Book Name:Saman-e-Bakhsish

اس ادا سے قضا ہم ادا کر چلے

جب قمر اِک اِشارے سے ٹکڑے کیا

بولے کافر وہ جادو سا کیا کر چلے

معجزوں کو وہ جادو بتاتے رہے

آپ اپنے پہ ظالم جفا کر چلے

جن کے دعوے تھے ہم ہی ہیں اَہلِ زباں

سن کے قرآں زبانیں دَبا کر چلے

کَیْ صحابی تھے پر تھی یہ ہیبتِ حق

گردنیں سارے کافر جھکا کر چلے

 

اور گردن َکشی کی تو مارے گئے

سب نے جانا کہ ظالم خطا کر چلے

جن کو اپنا نہیں غم ہمارے لیے

دوڑے جھپٹے وہ پاؤں اُٹھا کر چلے

ابھی میزان پر تھے ابھی پل پہ ہیں

پل میں گرتے بچائے بچا کر چلے

سرِ کوثر سنا شور پیاسوں کا جب

پہنچے شربت پلایا پلا کر چلے

کسی جانب سے آئیں ندائیں حضور

مجرموں کی رِہائی کا کیا کر چلے

دَم میں پہنچے وہ حکمِ رِہائی دیا

ان کو دوزخ سے پھیرا پھرا کر چلے

داغِ دِل ہم نے نوریؔ دِکھا ہی دیا

 دردِ دِل کا فسانہ سنا کر چلے

 

پیام لے کے جو آئی صبا مدینے سے

پیام لے کے جو آئی صبا مَدینے سے

مریضِ عشق کی لائی دوا مَدینے سے

سنو تو غور سے آئی صدا مَدینے سے

قریں ہے رحمت و فضلِ خدا مَدینے سے

 



Total Pages: 123

Go To