Book Name:Saman-e-Bakhsish

 

خدا نے غیب تمہارے لیے حضور کیا

جو راز دل میں چھپے ہوں تمہیں خبر ہوجائے

وہ آئیں تیرگی ہو دور میرے گھر بھر کی

شبِ فراق کی یارب کبھی سحر ہوجائے

حجاب اٹھیں جو مرقد سے ان کے روضہ تک

اندھیرا قبر کا مٹ جائے دوپہر ہوجائے

ترے حبیب کے دشمن ہیںاور خود تیرے

ہر ایک ان میں کا فِی النَّارِوَالسَّقَر ہوجائے

کنارِ عاطفتِ ہاوِیہ میں اِک اِک جائے

جو ماں کی گود میں بیٹھے تو خوش پسر ہوجائے

سراپا آگ کے دریا میں ڈوب جائیں یہ

اگر حمیم کا دریا کمر کمر ہوجائے

چمک اُٹھے مری قسمت کا تارا اے نوریؔ

اگر وہ غیرت ِ خورشید میرے گھر ہوجائے

 

فوجِ غم کی برابر چڑھائی ہے

فوجِ غم کی برابر چڑھائی ہے

دافعِ غم تمہاری دُہائی ہے

عمر کھیلوں میں ہم نے گنوائی ہے

عمر بھر کی یہی تو کمائی ہے

تم نے کب بات کوئی نَبَرائی ہے

تم سے جو آرزو کی بَر آئی ہے

تم سے ہر دَم اُمیدِ بھلائی ہے

مَیٹ دیجئے جو ہم میں بُرائی ہے

تم نے کب آنکھ ہم کو دکھائی ہے

تم نے کب آنکھ ہم سے پھرائی ہے

تم کو عالم کا مالک کیا اس نے

 



Total Pages: 123

Go To