Book Name:Aghwa Se Hifazat Kay Aurad

معمر اسلامی بھائی اور مَدَنی مرکز میں اِعتکاف

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! پورے ماہِ رَمَضان کا اِعتکاف کرنے کی نیت فرمالیجیے چاہے آپ نے گزشتہ بَرسوں میں ایک ماہ کا اِعتکاف کیا ہو یا نہ کیا ہو اور نیت کرتے ہی اس کی تیاری بھی شروع کر دیجیے ۔ اگر نیت سچی ہوئی تو نیت کرتے ہی اس کا ثواب مِلنا شروع ہو جائے گا ۔ بعض خوش نصیب تو اِعتکاف کے ایسے شیدائی ہوتے ہیں  کہ طرح طرح کی آزمائشوں کے باوجود وہ اِعتکاف کرنے سے پیچھے نہیں ہٹتے خُصُوصاً ہمارے مُعَمَّر( یعنی بوڑھے ) اسلامی بھائی سالہا سال سے اِعتکاف کر رہے ہیں انہیں منع بھی کیا جائے تو نہیں مانتے اور کسی حال میں اپنے گھر جانے کے لیے تیار نہیں ہوتے ۔ چونکہ اِجتماعی اِعتکاف میں بہت  رَش ہوتا ہے تو مَعذور اسلامی بھائی اور ہمارے مُعَمَّر بزرگ سخت آزمائِش میں آجاتے ہیں ان کو اِستنجا وُضو کے مُعاملات میں کافی پریشانی ہو جاتی ہے اسی وجہ سے اب   ہم نے یہ اُصُول بنا دیا ہے کہ عالَمی مَدَنی مرکز فیضانِ مدینہ بابُ المدینہ( کراچی) میں پچاس سال سے زائد عمر کے اسلامی بھائیوں کو اِعتکاف میں نہ بٹھایا جائے ۔ البتہ فیضانِ مدینہ میں  بعض ایسے مُعَمَّر اسلامی بھائی بھی ہیں جن کی عمر 70 بَرس ہو چکی ہے لیکن یہ کافی عرصے سے فیضانِ مدینہ میں ہی اِعتکاف کر رہے ہیں لہٰذا صرف ان اسلامی بھائیوں کو فیضانِ مدینہ میں اِعتکاف کی اِجازت ہے  کیونکہ  عرصۂ دراز سے فیضانِ مدینہ میں اِعتکاف کرنے کی وجہ سے ان اسلامی بھائیوں کو کافی تجربہ ہو چکا ہے ، انہیں مَدَنی مرکز کے اُصولوں اور جَدول وغیرہ کا عِلم ہوتا ہے اس وجہ سے اُمّید ہے کہ  یہ دِیگر اسلامی بھائیوں کی تکلیف کا سبب نہیں بنیں گے ۔ نئے آنے والے مُعَمَّر اسلامی بھائی جن کی عمر 50 بَرس سے زائد ہو انہیں فیضانِ مدینہ میں اِعتکاف کرنے کی اِجازت نہیں کیونکہ انہیں فیضانِ مدینہ میں اِعتکاف کا  تجربہ نہیں ہو گا چونکہ پہلے ہی  عمر رسیدہ ہونے کی وجہ سے جسم کافی کمزور ہو چکا ہو گا پھر اِعتکاف کے جَدول کی وجہ سے مزید کمزوری ہو جائے گی ،  اگر یہ بیمار ہو گئے تو انہیں سنبھالنا مشکل ہو گا ۔ نیز اِستنجا خانوں اور وُضو خانوں پر شدید بھیڑ ہونے کی وجہ سے  بھی یہ پریشان ہو جائیں گے لہٰذا ایسے مُعَمَّر اسلامی بھائی عالَمی مَدَنی مَرکز فیضانِ مدینہ میں  اِعتکاف کرنے کے لیے تشریف نہ لائیں ۔

کیا اسلامی بہنیں اِجتماعی اِعتکاف کر سکتی ہیں؟

سُوال : کیا اسلامی بہنیں اِجتماعی اِعتکاف کر سکتی ہیں؟( مَدَنی مَرکز میں موجود اسلامی بھائی کا سُوال)

