Book Name:Aghwa Se Hifazat Kay Aurad

چاہیے کہ  وہ محلے میں عشقِ رَسول کی خوشبوئیں پھیلائے  یہ بالکل دُرُست بات ہے کہ امام اگر عاشقِ رَسول ہو تو اس کے ذَریعے محلے کے لوگوں میں عشقِ رَسول بڑھتا ہے ۔ اس کا یوں اندازہ کیجیے کہ ہمارے گھر والے اولڈ سٹی ایریا بابُ المدینہ( کراچی) کے ایک علاقے گئو گلی میں رہائش پزیر ہو گئے اس وقت میری عمر صرف چھ ماہ تھی ۔ اس محلے میں عاشقانِ رَسول کی مسجد تھی ، اس مسجد میں بارھویں کے 12 ، مُحَرَّمُ الْحَرَام میں  10 اور رَجَبُ الْمُرَجَّب میں خواجہ غریب نواز رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کی چھٹی کے چھ وعظ ہوا کرتے تھے ۔ نعت خواں نعتیں پڑھتے ، صلاۃ و سلام ہوتا بلکہ امام صاحب خود بھی  صلاۃ و سلام پڑھا کرتے تھے ۔ پھر محفل کے اِختتام پر شیرینی تقسیم کی جاتی تو  ہم دوڑ کر لائن بنالیتے تھے ۔ شیرینی میں عام طور بسکٹ یا بوندیاں تقسیم ہوتیں ، اگر بڑی رات کی محفل ہوتی تو اس میں کیک بانٹے جاتے تھے ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ  جب سے ہوش سنبھالا صلاۃ و سلام کی آوازیں کانوں میں رَس گھولتی رہیں نیز مَحافل سے ملنے والی شیرینی سے ایسی مٹھاس نصیب ہوئی کہ اللہ پاک کے کرم سے ہمارے عقیدے بھی میٹھے میٹھے ہوگئے اور اب مجھے لاکھوں عاشقانِ رَسول کی صُحبت میسر ہے ۔

یہ سب اس وجہ سے ہوا کہ ہمارے علاقے میں عاشقانِ رَسول کی مسجد تھی اور میرے بڑے بھائی عبد الغنی   مَرحوم جن کی ۱۵مُحَرَّمُ الْحَرَام کو بَرسی  ہوتی ہے وہ مجھے نمازِ فجر کے لیے مسجد لے کر جاتے تھے یوں ہی ہمارا بقیہ نمازیں پڑھنے کا بھی معمول تھا ۔ میں نے جب سے ہوش سنبھالا مسجد کا ہی رُخ کیا اور خوش قسمتی سے مسجد بھی یَارَسُوْلَ اللہ  کہنے والوں کی ملی جس میں سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے اس اَنداز میں اِستغاثہ کیا جاتا :  ” چمک تجھ سے پاتے ہیں سب پانے والے  “ ہرسال اس مسجد میں جَشنِ عید میلادُ النَّبی کے موقع پر مُوئے مبارک کی زیارت کروائی جاتی  تھی ۔ اگر خُدا نخواستہ کسی اور کی مسجد ہوتی اور یہ سب ماحول مُیَسَّر نہ آتا ، وہاں کا امام عاشقِ رَسول نہ ہوتا تو نہ جانے کیا معاملہ ہوجاتا ۔

یاد رَکھیے ! یہ دور بہت زیادہ فتنوں کا دور ہے اس میں اپنے اور اپنے گھر والوں کے عَقائد و  نظریات کی حِفاظت کی کوشش کیجیے ۔

