Book Name:Saman-e-Bakhsish

بلکہ جو آپ کے پردہ میں عطا ہوتا ہے

تیرا  جلوہ  نہیں  اللّٰہ  کا  جلوہ  ہے   وہ

تیری صورت سے خدا جلوہ نما ہوتا ہے

تو ہے آئینۂ ذاتِ اَحدِی اے پیارے

یوں اسی کا ہے وہ جلوہ جو ترا ہوتا ہے

دَاغِ دِل میں جو مزہ پایا ہے نوریؔ تم نے

ایسا دنیا کی کسی شے میں مزا ہوتا ہے

 

کون کہتا ہے آنکھیں چرا  کر چلے

کون کہتا ہے آنکھیں چرا کر چلے

کب کسی سے نگاہیں بچا کر چلے

کون اُن سے نگاہیں لڑا کر چلے

کس کی طاقت جو آنکھیں مِلا کر چلے

وہ حسیں کیا جو فتنے اُٹھا کر چلے

ہاں حسیں تم ہو فتنے مٹا کر چلے

ان کے کوچہ میں منگتا صدا کر چلے

رحمتِ حق ہو ہر دم دُعا کر چلے

قصۂ غم سنایا سنا کر چلے

جانِ عیسیٰ دَوا دو دُعا کر چلے

رب کے بندوں کو رب سے ملا کر چلے

جلوئہ حق وہ ہم کو دکھا کر چلے

 

مَنْ   رَّاٰنِیْ   رَاَ   الْحَقّ    سنا  کر  چلے

میرا جلوہ ہے حق کا جتا کر چلے

جز بشر اور کیا دیکھیں خیرہ نظر

اَیُّکُمْ   مِثْلِی  گو    وہ    سنا  کر   چلے

جگمگا ڈالیں گلیاں جدھر آئے وہ

جب چلے وہ تو کوچے بسا کر چلے

کیسا تاریک دنیا کو چمکا دیا

 



Total Pages: 123

Go To