Book Name:Aghwa Se Hifazat Kay Aurad

( رُکنِ شوریٰ نے مزید فرمایا : ) جن لوگوں کا کام ، کاروبار مىں دِل نہىں لگتا ان کے لیے اَمیرِاہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  نے یہ وَظیفہ تحریر فرمایا کہ  ” یَا اَللہُ 101بار کاغذ پر لکھ کر تعویذ بنا کربازو پر باندھ لیجئے ، اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ جائز کام دھندے اور حلال نوکری میں دِل لگ جائے گا ۔  “ ( [1]) اگر گھر میں بیماری اور غُربت و ناداری نے بسیرا کر لیا ہو توبِلا ناغہ سات روز تک ہر نَماز کے بعد  ”  یَارَزَّاقُ ، یَارَحْمٰنُ ، یَارَحِیْمُ ، یَاسَلَامُ “112 بار پڑھ کر دُعا کیجئے ، اِنْ شَآءَاللہ عَزَّوَجَلَّ بیماری ، تنگدستی و نادار ی سے نَجات حاصِل ہو گی ۔ ( [2]) اِسى طرح اگر آپ چاہتے ہىں کہ چورى سے حِفاظت ہو تو  ” یَاجَلِیْلُ( اے بزرگی والے ) 10 بار پڑھ کر اپنے مال و اَسباب اور رَقم وغیرہ پر دَم کر دیجئے ، اِنْ شَآءَاللہ عَزَّوَجَلَّ چوری سے محفوظ رہے گا ۔ ( [3])

خوشی وغمی کے رَسم و رَواج

سُوال : ہمارا مُعاشرہ خوشى اور غمی کی مختلف رَسم و رَواج  میں جَکڑا ہوا ہے ۔ خاندان کے بڑے بوڑھے بھى اِن رَسم و رَواج کا حِصّہ بننے پر زور دىتے ہىں تو آپ اس بارے میں کیا فرماتے ہیں ؟

جواب : یہ بہت اَہم اور جامع سُوال ہے ۔ واقعی ہمارے مُعاشرے میں خوشی اور غمی کے مَواقع پر رَسم و رَواج کی بَھرمار ہے ۔ ہر قوم ، ہر بَرادرى مىں رَسم و رَواج  کا الگ الگ اَنداز ہے ۔ منگنی ، شادی ، نِکاح ، وَلیمے کے موقع پر مہندی ، مایوں اور نہ جانے کیا کیا رُسُوم  رائِج ہیں ۔ گھر میں مَىِّت ہو جائے تو اس کے اپنے رَسم و رَواج ہىں ۔ مَعلومات کى کمى کی وجہ سے مُعاشرے میں اتنا بگاڑ پیدا ہو گیا ہے کہ اللہ  کی پناہ ۔ بظاہر مُعاشرے کے  سُدھار کے اِمکانات بہت کم نظر آتے ہیں اس لیے کہ اب جہالت اِس قدر بڑھ چکی ہے کہ جاہل خود کو جاہل ماننے کو تیار نہیں ۔ اگر ایسوں کو غَلَطی بتائی جائے تو رُجوع کرنے کے بجائے  بحث وتکرار کرتے ہیں کہ ہمیں نہ سمجھائیں ہمیں سب معلوم  ہے ۔ خاندان کے بڑے بوڑھے اور عورتیں اِن رُسُوم کی ایسے پابندی کرتے اور کرواتے ہیں گویا شریعت کا حکم ہو ۔ ایسے لوگوں کی اِصلاح کیسے ہوگی جو خود کو غَلَط ماننے کو تیار ہی نہ ہوں ۔ خاص کر بوڑھے اَفراد کو سمجھانا جُوئے شِیر لانے ( یعنی مشکل یا  ناممکن کام سر انجام دینے ) کے مُترادِف ہے ۔