لباسِ خضر میں ہزاروں راہ زن پھرتے ہیں

اگر جینے کی تمنا ہے تو کچھ پہچان پیدا کر

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!امام  اپنے محلے کا بے تاج بادشاہ ہوتا ہے لہٰذا  جو اسلامی بھائی اِمامت کورس کر سکتے ہیں انھیں چاہیے کہ  وہ اِمامت کورس کریں ، نیز جن اسلامی بھائیوں میں 14اکتوبر 2018 بروز اتوار کو شروع ہونے والے معلمِ امامت کورس میں داخلہ لینے کی شرائط پائی جائیں( یعنی وہ  جامعۃ المدینہ سے فارغ التحصیل ہوں یا پھر انہوں نے  تجوید و قراءت سیکھی ہوئی ہو) تو یہ اس کورس میں داخلہ لیں ۔ امامت کورس کرنے والے اسلامی بھائیوں کو امامت کے مَسائل سِکھائے جائیں گے ۔ جو اسلامی بھائی پہلے  سے ہی ان مَسائل سے آگاہ ہوئے تو ان کے مَسائل مَزید پختہ ہو جائیں گے ۔ گویا اِمامت کورس میں وہ سب کچھ سکھایا جائے گا جو ایک امام کو آنا چاہیے ۔ اِمامت کورس مکمل کرکے اچھی اچھی نیتوں کے ساتھ  جب یہ اسلامی بھائی اِمامت کے لیے کسی مسجد میں اپنی خِدمات سر انجام دیں گے تو مدینہ مدینہ ( یعنی بہت اچھا ) ہو جائے گا ، ان کے حُسنِ اَخلاق کے باعِث محلے کی بڑی تعداد اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ خوش عقیدہ ہو جائے گی ۔

اجتماعی اِعتکاف کے فوائد و  بَرکات

سُوال : جو اسلامی بھائی اِعتکاف کرنے کے بعد مَدَنی ماحول سے دُور ہو جاتے ہیں انھیں دوبارہ مَدَنی ماحول میں کیسے لایا جائے ؟ ( عالمی مَدَنی مرکز میں موجود ایک اسلامی بھائی کا سُوال)

جواب : اِعتکاف کرنے کے بعد سارے معتکفین مَدَنی ماحول سے دُور ہو جاتے ہوں ایسی  بات نہیں ۔ اگر ایسا ہوتا تو آج ہمیں یہ بہاریں نظر نہ آتیں ۔ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول  سے وابستہ اسلامی بھائیوں کی کثیر تعداد اِعتکاف کی وجہ سے ہی مَدَنی ماحول میں آئی ہے ۔ دَعوتِ اِسلامی کے مُفتی فضیل رضا ( دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ) کے دعوت ِاسلامی سے وابستہ ہونے کا سبب  بھی اِعتکاف ہی بنا ، انہوں نے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہونے کا واقعہ خود بتایا تھا کہ یہ پہلے مدرسۃُ المدینہ برائے بالغان میں پڑھنے آتے تھے پھر انہوں نے دعوتِ اسلامی کے عالَمی مَدَنی مَرکز فیضانِ مدینہ بابُ المدینہ ( کراچی) میں ہونے والے  اِجتماعی اِعتکاف میں شِرکت کی ۔ اِس اِعتکاف کی بَرکت سے ان پر ایسا رنگ چڑھا کہ انہوں نے دَرسِ نظامی( یعنی عالِم کورس) شروع کر دیا اور آج اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ دعوتِ اسلامی کے قابل ِ فخر  مفتی ہیں بلکہ مفتیِ اسلام بن چکے ہیں ۔ اِسی طرح دعوتِ اسلامی کے کئی مبلغین اور ذِمَّہ داران ہوں گے جنھوں نے اِعتکاف کی وجہ سے مَدَنی ماحول کو اپنایا ہوگا ، ممکن ہے کہ کئی اَراکینِ شُوریٰ بھی ایسے ہوں جو اِعتکاف کی بَرکت سے دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول  سے وابستہ ہوئے ہوں ۔

 نگرانِ شوریٰ حاجی ابو حامد  محمد عمران بھی اِعتکاف ہی کی وجہ سے مَدَنی ماحول میں آئے تھے ۔ اعتکاف کرنے سے پہلے انہوں نے مَدَنی ماحول میں آنا جانا شروع کر دیا تھا جس کی وجہ سے ان پر کچھ نہ کچھ  اثر ہوا ، پھر جب انہوں نے اِعتکاف کیا توان کی دُنیا ہی بدل کر رہ گئی ۔  یہ اپنے اس اِعتکاف کا ماحول خود بیان کرتے ہیں کہ ” جب میں اِعتکاف میں بیٹھا تو میرے دوست مجھ سے ملنے آتے تھے چونکہ میں خود بھی  مذاق مسخری کا عادی تھا تو وہ مجھے بولتے کہ یہ سارے ڈرامے چھوڑ ۔



Total Pages: 13

Go To