Book Name:Saman-e-Bakhsish

ہمارے دل کو تو بھایا ہے طیبہ ہی زاہد

تمہیں ہے مکہ تو ہوگا سِوا مَدینے سے

چلے جو طیبہ سے مسلم تو خلد میں پہنچے

کہ سیدھا خلد کا ہے راستہ مَدینے سے

تم ایک آن میں آئے گئے تمہارے لیے

دو گام بھی نہیں عرشِ علا مَدینے سے

تمہارے قدموں پہ سر صدقے جاں فدا ہوجائے

نہ لائے پھر مجھے میرا خدا مَدینے سے

ترے حبیب کا پیارا چمن کیا برباد

الٰہی نکلے یہ نجدی بلا مَدینے سے

ترے نصیب کا نوریؔ ملے گا تجھ کو بھی

لے آئے حصہ یہ شاہ و گدا مَدینے سے

 

نگاہِ مہر جو اس مہر کی اِدھر ہوجائے

نگاہِ مہر جو اس مہر کی اِدھر ہوجائے

گنہ کے داغ مٹیں دِل مرا قمر ہوجائے

جو قلب تیرہ پہ تیری کبھی نظر ہوجائے

تو ایک نور کا بقعہ وہ سر بسر ہوجائے

ہماری کشتِ اَمَل میں کبھی تو پھل آئے

کبھی تو شجرئہ امید بار وَر ہوجائے

کبھی تو ایسا ہو یارب وہ دَر ہو اور یہ سر

کبھی تو ان کی گلی میں مرا گزر ہوجائے

ہمارا سر ہو خدایا حبیب کا در ہو

ہماری عمر الٰہی یونہی بسر ہوجائے

جو  سچے  دل  سے  کہے    کوئی   یَارَسُوْلَ   اللّٰہ

مصیبتیں بھی ٹلیں ہر مہم بھی سر ہوجائے

مری مصیبتوں کا سلسلہ ابھی کٹ جائے

اِشارہ اَبروئے خم دار کا اگر ہوجائے

 



Total Pages: 123

Go To