Book Name:Aghwa Se Hifazat Kay Aurad

کیا تو مولانا لوگوں کو تنگ کرنے کے لیے بیٹھ گیا ہے ؟ مگر میں بالکل سنجیدہ ہوگیا اور ان سے ایسا کوئی مذاق نہ کیا ۔  “ پھر نگرانِ شوریٰ پر اِعتکاف کا ایسا رنگ چڑھا کہ آج وہی عمران نگرانِ شوریٰ بن کر  لوگوں کے سامنے موجود ہیں اور دُنیا کی بہت بڑی تعداد ان کی عقیدت مند ہے ۔ اکثریت ان کے بیان سے مطمئن ہوتی ہے نیز ان کا بیان سننے والے اپنے اندر تبدیلی محسوس کرتے ہیں ۔ یقیناً یہ ساری بہاریں اِعتکاف کی وجہ سے ہی ہیں اس کے باوجود اگر کوئی شخص اِعتکاف کرنے کے بعد بھی نیکیوں کی راہ پر نہیں آتا اور اس کے اندر کسی قسم کی تبدیلی نہیں ہوتی تو یہ اس کا اپنا نصیب ہے ۔

حضرتِ سَیِّدُنا وَہب بِن مُنَبِّہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ تابعی بزرگ ہیں ان کے فرمان کا خُلاصہ ہے : بعض لوگ عِلمِ دِین حاصِل کرتے ہیں اس کے باوجود سُدھرتے

نہیں  بلکہ ان میں خوب بگاڑ ہوتا ہے جو فَساد کا باعِث بنتا ہے ۔ ( [1]) یعنی اگر کسی کے دِل میں فَساد کا بیج موجود ہو تو عِلمِ دِین حاصِل کرنے کے  باوجود اس کے دِل سے فَساد ہی پیدا ہوگا کہ وہ بیج دِن بدن پَرورِش پاتا رہے گا بالآخر تن آور دَرخت بن کر فساد بَرپا کرے گا ۔ کیونکہ پھل ہمیشہ بیج  کی مثل  ہی حاصِل ہوتا ہے جیسا بیج بویا جائے گا ویسا ہی پھل  ملے گا اگر گیہوں( یعنی گندم) بوئیں گے تو گیہوں ملیں گے ، جَو  بوئیں گے تو جَو ملیں گے اور چاول بوئیں گے تو چاول ملیں گے ۔ اسی طرح بعض لوگوں کے دِلوں میں بَدبختی اور شرارت کا بیج ہوتا ہے یہ لوگ عِلمِ دِین حاصِل کربھی لیں تو اس بیج کی جَڑیں ان کے دِل میں مَضبوط  ہو چکی ہوتی ہیں یوں وہ لوگ فَساد پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں ۔ نیز جس خوش نصیب کے دِل میں شَرافت اور سعادت مندی کا بیج ہوتا ہے پھر وہ اس بیج کی عِلمِ دِین کے ذَریعے خوب آبیاری کرتا ہے اور  اس میں مَزید نِکھار پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ شخص ایک نیک اِنسان اور عالِمِ باعمل بن کر مُعاشرے میں اُبھر تا ہے ۔

اپنے وقت کی قدر کیجیے

ایسے کئی لوگ عالَمی مَدَنی مرکز فیضانِ مدینہ بابُ المدینہ ( کراچی) میں اِعتکاف کے لیے  آتے ہیں جن کا اپنی اِصلاح کے حوالے سے کوئی ذہن نہیں ہوتا تو وہ اپنے دوستوں کے ساتھ گروپ بناکر فُضُول باتوں میں مَشغول ہوتے ہیں ۔ اگر کوئی دوست  باہر سے کباب سموسے لے آئے تو وہ کھانے میں اپنا وقت بَرباد کر رہے ہوتے ہیں ۔ بعض تو مَدَنی مذاکرے تک میں شِرکت نہیں کرتے حالانکہ مَدَنی مذاکرہ اِعتکاف میں سب سے اہم سِلسلہ ہوتا ہے ۔ ان کے کانوں تک مَدَنی مذاکرے کی آواز ضَرور پہنچتی ہے مگر دِل میں نہیں اُترتی کیونکہ یہ سننے کے لیے بیٹھے ہی نہیں ہوتے تو اس کی بَرکتوں سے بھی محروم ہو جاتے ہیں ۔ ہاں! جو لوگ مسجد کے اندر بیٹھ کر توجہ سے مَدَنی مذاکرہ سننے کی سعادت حاصِل کرتے ہیں تو یقیناً اُن کے دِل پر بھی اَثر ہوتا ہے اور وہ  ڈھیروں بَرکتیں اپنے دامن میں سمیٹ لیتے ہیں ۔ لہٰذا معتکفین کو چاہیے کہ وہ اپنے وقت کی قَدر کرتے ہوئے اسے فُضُولیات میں ضائع کرنے کے بجائے عِلمِ دِین حاصِل کرنے کی کوشش کریں ۔