 جواب : جی نہیں! اسلامی بہنیں اِجتماعی اِعتکاف نہیں کر سکتیں ۔ کیونکہ عورت کے لیے مسجدِ بیت یعنی گھر کا وہ حِصّہ جو اس نے نماز پڑھنے کے لیے مخصوص کیا ہو اسی میں اِعتکاف کرنے کی اِجازت ہے ۔ ( [1]) لہٰذا اگر کسی اسلامی بہن کو اِعتکاف کرنا ہو تو وہ صِرف مسجدِ بیت ہی میں کرے ۔ اگر گھر میں کوئی جگہ نماز پڑھنے کے لیے مخصوص نہ ہو تو اِعتکاف سے پہلے کوئی جگہ جیسے گھر کا کوئی کمرہ یا حصہ مخصوص کرلے کہ وہ اسی جگہ نماز پڑھے گی  پھر وہیں اِعتکاف بھی کرلے ۔

اسلامی بہنوں کا معاشرے میں کِردار

سُوال : اسلامی بہنیں مُعاشرے کو سُدھارنے  میں  اپنا کیا کِردار ادا کر سکتی ہیں؟ ( [2])

 جواب : اسلامی بہنیں مُعاشرے میں بہت اَہم کِردار ادا کر سکتی ہیں ۔ ہر شخص کے لیے سب سے پہلی تَربیت گاہ ماں کی گود ہی ہوتی ہے ، اگر ماں کے اندر خوفِ خُدا اور عشقِ مصطفے ٰ ہوگا تو اس کا اثر اولاد میں بھی منتقل ہو گا ۔ لہٰذا تمام اسلامی بہنوں کو چاہیے وہ اپنے اوپر اسلا می تعلیمات کو نافذ کرنے کی بھر پور کوشش کریں  اپنی ذات کو سنتوں کے سانچے میں ڈھالیں ، نیز  اپنی گفتار ، کِردار اور اخلاق کو عمدہ سے عمدہ بنانے کے لیے خوب تگ و دو کریں ۔ تاکہ ان کی گود میں تربیت پانے والے مَدَنی مُنّے اور مَدَنی  منیاں ان کا یہ اَثر لے کر مُعاشرے میں مثبت تبدیلی کا سبب بنیں ۔ اسلامی بہنوں کو چاہیے کہ اپنی اولاد کی بہترین تَربیت کرنے کے لیے مکتبۃُ المدینہ کی شائع کردہ کتاب  ” تربیتِ اَولاد  “  کا مُطالعہ کریں ۔

اسلامی بہنوں کا گھر میں رہنے کا اَنداز

سُوال : اسلامی بہنوں کا گھر میں رہنے کا کیا انداز ہونا چاہیے ؟

 جواب : اسلامی بہنیں اپنے والدین ، بہن بھائی اور اپنے سُسرال والوں کے ساتھ اچھا برتاؤ رکھیں ۔ تلخ لہجہ اپنانے کے بجائے ہمیشہ نرمی سے پیش آئیں ۔ ساس اور نندوں کو اپنی ماں اور بہن کی جگہ سمجھیں ۔ اگر ان کی طرف سے دِل آزار لہجہ اپنایا جائے تو اسے بَرداشت کریں اور ہرگز جوابی کاروائی نہ کریں ۔ اگر اسلامی بہنیں میرے بیان کردہ ان مَدَنی پھولوں پر عمل  کریں گی تو اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  اپنے سُسرا ل میں ہر ایک کی منظورِ نظر ہونے کے ساتھ ساتھ  پورے  سُسرال پر راج کریں گی ۔ یوں( غیبت وغیرہ) گناہوں کا دَروازہ  بھی نہیں کھلے گا اور  میکے اور سُسرال میں مَدَنی بہار بھی آجائے گی اور سارے گھروالے نیکیوں کے راستے پر چل



[1]    درمختار ، کتاب الصوم ، باب الاعتکاف ، ۳ / ۴۹۴ ماخوذاً  دارالمعرفة  بيروت

[2]    یہ سُوال شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ کی طرف سے قائم کیا گیا ہے جبکہ جواب امیرِ اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا عطا فرمودہ  ہی ہے ۔  ( شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ)  



Total Pages: 13

Go To