ ملک سینکڑوں  بلکہ ہزاروں بستے قائم ہیں اور عالَمی مَدَنی مَرکز فیضانِ مدینہ بابُ المدینہ ( کراچی) میں بھی بستہ قائم ہے لہٰذا تعویذاتِ عطّاریہ کے بستوں سے حِفاظت کا تعویذ حاصِل کر کے بچوں کو پہنا دیا جائے تاکہ اگر کوئی انہیں اِغوا کرنا چاہے تو اس وقت انہیں  چیخ و پُکار یاد آ جائے اور وہ چیخنا پُکارنا شروع کر دیں یا اللہ پاک اُن کی مدد کے لیے کسی کو بھیج دے اور اِغوا کرنے والے اُسے دیکھ کر بھاگ جائیں یا  اِغوا کرنے کے لیے جب وہ  بچوں کی طرف ہاتھ بڑھائیں تو اُن پر خوف طاری ہو جائے اور وہ اُلٹے



Total Pages: 13

Go To