Book Name:Aghwa Se Hifazat Kay Aurad

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ط

اِغوا سے حفاظت کے اَوراد ( [1])

شیطان لاکھ سُستی دِلائے یہ رِسالہ( ۴۵صَفحات) مکمل پڑھ لیجیے اِنْ  شَآءَ اللّٰہ  عَزَّ وَجَلَّ   معلومات کا اَنمول خزانہ  ہاتھ آئے  گا ۔

دُرُود شریف کی فضیلت

فرمانِ مصطفے ٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ہے : مسلمان جب تک مجھ پر دُرُودِ پاک پڑھتا رہتا ہے ، فرشتے اس پر رَحمتىں بھىجتے رہتے ہىں ، اب بندے کى مَرضى ہے کم پڑھے ىا زىادہ ۔ ( [2])     

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                                    صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

صَبر کا ذہن کیسے بنایا جائے ؟

سُوال : بعض لوگ اپنے دُکھڑے سُنا رہے ہوتے ہیں لیکن جب انہیں کوئى صَبر کى تَلقىن کرے تو کہتے ہىں :  ” بس اب صَبر ہی کر رہے ہیں ۔  “ تو کیا یہ صَبر کہلائے گا؟ نیز صَبر کا ذہن کیسے بنایا جائے ؟

جواب : حدىثِ پاک مىں فرمایا گیا کہ صبر اَوَّل صَدمے پر ہوتا ہے ۔ ( [3]) بعد مىں تو صَبر آ ہى جاتا ہے لہٰذا  زبان سے اپنے دُکھڑے  سُنانا اور پھر کہنا کہ بس اب صَبر ہی کر رہے ہیں تو یہ دُرُست نہیں ۔ یوں ہی بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ جب انہیں صَبر کرنے کا کہا جائے تو کہتے ہیں :  ” سب صَبر کا ہى کہتے ہىں لیکن آپ ہمارے مسئلے کا کوئی حَل بھی کر دیں ۔  “

صَبر کا ذہن بنانے کے لیے کربلا والوں کی مصیبت کو یاد کیا جائے کہ ان پر کیسے مصیبتوں کے پہاڑ ٹوٹے لیکن انہوں نے صَبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا ۔ بعض لوگوں کو جب کربلا والوں کی مِثال دے کر صَبر کی تلقین کی جاتی ہے تو آگے سے جواب ملتا ہے کہ  ” ہم ان جىسے نہیں جو صَدمہ بَرداشت کر سکیں ۔  “تو ایسوں کو یوں سمجھایا جائے  کہ اس بات میں  کوئی شک نہیں کہ ہم ان جیسے نہیں لیکن قرآن و اَحادیث میں بیان کردہ صَبر کے فَضائل اور تَرغیب اُن نُفُوسِ قدسِیَّہ کے ساتھ خاص تو نہیں بلکہ جو بھی صَبر کرے گا اُسے اَجر ملے گا لہٰذا ہمیں بھی صَبر کر کے اَجرکمانے کی کوشش کرنی چاہیے ۔ صَبر کرنے والوں کے لیے فرمایا : )اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳)(( پ۲ ، البقرة : ۱۴۶) ترجمۂ کنزالایمان :  ” بیشک اللہ  صابروں کے ساتھ ہے ۔  “ تو اِس آیتِ مُبارَکہ میں اَنبیائے کِرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ  وَالسَّلَام یا صَحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی تخصیص نہیں کی گئی بلکہ جو بھی مسلمان صَبر کرے تو اللہ پاک  اس کے ساتھ ہے اور جس کے ساتھ اللہ  پاک ہو تو اس کى کیا ہی بات ہے ۔ اسے اِس مثال سے سمجھیے کہ اگر کسی شخص کو کسی پولیس افسر یا دُنیوی عُہدے دار کا ساتھ حاصِل ہو تو وہ اپنے آپ کو طاقتور تَصَوُّر کرتا ہے  تو جسے اللہ  پاک کا ساتھ مِل جائے تو اس مسلمان کی شان کیا ہو گی ۔ اللہ  کرے دِل میں اُتر جائے میری بات ۔

مصیبتیں دُور کرنے کے وَظائف

سُوال : پریشانیاں اور مصیبتیں دُور کرنے کے کچھ وَظائف بھی بتا دیجیے ۔

جواب : ( اس موقع پر رُکنِ شُوریٰ نے فرمایا کہ) شیخِ طریقت ، امىرِ اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے اپنى کُتُب و رَسائل مىں کچھ اَوراد و وَظائف لکھے ہىں ، ان مىں سے چند پیشِ خِدمت ہیں ، اللہ  پاک نے چاہا تو مَصائِب وآلام سے نجات ملے گی ۔  ”  یَا مُسَبِّبَ الْاَسْبَاب  “500 بار ، ( اوّل آخر دُرُود شریف 11 ، 11بار) بعد نَمازِ عشا قبلہ رُو  باوُضو ننگے سر ایسی جگہ پڑھئے کہ سر اور آسمان کے دَرمیان کوئی چیز حائِل نہ ہو ، یہاں تک کہ سر پر ٹوپی بھی نہ ہو ۔ اسلامی بہنیں ایسی جگہ پڑھیں جہاں کسی اَجنبی یعنی غیرمَحرم کی نظر نہ پڑے ۔ ( [4]) ( امیرِاہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے مزید وضاحت کرتے ہوئے اِرشاد فرمایا : ) اگر گھر کی بالکونى ، چھت یا صحن مىں کھلا آسمان نظر آرہا ہو تو وہاں بھى یہ وَظیفہ  پڑھ سکتے ہىں ، اَلبتہ اسلامى بہنوں کو یہ اِحتیاط کرنی ہو گی کہ بالکونی میں جاتے وقت سامنے والے گھر والوں کی نظر نہ پڑے ۔

 



[1]    یہ رِسالہ ۱۹ مُحَرَّمُ الْحَرام ۱۴۴۰؁ ھ بمطابق 29 ستمبر 2018 کو عالمی مَدَنی مَرکز فیضانِ مدینہ بابُ المدینہ ( کراچی) میں ہونے والے مَدَنی مذاکرے کا تحریری گلدستہ ہے ، جسے اَلْمَدِیْنَۃُ الْعِلْمِیَّۃ کے شعبے ’’ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ‘‘نے مُرتَّب کیا ہے ۔ ( شعبہ فیضانِ  مَدَنی مذاکرہ)    

[2]    اِبن ماجه ، کتاب اقامة الصلوة  و السنة  فیھا ، باب الصلٰوة  علی النبی ، ۱ / ۴۹۰ ، حدیث : ۹۰۷  دار المعرفة  بیروت

[3]    اِبن ماجه ، کتاب الجنائز ، باب  ما جاء  فی الصبر علی المصيبة ، ۲ / ۲۶۵ ، حدیث : ۲۵۹۶ 

[4]    خود کشی کا علاج ، ص۸۰ مکتبۃالمدینہ باب المدینہ کراچی



Total Pages: 13

Go To