ہم رَسم و رَواج کے نہیں شریعت کے پابند ہیں

اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ ہم مسلمان ہیں ۔ ہم رَسم و رَواج کے نہیں بلکہ قرآن و حدىث کے پابند ہىں ۔ ہمیں اللہ و رسول عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے اَحکامات کی بجاآوری کرنی چاہیے اور یہ اَحکامات جاننے کے لیے ہمیں عُلَمائے کِرام  کَثَّرَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام کا دامن پکڑنا ہو گا ۔ گھر میں خوشی غمی کی کوئی بھی تَقریب ہو اُسے شَریعت کے مُطابق بجا لانے کے لیے کسی عاشِقِ رَسول مُفتىِ اِسلام سے راہ نُمائی لی جائے کہ میری منگنی یا ولیمے کی تَقریب ہے اس میں مجھے کیا کیا اِحتیاطیں کرنی چاہئیں ۔ موت مَیِّت کے موقع پر بھی راہ نُمائى لی جائے تاکہ تمام اُمُور شَریعت کے مُطابق کیے جاسکیں ۔ مُعاشرے کو رَسم و رَواج چُھڑا کر شَریعت کا پابند بنانے کے لیے دعوتِ اسلامی کو پَروان چڑھانا ہو گا ۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ دعوتِ اسلامی سے وابستہ اسلامی بھائیوں اور اسلامی بہنوں کا یہ ذہن بنا ہوتا ہے کہ ہمیں شَرعی اَحکامات کے مُطابق اپنے مُعاملات بجا لانے ہیں ۔ دعوتِ اسلامی کو تقریباً 38 سال ہونے کو ہیں ، مجھ سمیت کئی ایسے اَفراد ہیں جنہوں نے مَدَنی ماحول میں رہتے ہوئے بڑھاپے کی دہلیز پر  قدم رکھا ہے تو  مَدَنی ماحول سے وابستہ بوڑھے اَفراد اور عام بوڑھوں میں بہت فرق ہو گا ۔ عام بوڑھے لوگ خاندانی رَسم و رَواج کو تَرجیح دیں گے جبکہ مَدَنی ماحول سے وابستہ بوڑھے مَدَنی ذہن ہونے کی وجہ سے شَریعت کی پابندی کرتے ہیں ۔ دعوتِ اسلامی کا مَدَنی پیغام دُنیا بھر میں  پہنچانے کے لیے خوب خوب مَدَنی قافلوں میں سفر کیجئے اور اپنی اِصلاح کے لیے مَدَنی اِنعامات پر عمل کرکے روزانہ فکرِ مدینہ کیجئے ۔ بعض لوگ مَدَنی ماحول سے تو وابستہ ہوتے ہیں لیکن ہفتہ وار  سُنَّتوں بھرے اِجتماع اور مَدَنی مذاکرے میں شِرکت کے بجائے فقط بڑی راتوں کے اِجتماعات میں آتے ہیں تو ایسوں کو چاہیے کہ عِلمِ دِین سیکھنے کے لیے ہفتہ وار  سُنَّتوں بھرے اِجتماع اور مَدَنی مذاکرے میں شِرکت کریں اور مَدَنی قافلوں کے مُسافر بنیں ۔ بچہ بھی تو مسلسل اسکول ، کالج اور  یونیورسٹی جا کر ہی میٹرک اور اعلیٰ دُنیوی تعلیم حاصِل کر پاتا ہے تو اسی طرح عِلمِ دِین سیکھنے کے لیے بھی مسلسل کوشش ضَروری ہے ۔

پڑھے لکھے جاہل  سے مُراد

سُوال : آپ اپنی گفتگو میں پڑھے لکھے جاہِلوں کا تَذکرہ کرتے ہیں ، تو یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی پڑھنے لکھنے کے باوجود جاہل ہو؟( [4])  

جواب : پڑھے لکھے جاہِلوں سے میری مُراد وہ لوگ ہوتے ہیں جو دُنیوی تعلیم حاصِل کر کے اَعلیٰ ڈِگریاں لے لیتے ہیں لیکن دِینی تعلیم میں بالکل کورے کے کورے



[1]    چڑیا اور اندھا سانپ ، ص۲۹ مکتبۃالمدینہ باب المدینہ کراچی

[2]    چڑیا اور اندھا سانپ ، ص۳۰ 

[3]    چڑیا اور اندھا سانپ ، ص۲۹ 

[4]    یہ سُوال شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ کی طرف سے قائم کیا گیا ہے جبکہ جواب امیرِ اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا عطا فرمودہ  ہی ہے ۔  ( شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ)



Total Pages: 13

Go To