سارا سال رَمَضانُ المبارک کا اِنتظار

رَمَضانُ المبارک کی آمد میں ابھی کچھ ماہ باقی ہیں لہٰذا جس سے ہوسکے وہ نیت کر لے کہ اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  عالَمی مَدَنی مرکز فیضانِ مدینہ بابُ المدینہ ( کراچی) میں پورے ماہِ رَمَضان کا اِعتکاف کروں گا ۔ عالَمی مَدَنی مرکز فیضانِ مدینہ میں اِعتکاف کا نہایت خوبصورت ماحول ہوتا ہے لہٰذا حتَّی الامکان فیضانِ مدینہ میں ہی اِعتکاف کرنے کی کوشش کیجیے ، ورنہ اپنے اپنے شہروں اورمُلکوں میں جہاں دعوتِ اسلامی کے تحت اِعتکاف کروایا جاتاہے وہاں اِعتکاف کرنے کی تَرکیب بنائیے اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  بے شمار فَوائد و بَرکات نصیب ہوں گے ۔ اگر ایک ماہ کا اِعتکاف کرنا ممکن نہ ہو تو دَس دِن کے اِعتکاف کی تَرکیب کیجیے اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو اِعتکاف میں آنا جانا ہی کرلیجیے مثلاً کسی کو نوکری پر جانا ہے تو وہ جائے اور اپنا کام پورا کرکے واپس آجائے اور جہاں اِعتکاف ہو رہا ہے وہیں رہے  گھر نہ جائے  بلکہ نوکری کے بعد سارا وقت اِعتکاف والوں کے ساتھ ہی گزارے ان کی صحبت اِختیار کرے ایسا کرنے سے بھی کافی کچھ حاصِل ہوجائے گا ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ  ہمیں سارا سال رَمَضانُ المبارک کا اِنتظار رہتا ہے بلکہ ہم تو سارا سال یہ دُعا مانگتے ہیں ” اَللّٰہُمَّ بَلِّغْنَا رَمَضَانَ بِصِحَّۃٍ وَّ عَافِیَۃ یعنی اے اللہ! ہمىں صحت و عافىت کے ساتھ ماہِ رمَضان سے مِلادے ۔  “رَمَضانُ المبارک کی بَرکتوں کے بھی کیا کہنے ! رَمَضانُ المبارک کی فضاؤں میں جو کیف و سُرور ہوتا ہے وہ دِیگر اَیّام میں نہیں پایا جاتا جیسے ہی رَمَضانُ المبارک کا چاند نظر آتا ہے تو دِل پر ایک عجیب کیفیت طاری ہوجاتی ہے اور جیسے ہی عید کا چاند نظر آتا ہے دِل غم میں ڈُوب جاتا ہے کہ ہائے افسوس! رَمَضان کا بابرکت  اور نہایت عظمت و شان والا مہینا ہم سے رُخصت ہوگیا ، وہ سب کچھ چلا گیا جو رَمَضان کی وجہ سے ہمیں نصیب ہوا تھا ۔ اللہ پاک ہمیں صحت و عافیت کے ساتھ بار بار رَمَضانُ المبارک  کا مہینا نصیب فرمائے ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم  

 



[1]    حضرتِ سیِّدُنا وَہب بِن مُنَبِّہ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : عِلم کی مِثال تو بارِش کے اُس پانی کی طرح ہے جو آسمان سے صاف و شَفَّاف اورمیٹھا نازِل ہوتا ہے اور دَرخت اُس کواپنی شاخوں کے ذَریعے جَذب کر لیتے ہیں ۔ اب اگر دَرخت کَڑوا ہوتا ہے تو بارش کا پانی اُس کی کَڑواہٹ میں اِضافہ کرتا ہے اور اگر وہ دَرخت میٹھا ہوتا ہے تو اُس کی مِٹھاس میں اِضافہ کرتا ہے بس یونہی عِلم بذاتِ خود تو فائدے کا باعِث ہے مگر جب خواہشاتِ نفس میں گِرفتار اِنسان اِسے حاصِل کرتا ہے تو یہ عِلم اُس کے تکبُّر میں مبتلا  ہونے کا سبب بن جاتا ہے اور جب شریفُ النفس اِنسان کویہ عِلم حاصِل ہوتا ہے تویہ اُس کی شَرافت ، عبادت ، خوف و خَشِیَّت اور پرہیزگاری میں اِضافہ کرتا ہے ۔ ( حدیقة ندیة ، المبحث الثالث فی اسباب الکبر والتکبر ، ۲ / ۵۱۲ دار الکتب العلمیة بیروت)



Total Pages: 13

Go To